بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / سعودیہ، مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کےقطر سے سفارتی تعلقات ختم

سعودیہ، مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کےقطر سے سفارتی تعلقات ختم

سعودی عرب، مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے قطر پر دہشت گردی کی حمایت کے الزامات عائد کرتے ہوئے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ یمن جنگ میں مصروف سعودی اتحاد میں شامل قطر کے فوجی دستوں کو واپس بھیج دیا جائے گا۔ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ دہشت گردی سے لاحق خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے ایک بیان کے مطابق، ‘قطر نے خطے کے امن و استحکام کو متاثر کرنے کے لیے مسلم برادرہڈ، داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد اور فرقہ وارانہ گروپوں کی حمایت کی اور میڈیا کے ذرہعے ان کے پیغامات اور اسکیموں کی تشہیر کی’۔ دوسری جانب سعودی عرب نے قطر کے ساتھ سرحد بھی بند کرتے ہوئے دیگر اتحادی ممالک سے بھی قطر سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی اپیل کی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق سعودی عرب کی پیروی کرتے ہوئے بعدازاں بحرین، مصر اور متحدہ عرب امارات نے بھی قطر سے سفارتی تعلقات ختم کردیئے۔ بحرین کی وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ قطر کے دارالحکومت دوہا سے بحرینی سفارتی مشن کو 48 گھنٹے میں واپس بلوالیا جائے گا، جبکہ اسی عرصے میں قطر کے سفارتی عملے کو بھی بحرین چھوڑنے کو کہا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ قطر کے شہری 2 ہفتوں میں بحرین چھوڑ دیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سمندری اور فضائی ٹریفک بھی معطل کردی جائے گی۔ قطر سے تعلقات ختم کرنے والے تمام ممالک نے کہا کہ قطر کے ساتھ فضائی اور سمندری روابط بھی منقطع کردیئے جائیں گے تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس کا اثر قطر ایئرویز پر کس طرح پڑے گا، جو خطے کی ایک بڑی فضائی کمپنی ہے۔

بحرین نے قطر پر ‘میڈیا پر اشتعال انگیزی، مسلح دہشت گردوں کی حمایت اور بحرین میں انتشار پھیلانے کے لیے ایرانی گروپوں کو فنڈنگ فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں’۔ دوسری جانب قطر کے حکام کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی موقف سامنے نہیں آسکا، تاہم وہ ماضی میں دہشت گردوں یا ایران کی حمایت اور مدد کے الزامات کی ترید کرتا آیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب قطر نے گذشتہ ماہ مئی کے آخر میں الزام عائد کیا تھا کہ ہیکرز نے اس کی سرکاری نیوز ایجنسی کو ہیک کرکے حکمران امیر کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے حوالے سے جعلی کمنٹس پبلش کیے۔