بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / عمران خان کی قوم کو سڑکوں پر لانے کی دھمکی

عمران خان کی قوم کو سڑکوں پر لانے کی دھمکی

لاہور۔ چےئر مین تحر یک انصاف عمران خان نے احتساب کی راہ میں حکومتی رکاوٹوں پر قوم کو سڑکوں پر لانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانوں پر زمین تنگ ہو چکی ہے میں لوگوں کو سڑکوں پر نکالوں گا توانہیں منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی ‘چوہے کو کبھی جوش نہیں چڑھ سکتا یہ نہیں ہوسکتا نہال ہاشمی کے کوئی پیچھے نہ بیٹھا ہو ‘ بیگم کلثوم نواز کے علاوہ باقی شر یف فیملی جھوٹ بول رہی ہے ‘حکمرانوں کیلئے مافیا کے الفاظ ٹھیک ہیں کیونکہ دھمکیاں مافیا دیتاہے جمہوری لوگ نہیں ،پوری قوم جے آئی ٹی کا انتظار کر رہی ہے یہ 1997نہیں جو حکمران حملہ کر دیں گے ‘یہ پہلے دھمکیاں دلاتے ہیں اور پھر قربانی کا بکرا بنا تے ہیں آپ کو جدہ جانے کا بھی موقع نہیں ملے گا۔

،دور بدل چکاہے لوگ باشعور ہو چکے ہیں ،ہر کسی کو پتہ ہے قطری خط فراڈ ہے ،چھابڑی والے کو بھی معلوم ہے کہ خط فراڈ ہے‘حکمرانوں نے ہر کسی کو رشو ت دی ہے شہبا زشر یف جب گوالمنڈی میں تھے تو افسران کے دفاتر کے سامنے فورٹ لیکر پہنچ جاتے تھے ‘پاناما کیس اٹھانے پر میرے اوپر چھ کیسز بنائے ،شریف خاندان نے ابھی تک ایک بھی منی ٹریل نہیں دی ہے‘میں نے اپنی ایک ایک ٹرانزیکشن عدالت کے سامنے رکھ دی ہے ۔

لاہور آمد کے موقعہ پر میڈیا سے گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ میں نے پانامہ کا معاملہ عدالت میں اٹھایا تو انہوں نے میرے اوپر کیس کیا اور یہ بھی مافیا کا سٹائل ہے ‘ خواجہ سعد رفیق کہہ رہے ہیں کہ میں آگ سے کھیل رہا ہوں، جس شاخ پر بیٹھا ہوں اسے ہی کاٹ رہا ہوں حالانکہ اس کا مقصد مُک مکا کرنا ہے کہ آپ ہمیں نہ ہاتھ لگائیں ہم آپ کو ہاتھ نہیں لگاتے ، آپ ہماری کرپشن کو نہ چھیڑیں ہم آپ کی کرپشن کو نہیں چھیڑتے ، لیکن یہ پھنس گئے ہیں میں تو کہتا ہوں مجھے پکڑو میں سپریم کورٹ میں ہوں ،میں اپنی بینک ٹرانزیکشن پیش کر چکا ہوں لیکن انہوں نے ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا اب تو ایک چھابڑی والا بھی قطری شہزادے کے کردار سے واقف ہے ۔

بچوں کے فلیٹس خریدنے ہوں، التوفیق بینک کے قرضے اتارنے ہوں قطری شہزاد ہ آ جاتا ہے انہیں جو چیز بھی چاہیے ہوتی ہے وہ قطری کر رہا ہے ۔ میں نے تو برطانیہ میں بیس سال کمائی کی لیکن پاکستان لایا اور مجھے برطانیہ یا پاکستان میں ایک بھی مرتبہ ٹیکس کی عدم ادائیگی کا نوٹس نہیں ملا ۔ لیکن یہاں سے ڈاکو پیسہ چوری کر کے حوالہ کے ذریعے باہر بھجوارہے ہیں اور اسی سے پاکستان اور قوم تباہ ہو رہی ہے ۔ہر سال دس ارب ڈالر چوری کر کے بیرون ممالک بھجوا دئیے جاتے ہیں اور پاکستان کا ہر پیدا ہونے والا بچہ بھی آئی ایم ایف کا مقروض ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر شریف خاندان نے چوری نہیں کی تو جھوٹ کیوں بول رہے ہیں۔ بیٹا کچھ ، بیٹی کچھ اور والد کچھ کہتا ہے ، صرف بیگم کلثوم نواز نے سچ بولا کہ ہم نے 1990ء میں فلیٹس خریدے ، نواز شریف نے بھی ایک سچ بولا ہے کہ جو پیسہ چوری کرتا ہے وہ اسے اپنے نام پر نہیں رکھتا اسی لئے انہوں نے چوری کا پیسہ اپنے بچوں کے نام پر رکھا ہوا ہے ۔

انہوں نے نہال ہاشمی کی تقریر کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ چوہے کو تب ہی جوش آتا ہے جب اس کے پیچھے کوئی کھڑا ہوتا ہے ،کیا وہ عوام کے سمندر کے سامنے تقریر کر رہے تھے ،انہوں نے تو دھمکیاں دینے کے لئے بیان دیا۔ انہوں نے شہباز شریف کے ہرجانے کے نوٹس کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ نوٹس وہ دیتا ہے جس کی کوئی ساکھ ہو ۔ نواز شریف اور شہباز شریف کی ساکھ سب کے سامنے ہے ۔

انہوں نے جوہر ٹاؤن میں چھ ہزار پلاٹ رشوت دئیے اور اس حوالے سے رپورٹ موجود ہے جسے یہ دبا کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ شہباز شریف نے ماورائے عدالت قتل کرائے ، انہوں نے آج تک غلط کام کے سوا کیا کیا ہے؟ ۔ میں ان کے نوٹس کا انتظار کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دیا جارہاہے کہ شریف فیملی کا بار بار احتساب کیا جارہاہے حالانکہ ملک میں پہلی بار حکمران خاندان کا احتساب ہو رہا ہے ۔ان کو ان کو مافیازکا نام دینا بالکل ٹھیک ہے کیونکہ بچوں کے لیے مافیا زسے دھمکیاں دلوانا مافیا کا ہی کام ہے ، یہ جمہوری لوگ نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج پوری قوم جے آئی ٹی کا انتظار کر رہی ہے ۔ اگر حکمرانوں نے واردات کرنے کی کوشش کی تو پوری قوم کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دوں گا اور پھر آپ کو جدہ جانے کا موقع ملے گا اور نہ ہی آپ لندن کے مے فیئر کے محلات میں پہنچ سکیں گے اور میرا وعدہ ہے کہ میں قوم کو سڑکوں پر نکالوں گااور آپ کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی اور آپ پر زمین تنگ ہو جائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت بدل چکا ہے عوام میں شعور آ گیا ہے اور وہ ایک ایک چیز دیکھ رہے ہیں ۔پہلے یہ اپنے لوگوں سے دھمکیاں دلواتے ہیں اور پھر انہیں قربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں او ریہ ان کی روایت ہے لیکن اب یہ عوام کو پاگل نہیں بنا سکتے ۔ میں جب عوام کو کال دوں گا تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ عوام کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔