بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری

خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری

خیبر پختونخوا کے وزیرِ خزانہ مظفر سید ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ صوبائی سرکاری مشینری چلانے میں تیزی لانے کیلئے سرکاری ملازمین کو مراعات دینا نا گزیر ہے جس کا مقتدر حلقوں کو شدت سے احساس ہے اس لئے ان کو آئندہ بجٹ میں دستیاب و سائل کے مطابق تنخواہوں کی مد میں اضافہ اور دیگر مراعات دینے کیلئے حکمت عملی کوحتمی شکل دینا آخری مراحل میں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بروزجمعرات پشاور میں سرکاری ملازمین کی مراعات کے حوالے سے محکمہ ایڈمنسٹریشن کے کمیٹی روم میں منعقدہ اجلاس ، محکمہ خزانہ کمیٹی روم میں بجٹ تیاریوں کوحتمی شکل دینے کیلئے منعقدہ اجلاس اور خیبر پختونخوا سیکرٹریٹ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل کے اراکین سے ملاقات کے دوران کیا جس میں تمام متعلقہ شعبوں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کیں ۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت سرکاری ملازمین کی معیارِ زندگی بہتر بنانے کیلئے تاریخی اقدامات کر رہے ہیں جو اس سے پہلے کسی دور حکومت میں نہیں ہوئے تھے۔

جس میں تنخواہوں میں وفاقی حکومت سے زیادہ اضافے، سرکاری ملازمین کی اپ گریڈیشن اور دیگر مراعات کی منظوری شامل ہیں جنہیں بتدریج بڑھا کر سیکرٹریٹ کے افسران کو بھی آئندہ بجٹ میں مراعات دینے کیلئے سنجیدگی سے غور وخوض جاری ہے تاکہ وہ سرکاری مشنری چلانے میں دل لگاکر کام مزید تیز کرے اور عوام کیلئے شروع کئے گئے میگا پراجیکٹس کی تکمیل بر وقت ممکن بنائی جا سکے ۔ اس طرح صوبہ خیبر پختونخوا پچھلی صوبائی حکومتوں کے مقابلے میں ایک مثالی صوبہ بنے گاجس پر آئندہ نسلیں بھی فخر محسوس کرینگی۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہیں مہنگائی کی شرح کے تناسب سے بڑھائی جائینگی جس سے سرکاری ملازمین ذہنی پریشانی سے آزاد ہو کر سرکاری نظام چلانےء میں اہم کر دار ادا کریں گے ۔

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین پورے صوبائی سسٹم کو چلاتے ہیں جن کو حالات کے مطابق مراعات سہولیات مہیا کریں گے اور امید ظاہر کی کہ سرکاری ملازمین بھی محنت، لگن اور دلجمعی کے ساتھ صوبے کی کارکردگی میں اپنا حصہ ڈال کر تاریخ رقم کریں گے۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو سرکاری گاڑیوں اور سرکاری رہائش گاہوں کے بدلے ان کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کی تجاویززیرِ غور ہیں جس سے ان کی ضروریات احسن طریقے سے پورا ہو سکیں اور غیر ضروری اخراجات بھی کنٹرول ہو کر خزانہ پر بوجھ کم ہونے میں معاون ثابت ہوسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں بہت جلد متعلقہ حکام سے منظوری کے بعد با ضابطہ اعلان بھی متوقع ہے ۔ اس کے علاوہ سرکاری نظام کو بہتر بنانے کیلئے دیگر تجاویز اور اُمور بھی زیرغور ہیں تاکہ ہمارا صوبہ پسماندگی سے نکل کر ملک کا ایک ترقی یافتہ اور خود کفیل صوبہ بن سکے۔