بریکنگ نیوز
Home / کالم / اگر عوام چاہیں

اگر عوام چاہیں

یہ جمہوریت ہے ۔ جمہوریت کیا ہے ؟ عوام کی اپنی حکومت۔ شاید ہم لوگوں نے اورہمارے اجداد نے اتنا بڑا زمانہ غلامی میں گزارا ہے اس لئے ابھی تک ہم اپنی عادات تبدیل نہیں کر پا رہے۔ ہم ابھی تک یہی سمجھ رہے ہیں کہ جس کو ہم حکمرانی کے لئے چنتے ہیں وہ ہمارا اسی طرح سے بادشاہ ہوتا ہے جیسے کہ ملکہ وکٹوریہ تھی۔ اور ہم نے اسی طرح پولیس بادشاہ کے سامنے جھکنا ہے جیسے ہمارے اجداد جھکا کرتے تھے اسی طرح پولیس ہمارے سر پر گیٹیاں اور ان پر بھاری پتھر رکھ کر ہمیں ’’ سلبا ‘‘ سکتی ہے اور ہم سے بادشاہ کے لئے وصولیاں کر سکتی ہے ہم نے اپنے بچپن میں یہی دیکھا ہے اور آج تک یہی دیکھتے چلے آرہے ہیں صرف ایک فرق آیا ہے کہ ہمارے بچپن میں جب پولیس گاؤں میں آتی تھی تو تقریباًسارے نوجوان گاؤں سے بھاگ جایا کرتے تھے اور گاؤں کا نمبردار ان کیلئے توجیہات پیش کرتا رہتا تھا اگر کہیں چوری ہو جاتی تو جس گاؤں میں چوری ہوتی اسکے قریب کے دس گاؤں میں چھاپے پڑتے اور پولیس گھر گھر تلاشیاں لیتی دکھائی دیتی۔ اب ذرا سا اس میں یہ فرق آیا ہے کہ ہمارے نوجوانوں نے اس پولیس کو پاکستان کی پولیس سمجھنا شروع کیا ہے مگر پولیس شاید ابھی بدلنے میں وقت لے۔ اسی طرح ہم نے وہ وقت بھی دیکھے ہیں کہ جب گاؤں کے گاؤں دس بیس سیر گندم لینے کے لئے دنوں ڈپوؤں پر گزار دیتے جب کہیں جا کر دس بیس سیر گندم حاصل کر پاتے۔ اور اسی دور میں گندم کے بیوپاریوں میں من مانی قیمتوں کا رواج پڑااگر ڈپو سے گندم دس روپے من ملتی تو شہر کے دکانداروں کے پاس سے وہی گندم پندرہ بیس روپے من ملتی پھر یہ رواج دالوں کی طرف مڑ گیا اور دالیں روز بروز مہنگی ہوتی گئیں تاہم اس کا اثر دیہات میں بہت کم پڑا اس لئے کہ گاؤں والے اپنا کام گھریلو سبزیوں اور ساگوں سے چلا لیا کرتے تھے اور دوسرا تقریباً گاؤں کے ہر گھر میں گائے یا بھینس ہوتی تھی ۔

جس کا دودھ اور لسی ہمارے کھانوں میں سبزیوں کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتی ۔ گاؤں میں ترکاری بہت ہی کم گھروں میں پکتی اور جس گھر میں ہانڈی پکی ہوتی وہ آس پاس کے گھروں میں ضرور بھیجتے۔ ہمارے ہاں یہ اصول کافی عرصے تک جاری رہا مگر آہستہ آہستہ گاؤں کے لوگوں نے شہروں کا رخ کیا تو گاؤں میں سے بہت اچھے رواج ختم ہوتے گئے۔ اب یہ حالت ہے کہ گاؤں والوں نے گھروں میں گائے بھینس پالنی چھوڑ دی ہے اور ہر شخص دودھ یا دکان سے خریدتا ہے اور یا وہ ڈبے کا دود ھ استعمال کرتا ہے دودھ کی اس ڈیمانڈ نے دودھ میں ملاوٹ کا ڈول ڈالا ہے اور ہمارے نیک دودھ فروشوں نے لوگوں کی صحت سے کھیلنا شروع کر رکھا ہے۔ خدا جانے وہ کس طرح کی دودھ میں ملاوٹیں کر رہے ہیں کہ پوری نسل تباہ ہو رہی ہے۔مگر کسی میں نہ تو اپنے ضمیر سے کوئی سوال اٹھتا ہے اور نہ حکومت ہی اس طرف توجہ دیتی ہے کہ ملاوٹ سے دکاندار یا جو بھی یہ کام کر رہا ہے چند پیسے تو مل جاتے ہوں گے مگر وہ ایک نسل کو تباہ کر رہا ہے اس میں شاید تاجروں کا اتنا قصور نہیں ہے جتنا کہ ہم لوگوں کا ہے جو اپنی پاک زندگی کو چھوڑ کر شہروں میں آ باد ہوئے ہیں۔ تاجروں اور حکومت نے ہم پر ڈیمانڈ اور سپلائی کے قوانین کو لاگو کیا ہوا ہے اور ہم ہر چیز کو مہنگی اور ناخالص خریدنے اور کھانے پرمجبور ہیں۔

حال ہی میں ہماری نئی نسل کو خراب کرنے کے لئے ایک بین الاقوامی سازش کی ہے کہ ہم کو موبائل جیسی افیون کا عادی بنا دیا ہے جس کا نتیجہ ہر طرح سے برا نکل رہا ہے۔ ہمار انوجوان جو اپنی شامیں کھیل کے میدانوں میں گزارا کرتا تھا وہ اب دن رات اپنی صحت کا کباڑہ ان ڈیوائسوں کے ذریعے کر رہا ہے مگر ایک فائدہ اب جا کے اس نسل نے لینا شروع کیا ہے کہ اب انہوں نے گراں فروشوں کو ’’ نتھ ‘‘ ڈالنے کا عزم کر لیا ہے اور اس کیلئے اپنے موبائلوں کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جسے عرف عام میں سوشل میڈیا کہا جاتا ہے۔ مہنگائی کا توڑ آج کی ٹیکنالو جی کو استعمال کر کے یوں کیا گیا ہے کہ ایک مہم سوشل میڈیا پر لانچ کی گئی ہے کہ پھلوں کا بائیکاٹ کیا جائے اس مہم کا اثر یہ ہوا ہے کہ بائیکاٹ نے گراں فروشوں کے ہوش ٹھکانے لگا دیئے یہ سوشل میڈیا کا ایک مثبت استعمال ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ استعمال جاری رہنا چاہئے ۔