بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / واٹس ایپ کال سکینڈلنے ملک میں بھونچال

واٹس ایپ کال سکینڈلنے ملک میں بھونچال


اسلام آباد۔ واٹس ایپ کال سکینڈلز نے ملک میں بھونچال پیدا کر دیا ہے اور اپنے اداروں کی شفافیت اور کارکردگی پر بڑے سوالات اٹھا دیئے ہیں اس کے علاوہ اس سکینڈلز سے واضح ہو گی اہے کہ ملک کا کوئی ایسا ادارہ نہیں جس کے افسران اہلکاروں اور ممبران کے ٹیلی فون کالز ٹیپ نہیں ہوتی۔

ایک مؤقر قومی اخبار نے خصوصی ذرائع سے لکھا ہے کہ چیئر مین سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ظفر حجازی کو ایک واٹس ایپ کال کے ذریعے بلال رسول کا نام جے آئی ٹی کے لئے عدالت ضلعی لیجانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان کے سویلین خفیہ ادارے کے سربراہ نے ایک پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارا ادارہ تمام اہم بڑے اداروں کے افراد کے ٹیلی فون ٹیپ کرتا ہے جس کا مقصد قومی سلامتی قرار دیا گیا تھا۔

واٹس ایپ سکینڈلز کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار سمیت کوئی بھی اہم شخص ایسا نہیں جس کے ٹیلی فون ٹیپ نہ ہوتے ہوں۔ ایک موقر قومی اخبار کے صحافی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ظفر حجازی نے ایک لیٹر کے ذریعے رجسٹرار سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ انہیں واٹس ایپ پر بلال رسول کو جے آئی ٹی میں شامل کرنے کی ہدایات کی گئی ہے اور ہدایت کرنے والے نے اپنا تعلق رجسٹرار سپریم کورٹ سے منسلک کیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے پانامہ کیس فیصلے میں کہا تھا کہ وہ ملک کے دیانتدار، شفاف اور قابل کردار کے اعلیٰ افسران پر مشتمل جے آئی ٹی بنائے گی جو وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کی کرپشن بارے تحقیقات کرے گی۔

یہ حق صرف اور صرف سپریم کورٹ کو حاصل ہے کہ وہ کسی بھی سرکاری ادارے کے کسی بھی ملازمت کو یہ فریضہ سونپ سکتی ہیں لیکن حکومت وقت نے عدالت عظمیٰ کی طرف سے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی کو متنازعہ بنانے کی کوششیں کرنے میں مصروف جب جے آئی ٹی کے ممبران نواز شریف کے خاندان کی تلاشی لینے میں مصروف ہیں اور ایسی جے آئی ٹی کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے جس کی سرپرسٹی خود سپریم کورٹ کرنے میں مصروف ہے

ان حالات میں تمام قومی اداروں کو کرپشن کے خاتمہ کے لئے کی جانے والی کوششوں کو مضبوط کرنا چاہیئے کیونکہ یہ ایک قومی ضرورت ہے۔ حکومت کے ایسے ادارے جو اعلیٰ اختیارات کے حامل افراد کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے میں مصروف ہیں انہیں بھی قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیئے اور ذاتی مفادات کو پس پشٹ ڈالنا ہو گا تاکہ پاکستان سے کرپشن کے ناسور کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کیا جا سکتے