بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / 18 ویں ترمیم اور صوبوں کے اختیارات

18 ویں ترمیم اور صوبوں کے اختیارات


وطن عزیز کے تین صوبوں کی جانب سے قدرتی گیس پر کنٹرول کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل تک پہنچ گیا ہے۔ وفاقی حکومت آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد سوئی ناردرن گیس اور سدرن کو ختم کرکے چارکمپنیاں بنانے کا عندیہ دے رہی ہے اس فیصلے کی روشنی میں پنجاب‘ خیبرپختونخوا‘ سندھ اور بلوچستان گیس کمپنیاں بنائی جانی ہیں۔ خیبرپختونخوا کا موقف ہے کہ اسے صوبے کی گیس پر مکمل کنٹرول دیا جائے۔ خیبرپختونخوا ڈسٹری بیوشن اور ٹرانسمیشن کے لئے الگ الگ کمپنیاں بنانے کی مخالفت کرچکا ہے صوبے کا موقف ہے کہ بجلی کے بعد گیس کے حوالے سے کمپنیوں کے تجربے کو نہیں دہرایا جانا چاہئے۔ ہمارے رپورٹر کا ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ وفاق نے خیبرپختونخوا کو ڈسٹری بیوشن اور ٹرانسمیشن کے لئے ایک ہی کمپنی کے قیام کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ دستور میں 18 ویں ترمیم کے بعد سے متعدد اداروں کے انتظام کی صوبوں کو منتقلی کا معاملہ ابھی تک یکسو نہیں ہو پایا جس سے اداروں کی کارکردگی متاثر ہونے کے ساتھ ملازمین میں بھی بے چینی رہتی ہے۔

قدرتی گیس وطن عزیز کی معیشت میں ایک اہم مقام کی حامل ہے خیبرپختونخوا گیس کی پیداوار میں اہم شیئر رکھتا ہے صوبے کا مخصوص جغرافیہ اور درپیش حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ یہاں صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔ یہاں بجلی کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت بھی ہے اس مقصد کے لئے اگر گیس سے متعلق اختیارات صوبے کو منتقل ہوتے ہیں تو صوبے کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے ساتھ پن بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات اور ہر سال بروقت ادائیگی کے لئے انتظامات بھی ضروری ہیں۔ مشترکہ مفادات کونسل ہو یا قومی امور نمٹانے کے لئے کوئی اور پلیٹ فارم وفاق اور صوبوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے انتظامی محکموں کو ان سے جڑے تمام امور بلاتاخیر نمٹانے کا پابند بنائیں اور ایک اجلاس سے دوسرے کے وقفے میں ہونے والی پیشرفت پر بھرپور نگاہ رکھی جائے۔ 18 ویں ترمیم کے معاملے میں صوبے محکموں کا انتظام و انصرام ملنے سے پہلے یہ بھی دیکھیں کہ خود انہوں نے اپنے لیول پر ان محکموں کو سنبھالنے کے لئے کیا ہوم ورک کر رکھا ہے۔

دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ نئے محکمے مانگنے والے صوبے پہلے سے موجود ڈیپارٹمنٹس کا انتظام کس طرح چلا رہے ہیں اس کا پیمانہ سروسز ڈیلیوری سے عوام کے اطمینان اور عدم اطمینان کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے حکومتی سطح پر اصلاح احوال کے اعلانات اور اقدامات کے ساتھ اربوں روپے کے فنڈز کا اجراء ثمرآور صرف اسی صورت کہلایا جاسکتا ہے جب لوگ عملی طور پر تبدیلی کا احساس پائیں۔ دوسرے صوبوں کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی اگر سرکاری سکول کے طالب علم کے والدین معیار تعلیم اور سکول کے نظم و ضبط سے مطمئن ہیں تو اس سیکٹر کے اقدامات سودمند قرار دئیے جاسکتے ہیں۔ ہسپتالوں میں اگر مریض برآمدوں میں ایڑیاں نہیں رگڑ رہے تو ہیلتھ کے شعبے میں اصلاحات کامیاب کہلائی جاسکتی ہیں۔ یہی اندازہ سڑکوں پر ٹریفک میونسپل سروسز اور خدمات کے دیگر شعبوں میں بھی لگایا جاسکتا ہے۔ اگر ہماری سڑکوں پر ٹریفک اسی طرح جام ہے سیوریج سسٹم ابل رہا ہے۔ سرکاری منصوبے تاخیر کا شکار ہیں شہری مسائل کے حل کی رفتار سے مطمئن نہیں تو حکومت کو اعلانات اور اقدامات کے درمیان گیپ فی الفور کم کرنا ہوگا تاکہ اٹھارہویں ترمیم کی روشنی میں صوبے کو ملنے والے نئے محکموں کا انتظام بھی بہتر انداز میں سنبھال سکے۔