بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ٹیکس کی بجائے وسائل بڑھانے کی ہدایت

ٹیکس کی بجائے وسائل بڑھانے کی ہدایت


پشاور ۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے نئے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کی بجائے صوبے کے ٹیکس بیس اور وسائل میں اضافے اور اس مقصد کیلئے حقیقت پسندانہ اقدامات پر زور دیا ہے انہوں نے ہر ایسے ٹیکس کی سختی سے ممانعت کی ہے جس سے عوامی فلاح و بہبود متاثر ہو ،مہنگائی کا امکان ہو یا اُن پر کسی بھی حوالے سے بوجھ میں اضافہ ہو۔

انہوں نے وفاق اور صوبائی سطح پر دوہرے ٹیکسوں سے بھی اجتناب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی مد میں صرف ایک ٹیکس ہونا چاہیئے تاکہ عوام کے ساتھ ساتھ سماجی شعبے پوری یکسوئی کے ساتھ ترقی کرسکیں اور لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنایا جا سکے ۔

وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں نئے مالی سال کیلئے وسائل کے انتظامات اور فنڈز میں اضافے سے متعلق اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ، خزانہ ، ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن ، معدنیات ، ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور شعبہ جاتی سربراہوں نے شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ نے حکام پر زور دیا کہ پن بجلی ، تیل و گیس اور تمباکو کی پیداوار پر صوبائی محاصل او ربقایا جات کے بروقت حصول کیلئے وفاقی حکومت سے دو ٹوک بات چیت کی جائے جبکہ کسی بھی مد میں مالی حقوق میں تاخیر کی صورت میں نیپرا ، مشترکہ مفادات کونسل اور سپریم کورٹ سمیت متعلقہ فورم سے انصاف کیلئے بھی بلا تاخیر رجوع کیا جائے ۔

انہوں نے صوبے کے تمام پیداواری شعبوں اور محکموں کی کارکردگی زیادہ فعال بنانے کیلئے درکار تمام خالی آسامیاں بھی اگلے دو تین ماہ میں پر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان محکموں اور شعبہ جات میں اعلیٰ و زیریں افسران اور ماتحت عملے کی ہزاروں آسامیاں خالی پڑی رہی ہیں مگر انہیں مختلف وجوہات کے سبب پر نہیں کیا گیا ۔

انہوں نے ہدایت کی کہ ایسی تمام آسامیاں فوری طور پر میڈیا میں مشتہر کی جائیں تاکہ ان پر میرٹ کے مطابق شفاف بنیادوں پر اہل اُمیدواروں کی تعیناتیاں کی جا سکیں ۔پرویز خٹک نے اسلام آباد اور ملک کے دوسرے صوبوں میں رجسٹرڈ گاڑیوں پر خیبرپختونخوا میں بھی ٹیکس لگانے اور دوبارہ رجسٹریشن کی تجویز سے عدم اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے صوبوں میں ٹیکس دینے والے گاڑی مالکان سے یہاں دوبارہ ٹیکس لینا کسی صورت قرینِ انصاف نہیں تاہم چونکہ یہ گاڑیاں صوبے کا انفراسٹرکچر استعمال کرتی ہیں اسلئے مسئلے کے حل کیلئے دوسرے صوبوں سے رجوع کے علاوہ سائنسی بنیادوں پر لائحہ عمل اپنانا ضروری ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ٹیکس بیس بڑھانے کیلئے زمینی حقائق کے مطا بق ایسے اقدامات ہونے چاہئیں جن سے صوبے کے وسائل اور پیداوار میں اضافہ ہو اور تمام سماجی شعبوں کو ترقی کے زیادہ سے زیادہ مواقع ملیں ۔ انہوں نے نئے مالی سال میں ٹیکس اہداف کا سو فیصد حصول یقینی بنانے پر بھی زور دیا ۔