بریکنگ نیوز
Home / کالم / ریاست‘ سیاست اور ساکھ!

ریاست‘ سیاست اور ساکھ!

زیادہ پرانی بات نہیں جب پاکستان کی بطور ملک عالمی سطح پر عزت ہوا کرتی تھی اور یہی وجہ تھی کہ ہمارے حکمرانوں اور عوام کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا لیکن سب کچھ ایسے بدل گیا ہے جسے کسی کی نظر لگ گئی ہو! تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جلسہ عام میں نوجوانوں سے خطاب میں ایسے ہی ایک گزرے ہوئے زمانے کی یاد دلائی جب پاکستان کی شاندار حیثیت ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’شاید نوجوانوں کو یہ بات یاد نہ ہو مگر ایک ایسا بھی دور تھا کہ جب ائر پورٹ پر امریکی صدر خود پاکستانی صدر کا استقبال کرنے کے لئے آتے تھے۔‘‘ انہوں نے خوشگوار انداز میں کہا ’ایسا بھی ٹائم ہوتا تھا‘ عمران خان اکثر موجودہ پاکستان کی کمزور حیثیت‘ جس کا الزام وہ موجودہ قیادت کے معیار پر لگاتے ہیں‘ کو نمایاں کرنے کے لئے یہ کہانی سناتے رہتے ہیں۔ انہوں نے صدر ایوب خان کی جانب سے 1961ء میں امریکہ کے اس دورے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا تھا کہ تب ایوب خان کو حقیقی طور پر شاندار اعزاز سے نوازا گیا تھا اور کئی مواقع پر کینیڈی خاندان کے ساتھ اچھے ذاتی تعلقات سے بھی محظوظ ہوئے تھے۔ ہم سب اس دور کی تصاویر دیکھ چکے ہیں۔ ایک ٹی وی اینکر نے ایک بار نواز شریف اور ایوب کے امریکی دوروں کے موازنے پر ایک پورا شو کیا‘ اس میں انہوں نے امریکہ میں ایک ٹریفک پولیس سارجنٹ کی جانب سے استقبال کئے جانے پر موجودہ وزیر اعظم کو مذاق کا نشانہ بھی بنایا۔ مبشر لقمان جیسے پروٹوکول کے شوقین اینکروں کو یہ جان لینا چاہئے کہ امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ یا محکمہ خارجہ کی جانب سے بیرون ملک نمائندگان کی رینکنگ کے لحاظ سے غیر ملکی دورے پانچ درجوں میں تقسیم ہیں۔

’ریاستی دورہ‘ جو کہ اعزازات سے بھرپور ہوتا ہے (جیسا کہ ایوب خان کا دورہ تھا) سب سے اونچی رینکنگ کا حامل دورہ ہے اور صرف ریاست کے سربراہ کے لئے مخصوص ہوتا ہے جبکہ ’سرکاری کام کے سلسلے میں ہونے والے دورے‘ جیسا کہ نواز شریف نے کیا تھا‘ کافی سادہ یا رسمی سا ہوتا ہے۔ ستر برس میں پاکستان کے حصے میں تین ریاستی دورے آئے ہیں۔ دو بار ایوب خان کو ریاستی دورے کا اعزاز دیا گیا جبکہ ضیاء الحق کو یہ اعزاز ایک بار حاصل ہوا‘ ہر بار سربراہ ایک فوجی آمر ہی تھا۔ عمران خان اور مبشر لقمان ابتدائی امریکہ پاکستان تعلقات اور پیچیدہ سرد جنگ‘ جس کے دوران یہ تعلقات قائم ہوئے‘ کے خد و خال کے بارے میں کس حد تک سمجھ بوجھ رکھتے ہیں اس کا ہم صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں‘ مگر آپ کو یہ خدشہ پیدا ہوگا کہ انہوں نے ظاہری تصاویر سے ہٹ کر گہرائی سے معاملات پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔امریکیوں پر کڑی تنقید کرنیوالے عمران خان اسی دور میں پاکستان کی ایشیاء میں سامراجی خوشامد کی ساکھ کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ جس دور کو وہ اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں‘ اس وقت باقی کا براعظم خود کو کالونیل زنجیروں سے آزاد کر رہا تھا اور قوم پرستی کو اپنی مشعل راہ بنا رہا تھا جبکہ پاکستان ایوب خان کی حکومت میں جلدی سے واشنگٹن کیمپ کا حصہ بن گیا۔ واشنگٹن اس آمر سے بہت خوش تھا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ منتخب حکومت پاکستان میں غیر جانبدار خارجہ پالیسی اختیار کر سکتی ہے۔ ایوب خان نے اپنی کابینہ کے پہلے اجلاس میں کہا تھا کہ ’’جہاں تک آپ کا تعلق ہے‘ اس ملک میں صرف ایک ہی سفارت خانہ ہے جو اہمیت رکھتا ہے: امریکی سفارت خانہ۔‘‘ شاید اسی طرح خان صاحب اس بات سے بھی ناآشنا ہیں کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے سی آئی اے کو پہلی بار اپنا ہوائی اڈہ مشرف کے دور میں نہیں بلکہ ایوب خان کے دور میں دیا گیا تھا مگر کوئی بات نہیں‘ آخر وہ خود جو ائر پورٹ پر ان کا استقبال کرنے کے لئے آئے تھے۔ کتنا دلچسپ ہے کہ جو لوگ امریکہ مخالف جذبات ظاہر کرتے ہیں اکثر وہی ان کی بھرپور جواز کاری کا بھی کام کر دیتے ہیں۔

تحریک انصاف کی دنیا میں حقائق کچھ زیادہ معنی نہیں رکھتے مگر سچ کہیں تو پرانے وقت کے بارے میں ایسی حسرتیں وسیع پیمانے پر پھیلی ہیں‘ خاص طور پر حکومت سے ناراض ان پاکستانیوں کیلئے ایوب خان کے دورے کے بارے میں ’فیس بک‘ پوسٹس لگانا فرض سا ہو گیا ہے‘ جو اس وقت کے آرزو مند نظر آتے ہیں جب ہمیں سنجیدگی سے لیا جاتا تھا۔ عمران کا پیغام اس حلقے میں گونج رکھتا ہے‘ جو نہ لبرل ہے اور نہ ہی قدامت پسند بلکہ اسے مخصوص رد عمل کی سیاست کا پیروکار کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ بطور ایک قوم کی کہانی کے کئی پاکستانیوں کے لئے یہ کافی پرکشش بیانیہ ہے اور اس کی جڑیں تہذیبی فرسودگی سے بھرے عالمگیر اسلامی احساس میں گہرائی تک پیوست ہیں جسے جنم لینے میں کئی صدیاں لگیں۔ ایک انقلابی ایک سنہری دور کا تصور کرتا ہے جسے ابھی آنا ہے جبکہ رجعت پسند مانتا ہے کہ سنہری دور گزر چکا ہے اور اسے لازماً واپس لوٹ آنا ہے۔ یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جو آگے کے بجائے پیچھے کی طرف دیکھتا ہے۔ جیسے ٹرمپ اور عمران کا اہم پیغام کہ صرف وہ ہی ملک کو دوبارہ عظیم بنا سکتے ہیں مگر ایسا کرنے سے پہلے انہیں ہمیں یہ یاد دلانا ہوگا کہ ہم کب عظیم تھے۔ شاید وہ اس کیلئے بھی کسی تصوراتی حوالے کا استعمال کریں پاکستان کے مستقبل کو ماضی کی طرح شاندار و باعزت بنانے کیلئے سیاسی قیادت کو اپنی غلطیاں تسلیم کرنا پڑینگی۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: زیاد ظفر۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)