بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / دنیا : گلوبل کمیونٹی یا اکھاڑہ

دنیا : گلوبل کمیونٹی یا اکھاڑہ


صدر ٹرمپ کے نو روزہ غیر ملکی دورے سے واپسی کے بعد امریکی دانشور اس بحث میں الجھ گئے ہیں کہ انکے ملک کی اقوام عالم کیساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہے آج سے پہلے یہ تعلق کبھی بھی اتنا مبہم یا غیر واضح نہ تھا گذشتہ ستر برس میں امریکی اپنے ملک کے ایک تباہ کن سپر پاور ہونے پر فخر کرتے تھے وہ خود کو ایک غیر معمولی قوم سمجھتے تھے اور یہ توقع رکھتے تھے کہ دوسری اقوام بھی American Exceptionalism کی تھیوری کو تسلیم کر لیں اب ڈونلڈ ٹرمپ کی ساڑھے چار ماہ کی صدارت کے بعد امریکہ اپنی عالمی برتری کے احساس تفاخر سے دستبردار ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے اس بات میں اگر کسی شک و شبے کی گنجائش تھی تو صدر ٹرمپ کی چند روز پہلے یورپ میں کی جانے والی تقاریر نے اسے ختم کر دیا ہے اٹلی کے جزیرۂ سسلی کے قریب واقع شہر Taormina میں چھبیس مئی کو جی سیون ممالک کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوے صدر ٹرمپ نے کہا کہ نیٹو مما لک کو اپنے دفاعی اخراجات کا بوجھ امریکہ پر نہیں ڈالنا چاہئے اور انکا ملک اب تجارت میں عدم توازن کی پالیسی کو جاری نہیں رکھ سکتا اس موقع پر صدر ٹرمپ نے جرمنی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسکا اربوں ڈالر کا ٹریڈ سرپلس امریکہ کیلئے ناقابل برداشت ہے اسکے بعد جرمنی کی چانسلر انجیلا مارکل نے کہا کہ وہ وقت گذر گیا ہے جب یورپ اپنے دفاع کیلئے کسی دوسرے ملک پر انحصار کرتا تھا اب ہمیں اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لینا ہو گی یورپی میڈیا کے مطابق امریکی صدر کی دوسرے ممالک کے لیڈروں کیساتھ گفتگو کچھ زیادہ خوشگوار نہ تھی سات بڑے ممالک کے اس سمٹ میں صدر ٹرمپ اپنے قوم پرست ایجنڈے کو بڑھاتے ہوے نظر آئے وہ اپنی انتخابی مہم کے جلسوں میں اکثر کہا کرتے تھے کہ ’’دنیا نے ہماری بے قدری کرنے کے علاوہ ہمارا مذاق بھی اڑایا ہے۔

ہم سے فائدے اٹھانے والے لوگ ہم سے زیادہ ہوشیار اور سمجھدار تھے ہماری اس تذلیل کی ذمہ دار ہماری سابقہ قیادتیں ہیں ‘‘ واشنگٹن واپس پہنچنے کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے ماحولیات کے عالمی معاہدے سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا گذشتہ سال ستمبر میں امریکہ سمیت 195 ممالک نے Paris Accord کے نام سے ہونے والے اس تاریخی معاہدے کو منظور کیا تھامیری یاداشت کے مطابق امریکہ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ صدر یا وزیر خارجہ کے غیر ملکی دورے کے اختتام کے بعد حکومت نے اپنا زور بیاں اسے کامیاب ثابت کرنے پر صرف کیا ہو اس مرتبہ وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کے دورے کو تاریخی ثابت کرنے کیلئے ایک مہم شروع کر رکھی ہے صدر کے دو خصوصی مشیروں نے چند روز پہلے وال سٹریٹ جنرل میں ایک مضمون لکھ کر امریکہ کے اقوام عالم کیساتھ تعلقات کی نوعیت کی وضاحت کی ہے جنرل میک ماسٹر صدر ٹرمپ کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ہیں اور گیری کوہن نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر ہیں انکے لکھے ہوئے مضمون کا عنوان تھا America First Does Not Mean America Alone ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کے علاوہ انکے فلسفہ حکمرانی کا احاطہ کرنیوالے اس مضمون کا لب لباب ان سطور میں بیان کیا گیا ہے ترجمہ ’’ صدر اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر اس واضح سوچ کیساتھ روانہ ہوئے تھے کہ دنیا ایک گلوبل کمیونٹی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا اکھاڑہ ہے جہاں اقوام عالم، غیر حکومتی عناصر اور کاروباری لوگ اپنے مفادات کیلئے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں‘‘یہ تحریر آجکل ملک بھر کے سنجیدہ فکر حلقوں میں زیر بحث ہے ممتاز کالم نگار David Brooksنے دو جون کے کالم میں لکھا ہے کہ اس تحریر کا مفہوم یہ ہے کہ ذاتی مفادات اور خود غرضی ہی زندگی کے معاملات کو آگے بڑھاتے ہیں یہ طرز فکر ایک ایسے تصور سے جنم لیتا ہے جو زندگی کو ایک مسلسل مقابلہ اور مسابقت سمجھتا ہے بروکس کی رائے میں اس مضمون سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے اقوام عالم نے ایک دوسرے کیساتھ بھائی چارے اور تعاون کا جو تعلق بنا رکھا ہے وہ دراصل ایک منافقت ہے ایک ایسا پردہ ہے ۔

جسکے پیچھے خود غرضی کی گھڑدوڑ لگی ہوئی ہے نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اس کالم میں لکھا گیاہے کہ یہ تحریر اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ صدر ٹرمپ کے نائبین دنیا کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ نیٹواور عالمی تجارتی معاہدوں کو امریکہ کیلئے نقصان دہ سمجھتے ہیں بروکس کی رائے میں یہ مضمون اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ‘ ولادیمیر پیوٹن‘ سعودی شہزادوں اور ڈکٹیٹروں کو کیوں پسند کرتا ہے یہ حکمران ٹرمپ کے اس تصور حیات سے متفق ہیں کہ زندگی دولت اور طاقت کے تعاقب کے علاوہ کچھ بھی نہیں کالم نگار نے لکھا ہے میک ماسٹر اور کوہن یہ کہہ رہے ہیں کہ اخلاقیات کا کسی بھی چیز سے کوئی تعلق نہیں اور ایثار پسندی‘ بھروسہ‘ تعاون اور نیکی سب زندگی کی دوڑ میں تعیش اور اللے تللے ہیں بروکس نے اس سوچ کو Dirty Minded Realism یعنی غلیظ ذہنیت والی حقیقت پسندی قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ فلسفہ زندگی ایک ایسی غلط سوچ سے جنم لیتا ہے جسکا ہر راستہ تباہی کی طرف جاتا ہے اس غلط سوچ کی نشاندہی کرتے ہوے کالم نگار کہتا ہے کہ اس طرح کی ذہنیت رکھنے والے لوگ یہ نہیں جانتے کہ کونسی ترغیبات و محرکات انسان کو عمل پر آمادہ کرتی ہیں بروکس اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ انسان دولت ‘طاقت ‘اقتدار اور معاشرتی مرتبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر اسکا یہ مطلب نہیں کہ اسکے اند ر محبت‘ اخوت‘ انصاف‘ برابری اور اخلاقی تکمیل کے جذبے موجود نہیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور میل جول ہی وہ بنیادی انسانی اوصاف ہیں جو اسے جانوروں سے ممتاز کرتی ہیں بروکس کی رائے میں دنیا میں کوئی بھی ایسا انسانی معاشرہ نہیں جس میں میدان جنگ سے بھاگنے والے کو پسند کیا جاتا ہو اور جس میں دوستوں سے جھوٹ بولنے کو اچھا سمجھاجاتا ہو۔

ڈیوڈ بروکس نے ٹرمپ‘ میک ماسٹر اور کوہن کے تصور زندگی کی مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جو لوگ دنیا کو ذاتی فائدے حاصل کرنے کا میدان حرب و ضرب سمجھتے ہیں وہ بھروسے‘ ہمدردی‘ دوستی اور وفاداری کی اس اساس کو بکھیر دیتے ہیں جو ایک توانا انسانی معاشرے کی تعمیر کیلئے ضروری ہے کالم کے آخر میں بروکس نے لکھا ہے کہ کاش ٹرمپ اوراسکے مشاہیر یہ جانتے کہ ایتھنز کی تباہی کی وجہ اسکے حکمرانوں کا غیر اخلاقی تصور حیات تھافلسفہ دانThucydides نے ایتھنز کے بارے میں لکھا ہے ” The strong do what they can and the weak suffer what they must” اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ ایتھنز کے حکمرانوں نے ان گنت دشمن بنا کر اپنی سلطنت تباہ کر دی۔