بریکنگ نیوز
Home / کالم / صارفین کا پریشر

صارفین کا پریشر

اگرہم ہر سرکاری دفتراور ہسپتال میں بعض نجی اداروں کی طرح کوئی ایسا مشینی نظام نصب کر دیں کہ جس سے یہ پتہ چل سکے کہ کونسا اہلکار کس وقت صبح ڈیوٹی پر حاضر ہوتا ہے اور کس وقت رخصت ہوتا ہے تو اس میں کیا قباحت ہے ‘ کیا برائی ہے اور اس پر شور وغوغا کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ یہ تو رزق حلال کمانے کو یقینی بنانے کا ایک طریقہ ہے اگر سرکار ہر کمانے والے سے حصہ بقدرجثہ کے حساب سے یعنی جتنا وہ کما رہا ہے اس کے مطابق انکم ٹیکس وصول کرنے کیلئے ملک کی معیشت کو دستاویزی بناتی ہے تو اس پر بعض طبقوں کی طرف سے شور مچانے کی کیا ضرورت ہے ؟ ایسا تو ہوناچاہئے جو جتنا زیادہ کمائے اس کے مطابق حکومت کو ٹیکس بھی دے کہ حکومتیں ٹیکسوں سے ہی تو چلا کرتی ہیں ورنہ پھر بجز اس کے کوئی راستہ نہیں رہتا کہ آپ قرضوں پہ قرضے لیتے چلے جائیں حتیٰ کہ آپ اس کے بوجھ تلے دب جائیں، ہم میں ایک بری عادت پیدا ہو چکی ہے ہم میں سے ہر ایک اپنے حقوق کی با ت کرتا ہے ‘ فرائض کا ذکر نہیں کرتا ایک مرتبہ سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے کیا خوب بات کہی کہ کوئی امریکی یہ سوال نہ کرے کہ امریکہ نے اس کو کیا دیا وہ اپنے آپ سے یہ سوال کرے کہ اس نے امریکہ کو کیا دیا وطن عزیز ایک عجیب قسم کی ہیجانی کیفیت سے دو چار ہے ہر شخص پریشان حال ہے کونسا محکمہ ہے کہ جہاں اہلکاروں کی مٹھی گرم کئے بغیرآپ کا جائز کام بھی ہوسکتا ہو۔ ہم اتنے بے حس اور خوار ہو چکے ہیں کہ روزوں جیسے مقدس مہینے میں بھی غریبوں کا معاشی استحصال کرنے سے اپنے ہاتھ نہیں روکتے ہر شے کو ہم نے آلودہ کر دیا ہے نہ پانی شفاف ہے اور نہ اشیائے خوردنی حتیٰ کہ ادویات کو بھی ہم نے نہیں بخشا اس میں بھی ملاوٹ کیا جا رہی ہے جو سرکاری اہلکار اس قسم کی غیر قانونی حرکات کرنے والوں کو پکڑنے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنے پر مامور ہیں ۔

وہ ان سے پس پردہ ملے ہوئے ہیں ان کو ان کے گھر میں رشوت کا حصہ پہنچ جاتا ہے وقت کا تقاضا یہ ہے کہ سول سوسائٹی خود اٹھے اور کچھ کرے اب دیکھیں نارمضان شریف کے ابتدائی ایام میں اشیائے خوردنی بشمول فروٹ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا چند بڑے شہروں میں سول سوسائٹی کی صارفین کی کمیٹیوں نے کہ جن کو عرف عام میں اب کنزیومر سوسائٹیز کہا جاتا ہے فیصلہ کیا کہ ہفتے میں تین دن رضاکارانہ طور پر لوگ فروٹ نہیں خریدیں گے چنانچہ گزشتہ جمعہ ہفتہ اور اتوار کے روز جب انہوں نے اپنے اس فیصلے پر عملدرآمد کیا تو یکدم فروٹ کی قیمتیں مارکیٹ میں30 فیصد تک گر پڑیں یہ یقینی طور پرایک حوصلہ افزا نتیجہ تھا۔

اس طرح اگرہر پاکستانی یہ فیصلہ کرے کہ اگر دودھ ‘ دہی ‘ گوشت ‘ سبزیاں وغیرہ غرضیکہ ہر قسم کی اشیائے خوردنی فروخت کرنیوالے اگران اشیاء کو مہنگے دام بیچیں گے تو وہ ہر ہفتے ان کا تین روز بائیکاٹ کریں گے اور یہ بائیکاٹ پھر مکمل طور پر ہونا چاہئے تو آپ دیکھیں گے کہ مہنگائی کا یہ طوفان کیسے ختم ہوتا ہے ہمیں افسوس اس با ت کا ہے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی نے اس طرف خاص توجہ ابھی تک نہیں دی وہ بات بات پر دھرنے تو دیتے ہیں لیکن کسی کو خیال نہ آیا کہ وہ عوام الناس کی جان مہنگائی کی مصیبت سے چھڑانے کیلئے ان کومہنگی اشیاء کا رضا کارانہ طور پر بائیکاٹ کرنے کی طرف راغب کرنے کیلئے دھرنے دیں سیمینارمنعقد کریں ان میں شعور پیدا کرنے کی کوشش کریں یہی وجہ ہے کہ سول سوسائٹی نے مجبور ہو کہ یہ کام خود شروع کر دیا ہے کہ اس مشن کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔