بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / کرک کے ترقیاتی فنڈزروکنے کے احکامات کالعدم

کرک کے ترقیاتی فنڈزروکنے کے احکامات کالعدم

پشاور۔پشاورہائی کورٹ نے لوکل گورنمنٹ کمیشن خیبرپختونخوا کی جانب سے کرک کے ترقیاتی فنڈزروکنے کے احکامات کالعدم قرار دے دئیے ہیں اورقرار دیا ہے کہ لوکل گورنمنٹ کمیشن کی جانب سے مرتب کردہ سفارشات 24گھنٹوں کے اندر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کوپیش کئے جائیں جس پروہ سات یوم کے اندرفیصلہ دیں عدالت عالیہ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اعجازانورپرمشتمل دورکنی بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روز شمائل احمدبٹ ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائرضلع ناظم کرک ڈاکٹرعمردراز اورضلع کونسل کے رکن انتخاب عالم کی رٹ درخواستوں پر جاری کئے رٹ درخواست میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ لوکل گورنمنٹ کمیشن نے ضلع کونسل کرک کے قائد حزب اختلاف مولانا میرزقیم کی درخواست پر ضلع کونسل کے بجٹ کاسالانہ ترقیاتی پروگرام معطل کردیاتھا اورڈی سی کرک کو ہدایت کی تھی کہ وہ سالانہ ترقیاتی منصوبوں پر تاحکم ثانی عملدرآمد روک دیں ۔

حالانکہ لوکل گورنمنٹ کمیشن کے پاس اس قسم کاکوئی ا ختیار نہیں قانون کے تحت اگرکوئی شکایت کسی ضلع ناظم یامتعلقہ ممبر کے خلاف ہوتو لوکل گورنمنٹ کمیشن انکوائری کرکے وزیراعلی کو باقاعدہ طورپراپنی سفارشات ارسال کرتی ہے پھر اس پرفیصلے کااختیار وزیراعلی کے پاس ہے علاوہ ازیں مالی امورسے متعلق معاملات کی سماعت کااختیار فنانس کمیشن کے پاس ہے مگردرخواست گذار کوسنے بغیرلوکل گورنمنٹ کمیشن نے اختیارات سے تجاوز کی اورپورے ضلع کاترقیاتی منصوبوں سے متعلق بجٹ معطل کردیا حالانکہ اگریہ حکم امتناعی اس طرح جاری رہی تو سالانہ ترقیاتی پروگرام کابجٹ لیپس ہوجاتا چونکہ پشاورہائی کورٹ پہلے ہی لوکل گورنمنٹ کمیشن کے حکم کو معطل کرچکی ہے اوروہاں ترقیاتی منصوبے جاری ہیں ۔

اس بناء لوکل گورنمنٹ کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے دوسری جانب ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل وقاراحمد نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق لوکل گورنمنٹ کمیشن صرف سفارشات وزیراعلی کو بھجواسکتی ہے اوروہی مجازاتھارٹی ہے حزب اختلاف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جن ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی تھی بجٹ میں وہ شامل نہ تھے اوران کی جگہ دوسرے منصوبے شامل کئے گئے ہیں اوریہ سب کچھ صوبائی حکومت کی ایماء پرکیاجارہا ہے عدالت نے دوطرفہ دلائل مکمل ہونے پر لوکل گورنمنٹ کمیشن خیبرپختونخوا کی جانب سے کرک کے ترقیاتی فنڈزروکنے کے احکامات کالعدم قرار دے دئیے ہیں اورقرار دیا ہے کہ لوکل گورنمنٹ کمیشن کی جانب سے مرتب کردہ سفارشات 24گھنٹوں کے اندر وزیراعلی خیبرپختونخوا کوپیش کئے جائیں جس پروہ سات یوم کے اندرفیصلہ دیں۔