بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بھارت‘افغانستان کی غیر ذمہ داری

بھارت‘افغانستان کی غیر ذمہ داری


بھارت اور افغانستان کا پاکستان کے حوالے سے رویہ غیر ذمہ دارانہ ہی رہتا ہے، دونوں ملک اپنے اندرونی معاملات سدھارنے میں ناکامی پر پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی سے دنیا کی توجہ دوسری جانب پھیرنے کی کوشش کرتے ہیں، بھارت لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ سے باز نہیں آتا، ایل او سی کے علاقے تتہ پانی میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاک فوج کی جوابی کاروائی میں 5بھارتی فوجی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے، پاک فوج کی منہ توڑ کاروائی میں بھارتی بنکر بھی تباہ ہوئے، دوسری جانب افغانستان سے غیر ذمہ دارانہ بیانات کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے، افغان صدر اشرف غنی یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نے افغانستان کیخلاف غیر اعلانیہ جنگ شروع کررکھی ہے، کابل کے حساس علاقے میں واٹر ٹینکر کے دھماکے پر بھی پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے، امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چوہدری کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک افغانستان منتقل ہوچکا ہے۔

لہٰذا افغان حکام پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانے کی بجائے اپنی سرزمین پر ان سے نمٹنے کیلئے کاروائی کریں، کابل کے حساس علاقے میں گزشتہ دنوں ہونیوالے دھماکے میں 90افراد ہلاک جبکہ 400سے زائد زخمی ہوئے، اب مختصر وقفے کے بعد افغان دارالحکومت میں اوپر تلے ہونے والے 3دھماکوں میں 24افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں، یہ دھماکے افغان ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے بیٹے کے جنازے میں ہوئے جس میں چیف ایگزیکٹوعبداللہ عبداللہ بھی شریک تھے جو بال بال بچ گئے، اب ان دھماکوں کا الزام کس پر عائد کیاجاتا ہے تادم تحریر اس پر افغان حکومت کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا، افغانستان اور بھارت کو چاہئے کہ وہ اپنے معاملات کی درستگی پر توجہ مرکوز کریں اور اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی روش سے گریز کریں افغان حکمرانوں کو احساس کرنا چاہئے کہ پاکستان لاکھوں افغان مہاجرین کا میزبان ہے، افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کی سعی کسی سے پوشیدہ نہیں، اسی طرح بھارت بھی مقبوضہ کشمیر میں حق خودارادیت کا مطالبہ کرنیوالے شہریوں پر مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کیخلاف الزام تراشی اور بلااشتعال فائرنگ جیسے اقدامات سے گریز کرے ۔

بجلی کی پیداوار میں اضافہ

وطن عزیز میں بجلی کی پیداوار 19ہزار 248میگاواٹ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، پانی وبجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف اور وزیر مملکت عابد شیر علی قوم کو مبارکباد بھی دے رہے ہیں، دوسری جانب صارفین گرمی کی شدت میں اضافے کیساتھ لوڈشیڈنگ اور بجلی کی ترسیل کے نظام میں خرابیوں اور بلوں میں زائد یونٹس کے اندراج پر مشکلات کا شکار ہیں، حکومت بجلی کی پیداوار میں اضافے اور طلب ورسد کے درمیان گیپ کم کرنے کی کوششوں کیساتھ لوڈمینجمنٹ لائن لاسز میں کمی اور ریکوری کی شرح بڑھانے پر بھی توجہ مبذول کرے تو صارفین کو ریلیف مل سکتی ہے، اس مقصد کیلئے تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر اداروں کے وسائل بڑھانا بھی ضروری ہے، بلوں کی درستگی کیلئے ون ونڈو کے ساتھ اگر موبائل یونٹس کام کریں توصارفین دفاتر کے دھکے کھانے سے محفوظ ہوجائیں گے، خیبرپختونخوا کا جغرافیہ اور حالات اس بات کے زیادہ متقاضی ہیں کہ یہاں سروسز کی فراہمی بہتر بنانے کیلئے زیادہ وسائل دیئے جائیں تاکہ متعلقہ دفاتر کو خدمات بہتر بنانے کا موقع مل سکے جو ہر وقت تنقید ہی کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔