بریکنگ نیوز
Home / کالم / دنیا کے بدلتے روپ

دنیا کے بدلتے روپ


کیا کوئی سوچ بھی سکتا ہے کہ ایران اور طالبان آپس میں کسی دن شیر وشکر ہوجائیں گے؟ کیا کسی کے ذہن میں کبھی یہ خیال بھی آیا کہ ایران اور القاعدہ آپس میں قریب آجائیں گے؟ کیا کسی کا دل مان سکتا تھا کہ گلبدین جسے’’ کابل کا قصائی‘‘ کہا گیا ایک دن افغان حکومت کی ضرورت بن جائے گا؟ پر یہ سب کچھ ہوچکا اور یہ اس لئے ہوا کہ جس دور میں آج ہم جی رہے ہیں اسے پولیٹیکل سائنس کی زبان میں نیشن سٹیٹس کا دور کہتے ہیں دنیا کا ہر ملک آج کل کسی اور شے کو نہیں دیکھتا وہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کے مالی اور معاشی مفادات کا تحفظ کس قسم کی پالیسی میں مضمر ہے جس طرح سعودی عرب ہماری خاطر بھارت کی دشمنی مول لینے کو تیار نہیں ہوگا تو پھر ہم اسکی خاطر ایران کو کیوں ناراض کریں؟ اسی طرح اگر ایران ہماری خاطر بھارت سے قطع تعلق نہیں کرسکتا تو پھر ہم اس کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے سعودی عرب سے کیوں اپنے تعلقات خراب کریں، ایران ہمارا ہمسایہ ہے اور اس سے ہمارے گہرے تعلقات ہیں اسی طرح سعودی عرب بھی مذہبی لحاظ سے ہمارے لئے اہم ہے، اب یہ بات اور ہے کہ ان دو ممالک میں پرانی دشمنی ہے، عرب اور عجم والی بات ہے، گوکہ ان کا آپس میں مسلکی تنازعہ بھی ہے پر بنیادی طورپر ان کا آپس کا جھگڑا زیادہ تر قومی اور تاریخی نوعیت کا ہے، اس ملک کے تمام محب وطن لوگوں کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان‘ سعودی عرب اور ایران کے آپس میں تنازعے میں قطعاً کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے کہ جس سے ایران یا سعودی عرب کو کوئی اس قسم کا سگنل جائے کہ ہم ان میں سے کسی ملک کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال رہے ہیں، یہی وجہ تھی کہ اس ملک کے لوگ جنرل راحیل شریف کی سعودی عرب میں بعض اسلامی ممالک کی عسکری اتحاد کی فوج کی قیادت سنبھالنے کے خلاف تھے اب بھی کئی لوگ چاہتے ہیں کہ بہتر ہوگا کہ وہ ایک مرتبہ اپنے تئیں یہ کوشش ضرور کریں کہ ایران کو بھی اس اتحاد کا رکن بنالیا جائے۔

پرا یسا نہیں ہوتا توپھر بصورت دیگر اگر وہ رضاکارانہ طورپر اپنے موجودہ منصب سے فراغت پالیں تو بہتر ہوگا اس میں کوئی شک نہیں کہ یہودی ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کو اندر ہی اندر سے آپس میں لڑوا کر مروانا چاہتے ہیں، اب خدا سعودی عرب اور ایران دونوں کے حکمرانوں کو ہدایت دے کہ وہ یہودیوں کی ان چالوں کو سمجھیں، اغیار کا فائدہ اس میں ہے کہ عالم اسلام منقسم رہے، مسلمانوں کا اتحاد وہ کسی صورت میں بھی نہیں چاہتے، ہمارے فارن آفس میں سپر پاورز نے اپنی اپنی لابیاں بنا رکھی ہیں، ان میں بعض امریکہ کی کاسہ لیس ہیں تو بعض دوسری عالمی قوت کیلئے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتی ہیں، اس لئے ہمیشہ سے اس بات کی ضرورت رہتی ہے کہ ملک کا وزیر خارجہ ایسا شخص ہو کہ جس کی محب وطنی ضرب المثل ہو اور جو صرف ایسی خارجہ پالیسی تشکیل دے کہ جو قومی اور ملکی مفادات پر مبنی ہو، افسوس سے لکھنا پڑتا ہے کہ اس معاملے میں ہم کورے ثابت ہوئے ہیں، پاکستان کو کئی مسائل کا سامنا ہے اور اس میں ایک بڑا مسئلہ فرقہ واریت کا بھی ہے بھارت تو خیر روزاول سے ہمارا دشمن ہے افغانستان بھی اسی کے اشارے پر ناچتا رہا ہے اب ایران کے بھی تیوربدلے بدلے نظر آرہے ہیں، ہم کس کس محاذ پر لڑیں گے؟ اس موقع پر ملک میں ایک ایسے کل وقتی وزیر خارجہ کا ہونا ضروری تھا کہ جو ایسی خارجہ پالیسی وضع کرتا کہ جس سے ہمارے مسائل میں کمی آتی نہ کہ زیادتی ‘ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات درست کئے جائیں کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان کو وہ وقعت نہیں دی جا رہی جس کے ہم حقدار ہیں۔