بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / جماعت اسلامی کی حکومت سے علیحدگی کی دھمکی

جماعت اسلامی کی حکومت سے علیحدگی کی دھمکی


پشاور۔امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے دینی مدار کیخلا ف قانون سازی کو مسترد کر دیا ۔اگر ہمارے ہوتے ہوئے ایسا کیا گیا تو وہ ہمار ا اس ھکومت میں آخری دن ہو گا اور ساتھ ہی اس حکومت کا بوریا بستر بھی گول کر دیں گے۔جب تک جماعت اسلامی صوبائی اسمبلی اور صوبائی حکومت میں ہے کوئی بھی با لخصوص خیبر پختونخوا میں مدارس کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔مدارس کیخلاف اٹھنے والے ہر ہاتھ کو کاٹ کر رکھ دیں گے۔

ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیااس موقع پر صوبائی جنرل سیکرٹری عبد الواسع ، جمعیت اتحاد العلما خیبر پختونخواکے صدر مولانا عبد الاکبر چترالی اور جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات سید جماعت علی شاہ بھی موجود تھے۔صوبائی امیر مشتاق احمد خان نے کہا بد قسمتی سے ہماری حکومتیں ہمیشہ سے مدارس کو مغربی اور امریکی عینک سے دیکھتی ہیں ۔اس وجہ سے مدارس کے بارے میں جو امریکی و مغربی نظریہ ہے، مدارس کے بارے میں زبان بھی وہی استعمال کرتے ہیں جو مغرب کی ہے ، حتیٰ کہ انکے منہ میں الفاظ بھی مغرب کے ہیں۔

اس وجہ سے پاکستان میں مسائل پیش آتے ہیں صوبائی حکومت جو ایکٹ لارہی ہے وہ1860 ؁ ء سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ ترمیمی ایکٹ ۲۰۱۷ع اگر یہ اپنی موجودہ صورت میں منظور کیا جاتا ہے تو جماعت اسلامی اس کو تسلیم نہیں کرے گی۔ ۔۲۰۱۰ میں اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ اوراس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ طے پایا،جس میں مدارس کے نصا ب ، آڈٹ ، بنک اکاؤنتس ، جدید عصری علوم اور ٹکنالوجی علوم کی تدریس کے امور منظور کر لئے گئے مگر موجودہ وفاقی حکومت اس متفقہ معاہدہ پر عمل نہیں کر رہی، جس پر دونوں فریق متفق تھے۔اب اس موجودہ ڈاکیومنٹ میں رجسٹریشن اور آڈٹ کے نام پر ، نصاب کے نام پر ، طلبا کے داخلہ کے نام پر مدارس اور انکی تعلیمی سرگرمیوں کے راستے مسدود کئے جا رہے ہیں۔

اب جس فریق کیلئے قانون سازی کی جارہی ہیان کا موقف تک نہیں لیا گیا ، جن کے متعلق قانون سازی کی جارہی ہے کم از کم ان سے پوچھا تو جائے ۔ہمار ا مطالبہ ہے کہ صوبائی حکومت نے خود جومتفقہ علماء بورڈ بنایا ہے جس تمام مسالک کی نمائندگی موجود ہے اس بورڈ کی متفقہ منظوری کے بغیر مدارس سے متعلقہ کوئی بھی ڈرافٹ صوبائی اسمبلی میں آئے گا تو جماعت اسلامی اس کو کسی صورت قبول نہیں کریگی بلکہ اس کی بھرپور طریقہ سے مزاحمت کریں گے ۔اس متفقہ علما بورڈ سے منظوری کے بعد جو متفقہ ڈرافٹ آئے گا وہ جماعت اسلامی کو قبول ہو گا۔ہماری حکومتوں کی جو سوچ ہے وہ در اصل مدارس کی اصلاح نہیں بلکہ مدارس کو مغرب کے مطالبہ پر دشمن قرار دیکر بند کرنے کی طرف لے جایا جانا ہے۔مگر یا د رہے کہ جب تک جماعت اسلامی صوبائی اسمبلی اور صوبائی حکومت میں ہے کوئی بھی با لخصوص خیبر پختونخوا میں مدارس کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔

دینی اداروں کی طرف اٹھنے والے ہاتھوں کو کاٹ دیا جائے گا۔ موجودہ صوبائی حکومت ہماری مو جودگی میں دینی مدارس کے حوالہ سے کو ئی ایسی قانون سازی کی گئی جس سے پانچوں بورڈ متفق نہ ہوں ، جس سے صوبائی حکومت کا اپنا تشکیل کردہ متفقہ علما بورڈمتفق نہ ہو تو وہ دن ہمارا اس صوبائی حکومت میں رہنے کا آخری دن ہو گا۔اور حکومت سے نکل کر ہم چین سے بیٹھ نہیں جائیں گے بلکہ ایسی حکومت کے وجود کو زمین پر برداشت نہیں کریں گے جو مدارس کے کیخلاف اقدام کرے اور ریاستی اور قانون کی طاقت کو مدارس کیخلاف اور مدارس کی بندش کیلئے استعمال کرے۔ہم صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جلدبازی میں کوئی فیصلہ اور کوئی قانون سازی نہ کرے اور کسی سوچ بچار اور دینی و قومی ہم آہنگی کے بغیر اوٹ پٹانگ( Hap Hazard style) قانون سازی کرنے سے باز رہے۔اگر جماعت اسلامی کے حکومت میں ہوتے ہوئے بھی ایسی کو ئی قانون سازی کی گئی تو وہ اس حکومت میں نہ صرف ہمار ا آخری دن ہوگا بلکہ اس صوبائی حکومت کا بھی بوریا بستر گول کر کے اسے گھر بھیج دیں گے۔

ہم مدارس کیاصلاح کیخلاف نہیں ہیں بلکہ ہم پورے نظام تعلیم کی اصلاح چاہتے ہیں مگر یہ اصلاح اتفاق اور ہم آہنگی کے ساتھ ہو ۔ہم چاہتے ہیں کہ وفاقی حکومت بجٹ مقرر کر کے صوبائی بجٹ میں مدارس کے لئے حصہ فراہم کرے۔ہم چاہتے ہیں کہ مدارس کو قومی دھارے (Main Stream)میں لاکر عصری تعلیمی ادارونں کے ہم پلہ لایا جائے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ دینی مدارس کے طلباء بھی مقابلہ کے امتحانات میں بیٹھ کر اعلیٰ مناصب تک پہنچیں۔ہم چاہتے ہیں کہ عصری تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی طرح مدارس کے اساتذہ کی تنخواہوں کا سٹرکچر اور ٹائم سکیل ہواور ان کیلئے بھی مراعات اور ترقی کے مواقع ہوں ان کے لئے بھی پنشن اور ہیلتھ کی سہولیات فراہم ہوں ۔مگر یہ سب اتفاق و اتحاد اور حکومت کے اپنے تشکیل کردہ علماء بورڈ اور پانچوں تعلیم دینیہ کے بورڈز کی متفقہ منظوری کے ساتھ ہو ۔