بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بھارت‘افغانستان کے رویئے

بھارت‘افغانستان کے رویئے

صدر مملکت ممنون حسین نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو خطے میں امن کیلئے خطرہ قرار دیا، صدر مملکت کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ ہے جسے حل کرنا ہوگا، انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں یہ بھی کہا کہ بھارت کا جارحانہ طرز عمل قبول نہیں کریں گے، عین اسی روز جب صدر مملکت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے، اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے کنٹرول لائن پر فائرنگ اور شہریوں کو نشانہ بنانے پر احتجاج کیا، فارن آفس کے مطابق جے پی سنگھ کو احتجاجی مراسلہ دیاگیا جس میں کہاگیا ہے کہ سول آبادی کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بھارت سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ 2003ء کے فائر بندی معاہدے کی پاسداری کرے، دریں اثناء افغانستان کے خفیہ اداروں نے الزام لگایا ہے کہ گزشتہ روز کابل میں ہونیوالے حملے میں ہدایات پاکستان سے آئیں اور حملے کی منصوبہ بندی بھی پاکستانی خفیہ ادارے کے تعاون سے کی گئی۔

، پاکستان نے بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل دھماکے میں خود ہمارے سفارتخانے کے اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں، بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل نہ کرنے کے سوال پر دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کیخلاف بے بنیاد الزامات عائد کرتا رہتا ہے، یہیطرزعمل افغانستان کے ذمہ دار حکام اور ادارے بھی اپناتے ہوئے ہر معاملے پر پاکستان کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کرتے رہتے ہیں، ریکارڈ اس بات کا شاہد ہے کہ
پاکستان بھارت کیساتھ تصفیہ طلب معاملات بات چیت کے ذریعے طے کرنے کی کوشش کیساتھ افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کوششیں کرتا رہا ہے، اسکے باوجود اپنے اندرونی معاملات درست کرنے میں ناکامی پر افغان حکومت ہر معاملے کا الزام پاکستان پر تھوپ دیتی ہے، موجودہ منظر نامے کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری افغانستان اور بھارت کو شٹ اپ کال دینے کیساتھ پاکستان کے موقف اور خطے میں امن کیلئے پاکستانی کوششوں کو سپورٹ کرے۔

طبی آلات کی خریداری کافی نہیں

خیبرپختونخوا کے طبی اداروں کیلئے 14ارب روپے کے جدید آلات کی فراہمی یقیناًاحسن اقدام ہے، جس کا ثمر آور ہونا ان آلات کی دیکھ بھال اور درست استعمال سے مشروط ہے، سرکاری ہسپتالوں میں امراض کی تشخیص کیلئے مشینری کے اکثر اوقات آپریشنل نہ ہونے کی شکایت عام ہے، اس کیساتھ خواتین مریضوں کا بعض ٹیسٹ مرد سٹاف ممبرز سے کرانے پر بھی احتجاج ہوتا رہتا ہے، سرکاری ہسپتالوں میں جراحی کے آلات کی منظور شدہ معیار کے مطابق صفائی اور انہیں محفوظ بنانا بھی اہم چیلنج ہے، سرکاری شفاخانوں میں دن کے وقت اوپی ڈی سے آنیوالے مریضوں کو سی ٹی سکین ‘ ایم آر آئی اور بعض دوسرے ٹیسٹوں کیلئے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے، کیا ہی بہتر ہو کہ صوبے کے بڑے ہسپتالوں میں مقامی لوگوں کیلئے رات کے وقت بھی تشخیصی ٹیسٹوں کا چند گھنٹے کیلئے انتظام کرلیاجائے، ہمارے ذمہ داروں کو یہ بات پلے باندھنا ہوگی کہ جب تک عام شہری خود تبدیلی اور بہتری کا احساس نہ پائے اس وقت تک حکومت کے تمام اعلانات اور اقدامات صرف کاغذوں میں ہی رہتے ہیں، اس لئے بہتری عملی طورپر لانا ہوگی۔