بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / لوڈ شیڈنگ کا بے قابو جن

لوڈ شیڈنگ کا بے قابو جن


گرمی کی شدت میں ہر گزرتے د ن کیساتھ ہونے والے اضافے اور اس پر مستزاد رمضا ن المبارک کی آمد نے دوآتشے کاکام کرتے ہوئے لوڈ شیڈنگ کے پہلے سے بے قابو جن کو ا س حد تک حواس باختہ کردیاہے کہ لوگ گرمی کی حدت اورروزے کی کیفیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گرڈ سٹیشنوں اورواپڈا کے دفاتر پرچڑھ دوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں بجلی کے حالیہ بحران جس نے سندھ سے سراٹھایا تھا کے بعد ا س بحران کاتازہ شکار خیبرپختونخوا بناہے جہاں کے لوگوں کی برداشت ناروالوڈ شیڈنگ کیخلاف جواب دے چکی ہے اورنتیجتاً تقریباً پورے صوبے میں متاثرین بجلی سڑکوں پرنکل آئے ہیں۔لوڈشیڈنگ کیخلاف ویسے تو پورے صوبے میں احتجاج ہورہاہے لیکن ملاکنڈ درگئی میں ہونے والے احتجاج کے تشدد میں بدلنے اوراس تشدد کی وجہ سے فائرنگ کے نتیجے میں دو قیمتی جانوں کے ضیاع اورایک درجن سے زائد افرادکے زخمی ہونے کے علاوہ ایک تھانے کولگائی جانیوالی آگ اورواپڈا کے دفاتر میں توڑپھوڑ اوردرگئی گرڈسٹیشن کوپہنچنے والے نقصان نے لوڈ شیڈنگ کیخلاف جاری احتجاج کوخون آلودکرکے معاملے کو سدھارنے کی بجائے مزید الجھا دیاہے۔ درگئی کے خونی احتجاج کے علاوہ پشاور میں بھی لوڈ شیڈنگ کیخلاف جگہ جگہ احتجاج کیاگیاہے جبکہ مظاہرین کی جانب سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیاہے کہ اگرلوڈ شیڈنگ کے دورانئے میں غیر اعلانیہ اضافہ واپس نہ لیا گیا تواگلے مرحلے میں متعلقہ گرڈ سٹیشنوں کاگھیراؤ کیا جائیگا خیبرپختونخوا کے عوام کے اشتعال میں ہونیوالے اضافے کی فوری اوربنیادی وجہ تو یقیناًلوڈشیڈنگ کے دورانئے میں ہونے والا اضافہ ہے جبکہ اس صورتحال پرجلتی کاکام جہاں رمضان المبارک کی آمد نے کیا ہے ۔

وہاں اسکی دوسری بڑی وجہ حکومت کایہ اعلان تھا کہ رمضان المبارک کے دوران سحر اورافطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی حالانکہ یہ لوڈشیڈنگ نہ صرف جاری ہے بلکہ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی ا س میں اضافہ بھی دیکھنے میں آرہاہے اوردر اصل یہی وہ فوری عامل ہے جو لوگوں کو احتجاج پر ابھارنے کا باعث بنا ہے۔ ویسے بھی خیبر پختونخوا میں چونکہ رمضان المبارک کا اہتمام زیادہ مذہبی جوش وخروش سے کیا جاتا ہے لہٰذا ہوش مندی کا تقاضا تھا کہ حکومت کواس عامل کو مد نظر رکھتے ہوئے واپڈا کو خیبر پختونخوا میں لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے ہاتھ نرم رکھنے کی خصوصی تاکید کرتی لیکن عملاً چونکہ ایسانہیں ہوا اس لئے لوگوں کے پاس اس صورتحال میں سڑکوں پر نکلنے کے سوا اور کوئی آپشن تھاہی نہیں لوڈ شیڈنگ کیخلاف احتجاج کے اس نہج پر پہنچنے کی دوسری وجہ واپڈا حکام کا رمضان المبارک سے قبل جماعت اسلامی کے واپڈا ہاؤس کے سامنے احتجاج کو اس کے پر امن ہونے کی وجہ سے نظر انداز کرنے اور اس پر امن احتجاج کی خاموشی میں چھپے طوفان کی چھاپ کو محسوس نہ کر سکنے کی صلاحیت سے عاری ہونا ہے۔اگر واپڈا حکام اس پر امن احتجاج کو متوقع خونی احتجاج کا پیش خیمہ سمجھ کر آنے والے حالات کے لئے پیش بندی کر لیتے تو صوبے میں لوڈ شیڈنگ کیخلاف حالات وہ رخ اختیار نہ کرتے جن سے اب پورا صوبہ گڑ بڑ کی صورت میں دوچار ہے۔

صوبے میں واپڈا کے خلاف بڑھنے والے احتجاج کی تیسری وجہ چند روز قبل وزیر اعظم کا ساہیوال میں ایک بڑے پاور پلانٹ کا افتتاح اور اس موقع پر ایک جانب وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو خصوصی شاباش دے کر دیگر صوبوں کے زخموں پر نمک پاشی کرناتھا تو دوسری جانب انہوں نے اپنی تقریر اور ذرائع ابلاغ میں بڑے بڑے اشتہارات کے ذریعے ایساتاثر دینے کی کوشش کی گویا حکومت بجلی کے بحران پر نہ صرف قابو پانے میں کامیاب ہو گئی ہے بلکہ آنے والے دنوں میں شہریوں کو سستی بجلی بھی ملنی شروع ہوجائیگی لیکن اب جب عملاً بجلی کا شارٹ فال سات ہزار میگا واٹ سے بھی تجاوزچکا ہے اور اس ضمن میں بھی حکومت پنجاب کے ووٹرز کو خوش کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے تو اس سے چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی کا بڑھنا فطری امر قرار پائے گا۔اگر لوڈ شیڈنگ کے اس جن کوبعض ضروری اقدامات اٹھا کربوتل میں بندکرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی گئی تو یہ جن بے قابو ہوکر حکمرانوں کے اقتدار کا وقت سے پہلے دھڑن تختہ کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ یہ خالص تکنیکی اور انتظامی مسئلہ کسی بڑے بحران کا پیش خیمہ بن جائے وفاقی حکومت کی جانب سے سنگین ہوتے ہوئے اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے بعض ہنگامی اقدامات کا اٹھایاجانا ضروری ہی نہیں ناگزیر بھی ہے ۔