بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / نیا وزیرستان

نیا وزیرستان


جب لاکھوں لوگوں نے فوجی کاروائی کے بعد شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کی تھی تو انکے سامنے مستقبل کے نئے وزیرستان کی تصویر تھی انہوں نے اپنا آج اپنے بچوں کے بہتر کے لئے قربان کردیاتھا کوئی بھی اس درد کااندازہ نہیں کرسکتا جو اپنے بھرے ہوئے گھربار چھوڑ کر غیرت مند قبائلی بھائیوں کے سینوں میں اٹھ رہاتھا بجا کہ انہوں نے بہت تکالیف برداشت کیں اور یہ بھی بجاکہ ان میں سے بعض کیساتھ اپنے ہی بھائیوں نے بہت زیادتی بھی کی اور انکا حق غصب کرنے میں دیر نہیں لگائی مثلاًوزیر ستان کے ایک بزرگ جب میرانشاہ سے نکل رہے تھے تو ان کا گاڑیوں کابہت بڑا کاروبارتھا اوراس سلسلے میں بنوں میں بعض لوگوں کیساتھ انکے معاملات چل رہے تھے جنہوں نے ان سے لاکھوں روپے کی گاڑیاں لی ہوئی تھیں جن کے تمام ثبوت انکے پاس موجود ہیں حتیٰ کہ انکی طرف سے ایڈوانس میں دیئے گئے چیک بھی انکے پاس تاحال موجود ہیں مگر جب یہ لوگ دربدر ہوگئے تویہی لوگ انکے پیسوں پر سانپ بن کر بیٹھ گئے اور وہ بزرگ اب بھی بنوں جاکر اپنا حق لینے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر بااثر افراد کے سامنے انکی ایک نہیں چلتی اورپولیس بھی کوئی مدد نہیں کررہی اور وہ بزرگ جن کاکبھی گاڑیوں کاکاروبارہواکرتاتھا آج پشاور میں ٹیکسی چلانے پرمجبور ہیں ایسے لوگوں کے مسائل بھی حل کیے جانے بہت ضروری ہیں بہر حال قبائلی عوام نے قربانی دی اور اگر یہ کہاجائے کہ آج اس قربانی کاصلہ بھی انکو مل رہاہے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ تباہی وبربادی کے کھنڈرات پر آج نیا وزیرستان ابھرتاجارہاہے۔
۔
وزیرستان تیزی سے بد ل رہاہے اور اس کابڑا ثبوت یہ ہے کہ اس علاقہ کے لوگوں کی سوچ بدل چکی ہے آج وہاں پر اختلاف اس بات پرنہیں ہورہاکہ کس ملک صاحب کو زیاد ہ مراعات مل رہی ہیں بلکہ اس حوالہ سے مسابقت جاری ہے کہ کس کے علاقہ میں زیادہ سکول ہیں اور کس کے علاقہ میں کم ،ہم نے خود کرم کے علاوہ شمالی و جنوبی وزیرستا ن میں قبائلی عمائدین کی طرف سے اپنے اپنے علاقوں میں مزید سکولوں گرلز کالجوں اور کیڈٹ کالجز کے قیام کے مطالبات سنے ہیں ہمارے قبائلی بھائی جان گئے ہیں کہ اب اگر انہوں نے ترقی کی راہ پر آگے بڑھنا اور دہشگردی و پسماندگی کو شکست دینا ہے تو اس کا واحد راستہ یہ ہے کہ اپنے آنے والی نسلوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیساتھ ساتھ انکو ہنرمندی کے میدان میں بھی پیشرفت کے مواقع مہیاکیے جائیں اس وقت وزیرستان ایک نئی صورت میں سامنے آرہاہے کسی بھی علاقہ کی تعمیر و ترقی میں ذرائع مواصلات اہم کردارادا کرتے ہیں اور شمالی ہو یا جنوبی وزیرستان آج بہترین سڑکیں یہاں کے خوشحا ل مستقبل کی نوید دیتی نظر آتی ہیں شمالی وزیرستان میں پہلا ویمن ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ بن چکاہے جبکہ جنوبی وزیر ستان میں پہلا ایگری پارک تعمیر ہورہاہے جس سے اس علاقہ کی فصلوں اورپھلوں کی پیداوار پر کافی مثبت اثر پڑے گا لوگوں کی سوچ کی تبدیلی کاایک بڑا ثبو ت یہ بھی ہے کہ کسی بھی علاقہ میں کوئی مشکوک یا مطلوب شخص نظر آجائے تو مقامی آبادی کی طرف سے فوری طورپر فورسز کو مطلع کردیا جاتا ہے جسکی وجہ سے علاقہ میں انٹیلی جنس بیسڈ کاروائیوں کی کامیابی کی شرح سو فیصد ہے کوئی تصور بھی نہیں کرسکتاکہ یہ وہ وزیرستان ہے۔

جو باہر سے آنے والے عسکریت پسندوں کے لئے بہترین پناہ گاہ ہواکرتاتھا پلوں سے نیچے سے کافی سارا پانی بہہ چکاہے اب وزیرستان میں کسی کو رات بارہ بجے سفرکرتے ہوئے ڈر نہیں لگتا کیونکہ قانون کی حکمرانی بحال ہوچکی ہے پاک فوج نے جس طریقے سے منظم انداز میں آپریشن کیا اب موجود آرمی چیف او ر نئے کورکمانڈر کے آنے کے بعدمزیدمربوط و منظم اندازمیں بحالی و تعمیر نو کاکام جاری ہے شمالی وزیرستان میں پاکستان کابہترین سپورٹس سٹیڈیم بن چکاہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتاہے نئے بننے والے سکولوں وہسپتالوں کو دیکھ کر اب تو ہم پشاوروالے بھی رشک کرتے ہیں اورپھر جس طریقے سے مارکیٹیں بنائی جارہی ہیں اگر انکی حوالگی کامرحلہ بخیرو خوبی طے پاگیا تو پھر یہ بازار ملک بھر میں اپنی مثال آپ ہونگے اسی طرح پاکستان کاجدید ترین بس ٹرمینل بھی وزیرستا ن ہی میں بنایاجارہاہے عوام اورفوج کے درمیان باہمی اعتمادو احترام کارشتہ اگر اسی طرح برقراررہاتو وزیرستان کے بھائیوں کی قربانی کسی صورت رائیگاں نہیں جائیگی یہ بجاکہ ابھی کچھ مشکلات بھی ہونگی آباد کاری میں مسائل بھی ہونگے لیکن اگر حکومت ‘پا ک فوج اورقبائلی عوام اسی طرح ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے آگے بڑھتے رہے تو پھر نیاوزیرستان دیکھنے پوری دنیا سے لوگ آئیں گے اوراکیسویں صد ی کے اس معجزے کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تاہم یہ ضروری ہے کہ علاقہ کی سیاحت پربھی توجہ دی جائے خیبر اوراس کے ساتھ اورکزئی ایجنسی میں تیراہ تو وزیرستان میں رزمک اورشوال اسی طرح کرم میں کئی وادیاں اپنے قدرتی حسن کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہیں اس کے ساتھ معدنی ذخائر پر بھی توجہ کی ضرورت ہے ۔