بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / دہشتگردی جنگ میں پاکستانی کوششیں قابل تعریف

دہشتگردی جنگ میں پاکستانی کوششیں قابل تعریف


بیجنگ ۔ چین میں بین الاقوامی سطح پر دہشتگردی کے خاتمے کے لئے پاکستانی کوششوں کی تعریف کی ہے کیونکہ یہ مشترکہ عالمی ذمہ داری تھی ۔ یہ بیان شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس کے آئندہ ہونیوالے اجلاس سے چند روز قبل سامنے آیا ہے جس میں پاکستان اور بھارت تنظیم کے مستقل رکن بن جائیں گے، چین نے دہشتگردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کی مسلسل کوششوں کی ہمیشہ تعریف کی ہے تا ہم یہ بین الاقوامی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ دہشتگردی کیخلاف مہم کو کامیاب کیا جائے ۔

ان خیالات کا اظہار چین کے معاون وزیر خارجہ لی ہوئی لائی نے قابل میں ہونیوالے دھماکوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ بیجنگ دہشتگردی کی ہر قسم کی مخالفت کرتا ہے۔انہوں نے افغانستان ، برطانیہ اور فلپائن میں ہونیوالے دہشتگردی کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پرزور دیا کہ دہشتگردی کیخلاف عالمی اتفاق رائے کے ذریعے ہی دہشتگردی کے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے اور عالمی برادری مشترکہ طورپر ہی اس کے خلاف کامیابی حاصل کر سکتی ہے ، کوئی ایک ملک یا پارٹی اکیلے اس مسئلے پر قابو پانے کی استعداد نہیں رکھتی ۔انہوں نے کہاکہ چین علاقائی سلامتی حاصل کرنے کے لئے دوطرفہ یا علاقائی طورپر تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔

مسٹرلی نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان اور بھارت شنگھائی تعاون تنظیم کے آستانہ میں ہونیوالے آئندہ اجلاس میں تنظیم کے مکمل رکن بن جائیں گے، قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں یہ کانفرنس 7جون سے شروع ہورہی ہے اور اس میں پاکستان اور بھارت کو مکمل رکن کی حیثیت دینے کی قرارداد منظور ہو چکی ہے،ان دونوں ملکوں کے رکن بننے کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم کی جغرافیائی وسعت جنوبی ایشیاء تک پھیل جائے گی جس کے نتیجے میں شنگھائی تعاون تنظیم زیادہ نمائندہ تنظیم کی حیثیت سے سامنے آئے گی اور اس میں تعاون کو فروغ دینے کی زیادہ اہلیت ہو گی ۔

ایک سوال کے جواب میں چین کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ چین 48قومی ایٹمی سپلائر گروپ کا ممبر بننے کے کا خواہش مند ہے لیکن جیسا کہ پہلے ہم نے خیال کیا تھا یہ معاملہ اس سے زیادہ پیچیدہ ہے ، چین ایٹمی سپلائر گروپ کی حمایت کرتا ہے اور کئی بار مشاورت بھی کی گئی ہے تا کہ کسی کے ساتھ بھی امتیازی سلوک نہ کیا جائے اور این ایس جی کے تمام ارکان کے لئے قابل عمل حل تلاش کیا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ چین اور بھارت اہم ہمسائے ہیں اور یہ دنیا کی ترقی کرتی ہوئی معیشتیں ہیں اور عالمی ذمہ داریاں ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں ، بیجنگ اور نئی دہلی تعاون عالمی امن و سلامتی کیلئے بہت اہم ہے۔