بریکنگ نیوز
Home / کالم / شہریاریاں………..عمران خان یا مصباح الحق

شہریاریاں………..عمران خان یا مصباح الحق

ان دنوں جنگ و جدل کے موسم ہیں… ہر جانب سے گولہ باری ہو رہی ہے… کچھ توپوں میں بارود کی بجائے غلاظت‘ کمینگی اور بے حیائی بھر کر انہیں داغا جارہا ہے…نشانے صرف تین ہیں‘ نوازشریف‘ عمران خان اور زرداری جو سب پر بھاری ہونیکی کوشش میں مزیدہلکے ہو رہے ہیں… ویسے سچ پوچھئے تو اصل ہدف عمران خان ہے… پتہ نہیں اس نے کوے کھائے ہوئے ہیں کہ چپ ہی نہیں ہوتا… چپ ہو جائے تو کم از کم جاتی عمرا کے مکین چین کی نیند تو سو سکیں… دانیال عزیز جو مجھے یاد ہے ایک زمانے میں نوازشریف کے بارے میں وہی زبان استعمال کرتے تھے جو آج کل عمران خان کے بارے میں استعمال کر رہے ہیں… ادھر عابد شیر علی مسلم لیگ نون کے وہ شیر ہیں جو ہر وقت دھاڑتے پھرتے ہیں‘ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ انہوں نے طیش میں آکر کہا تھا کہ عمران خان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا کہ وہ اپنے دونوں بیٹوں کو… جس کے بھی وہ بیٹے ہیں لندن کے مہنگے سکولوں میں پڑھارہا ہے‘ ان کی فیس کہاں سے دیتا ہے‘ اور ماشاء اللہ کیا یہ فقرہ خوش زبانی کی ایک اعلیٰ مثال نہیں ہے کہ … بیٹے جس کے بھی ہیں‘ یوں شکوک نے جنم لیا تو بات بہت دور تلک پہنچ سکتی ہے تو حضور احتیاط… بلکہ عابد شیر علی نے پچھلے دنوں ایک نہایت لائل پوری ٹائپ کی دھمکی دی کہ اگر آئندہ کسی نے نوازشریف کو وزارت عظمیٰ کے تخت سے اترنے کیلئے کہا تو اسے جوتے مارے جائینگے… سبحان اللہ… حسرت موہانی کی مشہور غزل روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام کے مقطع میں ایک مصرعہ ہے کہ ’’ حسرت تیرے کلام پہ ہے لطف سخن تمام… تو محترم عابد شیر علی صاحب آپکے اس کلام پر بھی لطف سخن تمام ہے… واہ واہ کیا کہنے ہیں آپکے کلام کے… ویسے آپس کی بات ہے کہ عمران خان کے اور وہ اپوزیشن کی دیگر پارٹیاں بھی نوازشریف سے مستعفی ہونیکا مطالبہ کر رہی ہیں اور ان میں زرداری تو ہونگے… اعتزاز احسن کے علاوہ اپنے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی شامل ہیں تو حضور آپ کس کس کو جوتے مارینگے…

جوتے کہیں کم نہ پڑ جائیں اور آپکا کیا خیال ہے کہ یہ لوگ آپکے جوتے کھالینگے… میں قطعی طورپر گونوازشریف گو والے ہجوم میں شامل نہیں ہوں کہ اگر یہ ’’ گو‘‘ ہوگئے تو کوئی اور ان جیسا آجائیگا تو ہم کہاں تک گو گو کے نعرے لگائینگے… چونکہ میرا شعبہ میڈیا رہا ہے تو میں اسکے رموز کی کچھ تو پرکھ رکھتا ہوں تو اس تجربے کی بنا پر عرض کرتا ہوں کہ وزیراعظم صاحب کے بیشتر میڈیا منیجر نہایت نالائق ہیں‘ پرویز رشید بھی وزیراعظم کا دفاع کرتے تھے تو دلیل سے کرتے تھے… پر وہ اسی جرم کی پاداش میں سبکدوش کردیئے گئے‘ خواجہ سعد رفیق‘عابد شیرعلی‘ دانیال عزیز تو اپنی جگہ کیسے نایاب تحفے ہیں اور اب انکی جگہ مریم اورنگزیب آگئی ہیں جنکے بارے میں کہا گیا کہ وہ رانا ثناء اللہ کا نسوانی ایڈیشن ہیں‘ بہرطور وہ نہایت متانت اور سنجیدگی سے اپنے لیڈر کے دفاع میں وہ کچھ بھی داغ دیتی ہیں جو داغا نہیں جانا چاہئے… ادھر عمران خان کے حواری بھی کچھ کم نہیں… یہ طے ہے کہ اگر کوئی فیصلہ متفقہ طورپر نہ ہو‘ سپریم کورٹ کے دو اعلیٰ جج بے شک’’گارڈ فادر‘‘ کا حوالہ دیں لیکن بہرطور وزیراعظم کو انہوں نے کسی حد تک بری توکر دیا چاہے اسے باعزت کہا جائے یا نہ کہا جائے تو اسے مان لینا چاہئے… پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ… بہار آئے نہ آئے یہ آپ کی قسمت‘ فی الحال خزاں پر گزارہ کیجئے… چلئے یہ تو سیاست دان لوگ ہیں‘ انہوں نے تو پارٹی کے مفاد کیلئے گرگٹ کی مانند رنگ بدلنے ہیں کہ انکے بھی توکچھ مفاد ہیں جو وابستہ ہیں پارٹی کے اجتماعی مفاد سے لیکن… اب یہ شہریار خان کو کیا ہوا ہے انہوں نے پاکستان کرکٹ کو اگر بحیرہ عرب میں ڈبودیا ہے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ایک شاہانہ فرمان جاری کر دیں کہ مصباح الحق‘ عمران خان سے زیادہ کامیاب اور عظیم تر کپتان ہیں‘ ویسے آپس کی بات ہے کہ حالیہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی جس طور لائن لگا کے آؤٹ ہوئے پویلین کی جانب قطار اندر قطار لوٹے ہیں تو یہ صرف شہریار خان کے اس بیان کا شاخسانہ ہے‘ دراصل شہریارخان نے عمران خان کو معتوب کرکے اسے مصباح الحق سے کمتر قرار دیکر اہل اقتدار سے یاریاں نبھائی ہیں‘ اگر عمران خان وزیراعظم کیلئے ایک درد سر نہ ہوتے تو وہ ہرگز یہ موازنہ نہ کرتے… ویسے میں بھی کرکٹ کے کھیل کو تب سے جانتا ہوں جب سے… چلئے یہ کہانی پھر سہی… اوول کی فتح کے بعد سے لیکر اب تک…

اس دوران انگلینڈ کے پیٹرمے‘ سرلین ہٹن‘ ٹام گریونی‘ ٹونی لاک وغیرہ کے علاوہ ویسٹ انڈیز کے عظیم کھلاڑیوں سے جو ملاقاتیں رہیں اور ان زمانوں کے ورلڈ کلاس بلے باز روہن کنہائے سے جو دوستی ہوئی انکا تذکرہ کسی الگ کالم میں… یعنی میں کرکٹ کے کھیل کی تاریخ سے آگاہ ہوں تو اس تجربے کی بنا پر عرض کرتا ہوں کہ شہریار صاحب آپکادام اقبال بلند رہے لیکن نہ ادب میں اور نہ ہی کرکٹ میں عظیم لکھاریوں اور کھلاڑیوں کا موازنہ کیاجاسکتا ہے میں ادب کے حوالے سے اجتناب اس لئے برتتا ہوں کہ غالباً یہ آپ کا شعبہ نہیں ہے صرف کرکٹ کی بات کرتا ہوں کہ ہر عہد میں عظمت کا تاج کسی نہ کسی بڑے کھلاڑی کے سرپر سجتا ہے‘ اور یہ تاج آپکی طرح اہل اقتدار کی خوشنودی اور کاسہ لیسی سے حاصل نہیں کیا جا سکتا‘ اس کیلئے خداداد صلاحیت اور برسوں کی ریاضت اور اچھے نصیب درکار ہوتے ہیں‘ ان زمانوں میں ٹیسٹ میچ کبھی کبھار ہوا کرتے تھے اگر آج کی مانند ہر دوسرے روز ہوتے تو یقین کیجئے امتیاز احمد‘ مقصود احمد‘ حنیف محمد‘ مشتاق محمد‘ ظہیر عباس‘ ماجد خان‘ سلیم ملک‘ اعجاز احمد‘ محمد یوسف‘ سعید انور وغیرہ سب کے سب دس ہزار رنز سکور کر چکے ہوتے…

یونس خان کا عظیم کارنامہ اپنی جگہ لیکن کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان تمام کھلاڑیوں سے بڑا کھلاڑی ہے؟ اسی طورکیا آپ یہ فرمان جاری کرسکتے ہیں کہ مصباح الحق‘ حفیظ کاردار یافضل محمود سے بڑا کپتان ہے…ہر کھلاڑی‘ ہرکپتان‘ اپنے عہد کے حوالے سے بڑا ہوتا ہے اور کسی ایک کو فضیلت دینا حماقت کے سوا کچھ نہیں… چنانچہ مصباح الحق اور یونس خان کا ایک مداح ہونے کے باوجود میں سمجھتا ہوں اور خوب سمجھتا ہوں کہ اگر آپ عمران خان کو معتوب کرتے ہیں تو… سر… دس از ناٹ کرکٹ… کرکٹ کے بارے میں کہا گیا کہ یہ جنٹلمین کا کھیل ہے… تو سر آپ کیسے جنٹلمین ہیں… ویسے آپکے اس بیان کا خاطر خواہ اثر ہوا ہے… وزیراعظم صاحب نے طیش میں آکر کہا کہ جاؤ جاؤ کرکٹ کھیلو… اور اسکی بھی تمہاری عمر نہیں…تم کیا جانو کہ سیاست کیا ہے… ویسے تو وزیراعظم صاحب سیاست کے کھلاڑی ہونے سے پیشتر کرکٹ کے بھی کھلاڑی تھے‘ شنید ہے کہ کبھی آؤٹ نہیں ہوتے تھے… جب سیاست میں آئے تو یہاں بھی ماشاء اللہ عمران خان کے غیر قانونی باؤنسرز پر بھی ابھی تک آؤٹ نہیں ہوئے… کیونکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے انہیں فی الحال ناٹ آؤٹ قراردیا ہے… ذرا ٹھہریئے جانے کہاں سے ایک ٹوئٹ آرہی ہے…کسی جنرل کی نہیں کسی شہزادی کی ٹویٹ آرہی ہے کہ… ناٹ آؤٹ… ناٹ آؤٹ!