بریکنگ نیوز
Home / کالم / سوچنے کی بات

سوچنے کی بات

کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے! چلو پی آئی اے نے ایک کام تو اچھا کر ہی دیا اور وہ یہ کہ اپنی ائیر ہوئٹس کو اس کے کرتا دھرتوں نے یہ وارننگ دے دی کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر اپنا وزن 60 پاؤنڈ تک کم کر دیں ورنہ ان کو ’’گراؤنڈ‘‘ کر دیا جائے گا ابھی تک تو کئی عرصے سے ہم اپنی قومی ائیر لائن کے بار ے میں صرف منفی خبریں ہی سنتے آ رہے ہیں کبھی تو اس کے جہازوں کے کونوں کھدروں سے ہیروئن برآمد ہونے کی اطلاع ملتی ہے تو کبھی اسکا کوئی اہلکار انسانی سمگلنگ میں ملوث قرار دیا جاتا ہے اور کبھی اس کے پائلٹ شراب کے نشے میں دھت کاک پٹ میں بیٹھ کرجہاز کا سٹیرنگ سنبھال لیتے ہیں وزن وزن ہوتا ہے جس طرح توند‘ توند ہوتی ہے چھوٹی ہو کہ بڑی ویسے جس انسان کی بھی توند نکلی ہو جان جائیے کہ اس کا وزن اپنے قد کے حساب سے زیادہ ہے یونیفارم پہننے والے اہلکاروں کے ساتھ تو وہ اور بھی بھدی لگتی ہے گو شلوار میں کافی حد تک اسے عوامی نظروں سے بچایا جا سکتا ہے خد ا بخشے لیفٹیننٹ جنرل افضال احمد مرحوم کو وہ کسی دور میں ملیشیاء کے سربراہ تھے ہم نے ان کو کئی مرتبہ میران شاہ اور وانا میں اپنے دوروں کے دوران اپنی فوجی چھڑی ان ماتحت فوجی افسروں کے پیٹ پر مارتے ہوئے یہ کہتے سنا کہ بھئی جب میں اگلی دفعہ تم سے ملنے آؤں تو یہ توند نہ دیکھوں ان کے جانے کے بعد پھر ہم نے ان توند والے افسروں کوروزانہ صبح صبح کئی کئی میل بھاگتے دیکھا تاکہ اگلی دفعہ جب ان کا سربراہ انکو ملنے آئے تو ان کی توند گھٹ گئی ہو پنجاب پولیس نے بھی کچھ عرصہ پہلے ایک اس قسم کا پروگرام چلایا تھا کہ جس کے تحت وہاں کے آئی جی نے یہ حکم صادر کیا تھا کہ جس بھی پولیس والے کی توند نکلی ہوگی اسے کسی تھانے کا تھانیدار بالکل نہیں لگایا جائے گا۔

بعد میں پھر کبھی ہم نے نہ سنا کہ اس حکم پر کس حد تک عملدرآمد ہوا نظر یہ آتا ہے کہ وہ حکم بھی کسی سیاسی مصلحت کا شکار ہو گیا ہو گا کیونکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان توند والے پولیس افسروں کے ہاتھ بڑے لمبے ہوتے ہیں سیاسی لوگ اور یہ اب ایک دوسرے کی ضرورت بن چکے ہیں سوچنے کی بات ہے اگر کسی توند والے پولیس اہلکار کو کسی ملزم کو پکڑنے کیلئے اسکے پیچھے بھاگنا پڑے تو وہ کسی طرح دوڑے گا وہ بے چارہ تو اپنی پیٹی کو کس کس کر اپنے توند کو ہر وقت اندر کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے وہ جب پتلون پہن کر چلتا ہے تو اسکی توند چھلک چھلک کر راہ گیروں کو دعوت نظارہ دیتی ہے ماہرین تو یہ کہتے ہیں کہ انسان کی کمر یا پیٹ کا قطر اس کے قد کی لمبائی کا نصف ہونا چاہئے مثلاً اگر آپ کا قد70 انچ ہے تو آپ کے پیٹ کا ناپ اس کا آدھا یعنی35 انچ ہونا چاہئے اس سائز سے اگر آپ کے پیٹ کا قطر زیاد ہ ہو گا تو آپ کو صحت مند قرار نہیں دیا جا سکتا اپنے ہاں تو ہر تیسرے فرد کی کمر یا پیٹ کا قطر آسمان سے باتیں کرتا ہے سیانے کہہ گئے ہیں کہ جس معاشرے میں ذہنی انحطاط اور جسمانی بیماریاں زیادہ ہو جائیں وہاں لائبربریاں کم پڑ جاتی ہیں کتابیں پڑھنے کا شوق ختم ہو جاتا ہے کھیل کے میدان اجڑ جاتے ہیں کھانے پینے یعنی کڑائی گوشت اور مرغن کھانوں کی دکانوں اور کیمسٹوں یعنی ادویا ت فروخت کرنے والوں کی دکانوں میں اضافہ ہوجاتا ہے کیا یہی سب کچھ وطن عزیز میں نہیں ہو رہا؟ہمارے بازار ادویات فروخت کرنے والی دکانوں سے بھرے پڑے ہیں بوڑھے جوان سب مرغن کھانوں کے رسیا ہیں ان کی خوراک میں فاسٹ فوڈ کا اضافہ ہو چکا ہے اور ان کو بسیار خوری کی طرف راغب کرنے میں ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔