بریکنگ نیوز
Home / کالم / منصف اور انصاف

منصف اور انصاف


انصاف ایک ایسا عمل ہے کہ جس بھی معاشرے میں ہوتا دکھائی دیتا ہے وہ معاشرہ ایک کامیاب ترین معاشرہ کہلاتا ہے۔اسلام میں انصاف پر بہت ہی زور دیا گیا ہے اگر کوئی بھی انسان کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ دے گا اس کے ساتھ ساتھ بشارتیں بھی ہیں کہ اگر آپ سے کوئی گناہ سرزد ہو جاتا ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع کریں اور اس سے معافی مانگیں اور دوبارہ وہ گناہ نہ کرنے کا وعدہ کریں تو ارحم الراحمین آپ کو معاف فرما دے گا۔ کچھ لغزشیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کیلئے اللہ کی طرف سے یا حکومت کی طرف سے کچھ سزائیں مقرر ہیں یہ غلطیاں یا گناہ جرم کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کی تعزیرات ہیں ۔ان تعزیرات کو لاگو کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے کچھ لوگ مقرر کئے جاتے ہیں جن کو منصف کہا جاتا ہے۔یہ منصفین اس قانون کے ماہر ہوتے ہیں جس کے تحت کسی بھی مجرم کو سزا دی جاتی ہے ۔ سزاسے قبل ملزم کو اپنی صفائی کیلئے پورا موقع دیا جاتا ہے کہ آیا وہ مجرم ہے یا اس پر محض الزام ہے جب یہ ثابت ہو جائے کہ ملزم بے گناہ ہے تو منصف اسے بری کر دیتا ہے اور اگر الزام ثابت ہو جائے تو ملزم مجرم کے زمرے میں آ جاتا ہے اور اُس پر تعزیر لگا دی جاتی ہے۔ ہمارے انصاف کے سسٹم میں بہت سی کمزوریاں ہیں جن کا ملزم فائدہ اٹھا کر جرم کی سزا سے بچ جاتا ہے۔

اس میں ایسے ایسے خلا ہیں کہ ایک مجرم جس نے خود مان لیا ہو کہ اس نے ایک جرم کیا ہے وہ بھی چھوٹ جاتا ہے وہ اس طرح کہ یہاں عدالتوں کی بہت قسمیں ہیں ایک عدالت کو ٹرائل کورٹ کہا جاتا ہے کہ جہاں ملزم پر جرح کر کے اور اس کیخلاف شہادتیں حاصل کر کے عدالت اس کے الزام کو جرم ثابت کر دیتی ہے اور اسے ایک سزا تجویز کر دیتی ہے اور پھر مجرم ایک دوسری عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور وہاں اپنے جرم کا انکار کر دیتا ہے اب اگر اسکے خلاف شہادت دینے والے اس عدالت میں مکر جاتے ہیں یا وہ اس عدالت میں پیش ہی نہیں ہوتے تو ایک سامنے کے جرم میں بھی بڑی عدالت یہ کہہ کر مجرم کو بری کر دیتی ہے کہ گواہان یا تو پیش نہیں ہوئے یا ان کی گواہی قابل قبول نہیں ہے اس طرح کے بہت سے مقدمات کا حال ہی میں ہماری ہائی کورٹس یا سپریم کورٹ میں ایسے ہی فیصلے ہوئے ہیں کراچی کے دہشت گردوں کو ، جنہوں نے ٹرائل کورٹس میں مانا ہے کہ انہوں نے دسیوں قتل کئے ہیں اور ان کو ٹرائل کورٹس سے سزائیں ہوئی ہیں اعلیٰ عدالتوں نے اس بنا پر بری کر دیئے ہیں کہ ان کے خلاف گواہی مکمل نہیں ہے۔ یہ گواہ اس لئے بھی مکر جاتے ہیں یا پیش نہیں ہوتے کہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ گواہی کے بعد ان کا کیا حشر ہو گااس لئے کہ جو شخص نناوے قتل کر سکتا ہے اس کے لئے سوواں قتل کوئی مشکل بات نہیں ہے۔

کچھ مقدمات ایسے آرہے ہیں کہ جن میں وکیلوں اور منصفوں کے درمیان نوک جھونک ہوتی ہے ہم نے پہلے بھی بہت دفعہ اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ منصف کو صرف اس وقت بولنا چاہئے کہ جس وقت وہ فیصلہ دے رہا ہو اب اگر ایک منصف پہلے ہی ایک شخص کو گینگسٹر کہہ دیتا ہے تو اس سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ملزم سے انصاف کرے گایا ایک وکیل کو یہ کہہ دیاجائے کہ وہ مافیا کا وکیل ہے تو اس کے بعد وہ وکیل عدالت سے کیا انصاف کی توقع کر سکتا ہے جب منصف نے پہلے سے ایک ذہن بنا لیا ہے تو وہ کوئی انصاف کی بات کر سکتا ہے ؟اسی لئے کہا جاتا ہے کہ منصف کو عدالت میں بولنا نہیں چاہئے بلکہ اس کے فیصلے کو بولنا چاہئے۔فیصلوں میں ایک بنچ کے سارے منصفوں کا متفق نہ ہونا بھی اسی ذہن کی پیداوار ہوتا ہے منصفین سماعت کے دوران متواتر اپنے ریمارکس دے رہے ہوتے ہیں جو ظاہر ہے کہ قانون کی کتابوں سے ماورا ہوتے ہیں اس لئے یہ توقع رکھنا کہ فیصلہ تعصب سے پاک ہو گا شاید صحیح نہ ہو۔