بریکنگ نیوز
Home / بزنس / گلگت چترال شاہراہ سی پیک میں شامل کرنیکافیصلہ

گلگت چترال شاہراہ سی پیک میں شامل کرنیکافیصلہ

اسلام آباد۔نوازشریف حکومت نے پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک کی سفارش پرسی پیک شاہراہ منصوبوں میں مزیداضافہ کردیاہے ،پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پر600کلومیٹرلمبی نئی شاہراہ تعمیرکرنے کافیصلہ کیاہے ،جس پرابتدائی تخمینہ کے مطابق 22ارب پہلے سے زائداخراجات ہوں گے ،سرکاری دستاویزات کے مطابق پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک کے کنونیئرسینیٹرتاج حیدرکی سربراہی میں ایک سب کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے گلگت اورچترال کے مابین شاہراہ اورروڈکاجائزہ لیااورحکومت کوسفارش کی تھی کہ قراقرم شاہراہ کے بجائے گلگت سے گاہکوچ ،شندور،چترال سے چکدرہ سوات موٹروے ایک نئی شاہراہ تعمیرکی جائے ۔

اس شاہراہ کی کل لمبائی600کلومیٹرسے زائدہوگی ۔نیشنل ہائی ویزاتھارٹی کے 242مالیت کے 13منصوبوں میں گلگت چکدرہ شاہراہ کوبھی شامل کیاگیاہے ۔پارلیمانی کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ چترال سے تتاپانی سے کرغستان شاہراہ بھی تعمیرہونی چاہئے ۔نیشنل ہائی ویزاتھارٹی نے اس تجویزکوبھی شامل کرتے ہوئے چترال سے تتہ پانی 87کلومیٹرلمبی شاہراہ کی تعمیربھی ہوگی جس کاابتدائی تخمینہ 8ارب66کروڑروپے بتایاگیاہے جبکہ حکومت کے موجودہ بجٹ میں اس منصوبے کیلئے 1ارب سے مختص کردیئے ہیں ،حکومت نے چترال اورگلگت کے مابین پہلے سے موجودہ پکی سڑک کوبہتربنانے کیلئے بھی2ارب33کروڑروپے خرچ کرنے کاتخمینہ لگایاگیاہے جبکہ موجودہ بجٹ میں اس سڑک کوبہتربنانے کیلئے 20کروڑروپے مختص کئے گئے ہیں ۔

وفاقی حکومت نے چکدرہ سے چترال این45سڑک کی مرمت اورتوسیع پربھی 17ارب43کروڑکاتخمینہ لگایاگیاہے جبکہ موجودہ بجٹ میں اس شاہراہ کی توسیع اوربہتری کے لئے صرف5ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔پارلیمانی کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ گلگت چکدرہ شاہراہ کی تعمیرسے اس علاقے میں ٹورازم کوترقی ہوگی اورعلاقے میں ترقی کانیادورشروع ہوگاجبکہ دوسری طرف قراقرم شاہراہ پرٹریفک کابوجھ بھی کم ہوگا،ایک اعلیٰ افسرنے بتایاہے کہ حکومت نے پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پرخلوص نیت سے عمل کیاتوچترال اورگلگت تجارتی مراکزکے طورپرابھرکرسامنے آئیں گے جبکہ پاکستان اورترکمانستان کے مابین بھی تجارت میں اضافہ ہوگا۔