بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / مسئلہ جوں کا توں

مسئلہ جوں کا توں


اگر کنڈا کلچر سے استفادہ کرنے والوں اور قیمتاً بجلی استعمال کرنے والوں کیساتھ یکساں سلوک کیا جائے تو کیا یہ جائز ہوگا؟ اس سوال کا جوب یقینانفی میں ہے ۔لہٰذا جہاں تک واپڈا کی اس پالیسی کا تعلق ہے کہ’’ جن علاقوں میں لائن لاسز کم ہیں ان علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی اسی تناسب سے کم رکھی جائے اور جہاں بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی اور بجلی چوری کا رجحان جتنا زیادہ ہے وہاں اسی تناسب سے زیادہ لوڈ شیڈنگ کی جائے‘‘ اس پالیسی کا غلط قرار نہیں دیا جا سکتا ،اب ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ جن علاقوں میں لائن لاسز زیادہ ہیں یا کنڈا کلچر عام ہے وہاں بھی سو فیصد آبادی بجلی چور نہیں یعنی ان علاقوں میں بھی ایسے صارفین موجود ہیں جو بجلی کا بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں لیکن چونکہ لوڈشیڈنگ گھرانوں کے حساب سے نہیں بلکہ فیڈرز کے حساب سے ہوتی ہے اسلئے متعلقہ فیڈرزپرہونیوالی اضافی لوڈشیڈنگ کا خمیازہ بجلی چوری کرنے والوں اور بل ادا کرنے والوں کو یکساں طور پر بھگتنا پڑتا ہے ، پیسکو نے اس مسئلے پر کافی سوچ بچار کی ہے کہ بجلی چوروں کے بیچوں بیچ رہنے والے ان صارفین کو جوبجلی کے بل ادا کرتے ہیں خصوصی ریلیف دیا جا سکے ، اس حوالے سے کچھ منصوبوں کا جائزہ بھی لیا گیا ہے لیکن ان پر عمل درآمد اس قدر مہنگا ہے کہ پیسکو کیلئے فنڈز کی فراہمی ممکن نہیں لہٰذا تاحال کسی ایسے منصو بے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا جس کے تحت لائن لاسز والے علاقوں میں موجود مذکورہ صارفین کو خصوصی رعایت دی جا سکے۔اب یا تومفت کی بجلی استعمال کرنیکی عادت کا شکار افراداپنے ان اہل علاقہ کو جواس علت کا شکار نہیں مشعل راہ بناتے ہوئے از خود اصلاح کر لیں یا پھر وہ لوگ جو بجلی کا استعمال اور واجبات کی ادائیگی قومی ذمہ داری اور حق حلا ل کے نظریے کے تحت کرتے ہیں اس قدر سماجی دباؤ عمل میں لائیں جو انکے بجلی چور اہلیانِ علاقہ کو روش تبدیل کرنے پر مجبور کر دے توبات بن سکتی ہے۔

حکومتی سطح پر تو یہ کوششیں پچھلے کئی سالوں سے جاری ہیں کہ کسی طرح ناجائز طریقے سے بجلی کے استعمال کی عادت کا شکار صارفین کوراہ راست پر لایا جائے، کئی علاقوں میں متعلقہ عوامی نمائندوں اور پیسکو کے افسران کے مابین مذاکرات کے نتیجے میں اصلاح احوال کیلئے طریقہ کار بھی طے ہوا جسکے تحت علاقے کے صارفین کے ذمہ بجلی کے سابقہ واجبات کی اقساط میں ادائیگی اور آئندہ کیلئے میٹرز کے ذریعے بجلی کے استعمال اور بلوں کی بروقت ادائیگی جیسے معاملات پر عمل درآمد بھی شروع ہوا، کہیں کہیں کسی حد تک صورتحال میں بہتری اور جواباً پیسکو کی جانب سے لوڈ شیڈنگ میں کمی بھی واقع ہوئی لیکن کئی مقامات پر عمل درآمد پہلے سست روی کا شکار رہا اور بعد ازاں اس سے پسپائی اختیار کر لی گئی اور مسئلہ پھر سے وہیں آرہا جہاں طریقہ کار کے تعین سے پہلے تھا،وجوہات بہت سی ہیں، صوبائی اور وفاقی حکومت کی باہمی سیاسی مخالفت کے باعث مسئلے کے دیرپا حل کیلئے درکار تعاون ناپید ہے ،عدم اعتماد کی یہ فضا صارفین اور پیسکو کے درمیان بھی رنگ جمائے نظر آتی ہے ،سالہا سال تک کنڈا کلچرسے استفادہ کرنے اور بجلی بلوں کی ادائیگی سے لا تعلق رہنے والے کچھ اس طرح اس مخصوص طرز عمل کے اسیر ہو چکے کہ انکا اسکے اثرات سے باہر نکلنامشکل ہے اورشاید اسی لئے انھوں نے حالات سے سمجھوتہ بھی کر لیا ہے جس کااندازہ یوں لگا یا جا سکتا ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں ہی جب لوڈ شیڈنگ عذاب کی شکل اختیار کر لیتی ہے ان لوگوں کی ایک نمائندہ تعداد سراپا احتجاج نظر آتی ہے اس سے ہٹ کرانکی جانب سے کوئی خاص رد عمل دکھائی نہیں دیتا، تو اب کیایہی ہوتا رہے گا۔

کہ مخصوص موسمی حالات میں عوامی نمائندوں کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے ہوں گے، گرڈ سٹیشنز کا گھیراؤ کر کے اندر کا غصہ نکا لا جائے گا،واپڈا کی جانب سے کچھ وقت کیلئے مصلحتاًلوڈ شیڈنگ کم کی جائے گی لیکن اصل مسئلہ جوں کا توں رہے گا ؟ ان علاقوں میں جہاں عمومی طور پربجلی چوری کرنے کا رجحان ہے صرف احتجاج ا ور مظاہروں کے زور پر لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مستقلاََ کم نہیں کرایا جا سکتا،ان علاقوں کے عوامی نمائندے اپنی عوامی حمایت برقرار رکھنے کیلئے چوری اور سینہ زوری کی جتنی بھی پشت پناہی کر لیں اور اس عمل کے دوران بھلے میڈیا انھیں ہیرو کے طور پر پیش بھی کرتا رہے مسئلہ ایسے حل ہونے والا نہیں،باقی جہاں تک گرڈ سٹیشنوں اوربجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے دفاتر میں توڑ پھوڑکا تعلق ہے یہ قوم کا نقصان ہے اور اس نقصان کا ازالہ بھی اسی طرح عوام کے ٹیکسوں سے جمع کی گئی رقوم سے ہوتا ہے جس طرح حکومت کی جانب سے لئے گئے قرضے قومی دولت سے ادا ہوتے ہیں مسئلے کا پائیدار اور مستقل حل نکالنا اوراس پر عمل درآمد بہرحال وفاقی و صوبائی حکومتوں اور مذکورہ صارفین‘ متعلقہ افسران وعوامی نمائندوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔