بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بجٹ ترجیحات اورعملی اقدامات

بجٹ ترجیحات اورعملی اقدامات


مالی سال2017-18ء کے لئے خیبرپختونحوا کا بجٹ تیاری کے آخری مراحل میں ہے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ نئے مالی سال کے لئے ترقیاتی بجٹ 70سے بڑھا کر126ارب روپے کردیاگیا ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا تاہم ٹیکس نیٹ بڑھا دیاگیا ہے اس سے قبل1970ارب روپے سے زائد کے پنجاب بجٹ میں ڈیویلپمنٹ کا حصہ 1635ارب روپے کی ریکارڈ حد تک لے جایا گیا ہے تعمیر وترقی کسی بھی ریاست یا اسکی اکائی کے لئے انتہائی ضروری اور جاری عمل ہے اس مقصد کے لئے قومی خزانے سے بھاری رقوم مختص کرنے کے ساتھ اس کے درست‘شفاف اور بروقت استعمال کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے ذمہ دار اداروں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ منصوبے کی منظوری کے وقت ارضی شواہد کی روشنی میں اسکی ضرورت اور مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھیں کوئی قومی منصوبہ کسی کی ذاتی پسند اور نفع کیلئے نہ ہو اس کے ساتھ پہلے سے مکمل پراجیکٹس کی دیکھ بھال اور ان کے ثمرات عوام تک پہنچانا بھی ضروری ہے ہمارے پالیسی سازوں کو یہ بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ محض عمارتیں سروسز فراہم نہیں کرسکتیں خدمات کی فراہمی اداروں کی کارکردگی سے مشروط ہے اور کارکردگی کے لئے شرط چیک اینڈ بیلنس ہے اس سب کے ساتھ ضرورت صوبے کیلئے مالی وسائل کی ہے جن کا بروقت حصول ہی بجٹ کے اہداف کو پورا کرسکتا ہے ۔

اگر صوبے کا حصہ مالی سال کے دسویں مہینے میں جاری ہوتا ہے تو اسکا کوئی فائدہ نہیں اس سے ترقیاتی منصوبے مکمل ہوسکتے ہیں نہ ہی دیگر امور نمٹائے جاسکتے ہیں نئے مالی سال کے لئے میزانیہ پیش کرنے کیساتھ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ حکومت اصلاحات سے متعلق اپنے ایجنڈے پر چلتے ہوئے اٹھائے جانے والے اقدامات اور ان پر عمل درآمد کے درمیان گیپ کا جائزہ بھی لے ہیلتھ ‘ایجوکیشن ‘میونسپل سروسز اور دیگر خدمات کے حوالے سے صورتحال کو اس نظر سے دیکھا جائے کہ عام آدمی تبدیلی کا احساس پارہا ہے یا نہیں اس مقصد کیلئے آن سپاٹ جائزہ ناگزیر ہے ‘ بجٹ وفاق پیش کرے یا کوئی صوبائی حکومت اس کے اثرات مارکیٹ تک پہنچتے ہیں جبکہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں مارکیٹ کنٹرول کا علیحدہ سے موجود مجسٹریسی نظام اس وقت فائلوں میں بند پڑا ہے خیبر پختونخوا حکومت اگر عوامی مفاد میں اس نظام کی بحالی سے متعلق اقدامات اٹھانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یقیناً عام شہری مارکیٹ میں ریلیف محسوس کرے گا خود حکومت کے متعدد ذمہ دار اداروں کو بھی اس وقت گرانی کے کنٹرول اور ملاوٹ کی روک تھام کیلئے جو علیحدہ سے کوششیں کرنا پڑ رہی ہیں وہ بھی مجسٹریٹس کے ذمہ داریاں سنبھال لینے پر کم ہو جائیں گی اور یہی افرادی قوت جو اس وقت مارکیٹوں میں کام کر رہی ہے۔

اپنی دیگر ذمہ داریاں پوری کر سکے گی‘ مارکیٹ کیساتھ اداروں کی کارکردگی اور خدمات کا معیار بہتر بنانے کیلئے بھی موثر نظام ضروری ہے ‘ سرکاری مشینری میں اصلاحات کیساتھ دفاتر کی کارکردگی میں تیزی لانے کیلئے تمام نظام کو جدید سافٹ وئیرز پر منتقل کرنا ناگزیر ہے اس سلسلے میں ریونیو ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی اس کیلئے ٹائم فریم بھی دینا ہو گا اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ عملی اقدامات سے گریز کی صورت میں سالانہ بجٹ صرف اعداد و شمار کی تفصیل پر مشتمل ہی رہ جاتا ہے اس میزانیے کو ثمر آور بنانے کیلئے اہداف کا تعین کرنے کے ساتھ ان کو پانے کے ٹائم لائن دینا ہو گی بصورت دیگر عام آدمی کسی تبدیلی کا احساس نہیں پائے گا۔