بریکنگ نیوز
Home / سائنس و ٹیکنالوجی / ادائیگی کرنے کے لیے سیلفی سے شناخت کروائیے

ادائیگی کرنے کے لیے سیلفی سے شناخت کروائیے

ساؤ پالو: برازیل میں ایک ڈیجیٹل بینک نے اکاؤنٹ ہولڈرز کی جانب سے ادائیگی کے وقت سیلفی کے ذریعے تصدیق کا انوکھا طریقہ اختیار کر لیا ہے جس کے بارے میں بینک کا دعویٰ ہے کہ یہ طریقہ روایتی پاس ورڈ اور فنگر پرنٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر طور پر شناخت کے قابل ہے۔

بینک کا کہنا ہے کہ ابھی یہ طریقہ ابتدائی مرحلے پر متعارف کروایا گیا ہے اور اسے صارفین کی جانب سے بڑے پیمانے پر اعتماد حاصل ہوجانے کے بعد ہر قسم کی چھوٹی بڑی ادائیگی میں شناخت کے لیے اختیار کیا جائے گا۔

جب اس بینک کے کسی اکاؤنٹ ہولڈر کی جانب سے ادا کی جانے والی رقم ایک خاص حد سے زیادہ ہو تو اسمارٹ فون پر موجود بینکنگ ایپ فوراً ایکٹیو ہو جاتی ہے اور صارف کو سیلفی کھینچنے کا پیغام دیتی ہے۔ یہ سیلفی فوری طور پر بینک کے سرور پر بھیج دی جاتی ہے جہاں بینک کا انتہائی جدید شناختی سافٹ ویئر (سیلفی میں نظر آنے والے) چہرے کے خد و خال کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے اور تصدیق ہو جانے کے بعد وہ رقم منتقل کردیتا ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ اس پورے عمل میں صرف چند سیکنڈ لگتے ہیں جبکہ اس دوران صارف کی سیلفی میں چہرے پر موجود درجن بھر سے زائد نقوش کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور انہیں بینک کے ڈیٹابیس میں متعلقہ صارف کی تصویروں سے ملاتے ہوئے تصدیق کی جاتی ہے کہ سیلفی بھیجنے والا شخص اس بینک کا صارف ہی ہے یا کوئی اور۔

برازیلی ڈیجیٹل بینک کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ، پاس ورڈ اور فنگر پرنٹس سے بھی زیادہ مؤثر اور محفوظ ہے کیونکہ بینک کا سافٹ ویئر انہیں 100 فیصد درست معلومات فراہم کرتا ہے۔

بینک کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ہم شکل جڑواں افراد تک اس شناختی نظام کو بے وقوف نہیں بنا سکتے کیونکہ بظاہر بالکل ایک جیسے نظر آنے والے دو چہروں میں بھی کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہوتا ہے لیکن وہ صرف انتہائی باریک بینی سے دیکھنے پر ہی واضح ہوتا ہے اور یہ شناختی سافٹ ویئر اس معمولی ترین فرق تک کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انفارمیشن سیکیوریٹی کے ماہرین پہلے ہی سے یہ امید ظاہر کرتے آ رہے ہیں کہ چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی ترقی کرتے کرتے بالآخر 100 فیصد درستگی کے مرحلے پر پہنچ جائے گی جس میں مصنوعی ذہانت کا بہت دخل ہو گا۔ تب اسے زندگی کے ہر شعبے میں بلا خوف و خطر استعمال کیا جاسکے گا۔ یوں لگتا ہے جیسے اب وہ زمانہ بہت قریب آن پہنچا ہے۔