بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ہم نے ملک کو معاشی بحران سے نکالا ٗ اسحاق ڈار

ہم نے ملک کو معاشی بحران سے نکالا ٗ اسحاق ڈار


اسلام آباد۔وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بجٹ کی تیاری میں تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لیا گیا اور ان کی تجاویز کا جائزہ لیا گیا ‘ ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک معاشی بحران کا شکار ہوا ‘ 2013ء میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں ہو رہی تھیں ‘ مالی اصلاحات پر عمل کر کے ملک کو معاشی بحران سے نکالا ۔ وہ جمعرات کو اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ کل 11 ارب ڈالر کے ذخائر تھے۔ معاشی استحکام کے لئے ہم نے مشکل فیصلے کئے اور مالی اصلاحات پر عملدرآمد کر کے ملکی معیشت کو سنبھالا دیا ۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ حالیہ معاشی استحکام مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ بجٹ کی تیاری میں تمام متعلقہ فریقین کی تجاویز کا جائزہ لیا گیا ہے۔ متوازن بجٹ میں تمام شعبوں کو ضروری مراعات دی گئی ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ 4 سال میں معاشی شرح نمو 3 فیصد سے 5.28 فیصد تک لائے۔ 1999ء تک ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک توانائی بحران کا شکار ہوا۔ آئندہ کا ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4 ہزار ار روپے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 4 سال کی قلیل مدت میں مالیاتی خسارے کو 8.8 سے 4.1 تک لائے۔ تمام شعبوں کی شرح ترقی حوصلہ افزاء اعداد کو چھو رہی ہے۔

دہشت گردی کی جنگ اور امن و امان کے لئے ہر سال 90 سے 100 ارب روپے خرچ کر رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت نے ملکی چیلنجز کا ڈٹ کر سامنا کیا۔ انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 120 ارب روپے مختص کئے۔ زرعی شعبے کیلئے 351 ارب روپے کا پیکج دیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لئے متعلقہ بنک کردار ادا کریں۔ شرح سود ملکی تاریخ کی کم ترین سطح 5.75 فیصد تک لائے۔

پٹرولیم مصنوعات کی کم قیمتوں سے مجموعی طور پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ مشرق وسطیٰ میں بحران کے باوجود ترسیلات زر 19 ارب ڈالر کی سطح پر ہیں۔ وفاقی و زیر خزانہ نے کہاکہ موجودہ دور حکومت میں ملکی کرنسی کی قدر مستحکم ہوئی۔ پاکستا ن سٹاک ایکسچینج دنیاکی 5 ویں بڑی مارکیٹ ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کے مطابق 2050ء تک پاکستان 20 بڑی معاشی طاقتوں میں شامل ہو جائے گا۔ 2050ء تک پاکستان کو دنیا کی 20 بڑی معاشی طاقتوں میں شامل کرانا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن کو دعوت دیتا ہوں کہ ملکی معاشی ایجنڈے کیلئے متحد ہو جائیں۔