بریکنگ نیوز
Home / کالم / دہشت گردی کی مالی معاونت: سنجیدخطرہ!

دہشت گردی کی مالی معاونت: سنجیدخطرہ!


بھارت کے خفیہ ادارے ’را‘ اور داعش گٹھ جوڑ مفروضہ نہیں بلکہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے‘ جس کی وجہ سے پورے خطے کا امن داؤ پر لگا ہوا ہے۔ کچھ عرصہ قبل عراق میں داعش نے کچھ بھارتیوں کو یرغمال بنا لیا تھا بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال مذاکرات کے لئے گئے تھے۔ ان مذاکرات کے دوران را داعش اتحاد کی بنیاد پڑی۔ اس کے بعد دوسرے کئی ممالک کے لوگوں کو عرب ممالک میں اغوا کیا گیا‘ ان کو ذبح تک کر دیا گیا مگر بھارت کے لوگ داعش کے ہاتھوں ہر نقصان سے محفوظ چلے آ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ داعش کے اپنے کچھ مذموم مقاصد اور عزائم ہیں وہ دنیا خصوصی طور پر مسلم ممالک میں اپنے نظریات ٹھونسناچاہتی ہے۔ساتھ ساتھ وہ بھارت سمیت کچھ عالمی طاقتوں کی بھی آلہ کار ہے۔ کچھ ممالک اسکی فنڈنگ اس کی دہشت گردی سے بچنے کیلئے کرتے ہیں کچھ بڑی رقوم دیکر اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ان میں بھارت سرفہرست ہے جو داعش اور افغانستان میں موجود کالعدم ’ٹی ٹی پی‘ کے مفرور اور پاکستان کو مطلوب دہشتگردوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ افغانستان چور مچائے شور کے مصداق پاکستان کو اپنے ہاں ہونے والی دہشتگردی کا ذمہ دار قرار دیتا ہے مگر جب پاکستان سرحد پار دہشتگردی کو روکنے کے اقدام اٹھاتا ہے تو افغانستان کی دم پر پاؤں آ جاتا ہے وہ بارڈر مینجمنٹ کی شدید مخالفت کرتا ہے اگر پاک افغان بارڈر سیل ہو جائے۔ آمدروفت کیلئے دستاویزات ضروری قرار دے دی جائیں تو دہشتگردوں کے سرحد پار آنے جانے کا سلسلہ کم ترین ہو جائیگا۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے بیٹے کے جنازے میں یکے بعد دیگرے تین خودکش دھماکوں کے نتیجے میں بیس افراد ہلاک اور نوے سے زائد زخمی ہوئے۔ نماز جنازہ میں چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ بھی شریک تھے تاہم وہ محفوظ رہے افغان میڈیاکے مطابق دارالحکومت کابل کے علاقے خیر خانہ کے قبرستان میں اس وقت یکے بعد دیگرے تین دھماکے ہوئے جب ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے بیٹے سالم ایزدیار کی نماز جنازہ ادا اور تدفین کی تیاری کی جا رہی تھی۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھاکہ انکی تحریک کا نمازجنازہ میں ہونیوالے دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں ڈپٹی چیئرمین سینٹ ایزدیار کا بیٹا جاری مظاہروں میں گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا تھا۔ بدھ کے روز ہونے والے دھماکوں کے بعد کابل میں بیشتر علاقوں میں کرفیو لگا ہوا ہے۔ ان دھماکوں میں نوے افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ دریں اثناء لندن میں دہشت گردی کے واقعے میں چھ افراد ہلاک اور اڑتالیس زخمی ہوئے جبکہ پولیس نے تین مشتبہ افراد کو گولی مار کر ہلاک کیا۔ لندن اور کابل میں ہونیوالی دہشتگردی میں سردست کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم ایسے دنیا بھر میں ہونے والے واقعات میں داعش ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔مانچسٹر کے کنسرٹ میں ہونیوالے دھماکوں کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی تھی کابل میں گذشتہ ہفتے بدترین دہشت گردی میں نوے افراد ہلاک ہوئے جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی اس تباہ کن اور ہلاکت خیز دہشتگردی کی واردات کے خلاف کابل میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا‘ اسی مظاہرے میں افغان سینٹ کے ڈپٹی چیئرمین کے بیٹے پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔ اس نوجوان کی تدفین کے موقع پر ایک اور دھماکے میں ایک سو دس افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں! داعش کے خلاف عراق میں بھرپور کاروائی ہوتی نظر آتی ہے۔

جہاں داعش سے مقبوضات خالی کرانے میں کامیابی حاصل ہو رہی ہے مگر وہ شام میں بدستور مضبوط ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بڑی تیزی سے باقی دنیا میں پھیل کر طاقت پکڑتی جا رہی ہے آج کل اس نے برطانیہ کو خصوصی طور پر نشانہ بنا رکھا ہے اور ماضی میں بھی یورپ میں خونریز حملے کرتی رہتی ہے عراق اور شام کے بعد داعش نے افغانستان میں مضبوطی سے پنجے گاڑ لئے ہیںیہاں وہ بیک وقت حکومت اور طالبان دونوں کیساتھ برسر پیکار ہے۔ اجڑے ہوئے اس ملک میں داعش کے مقبوضات میں اضافہ ہو رہا ہے۔افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی ایکسپورٹ ہوتی ہے۔ بھارت افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال کرتا ہے۔ بھارت افغان انتظامیہ کی مرضی کے خلاف ایسا ہرگز نہیں کر سکتا۔ افغان حکمرانوں کو قومی مفادات سے زیادہ ذاتی معاملات سے دلچسپی ہے۔بھارت کی طرف سے اربوں روپے کے فنڈز افغانستان کو فراہم کئے جاتے ہیں جنکا کوئی آڈٹ ہے نہ باز پرس ہوتی ہے اس لئے عرصہ دراز سے افغان حکمران نہ صرف بھارت کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں بلکہ اس کی زبان بولتے اور اس کی کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتے چلے آ رہے ہیں افغان حکمرانوں کو حالات کی سنگینی کا ادراک ہونا چاہئے کہ آخر یہ لوگ کب تک اپنے ہم وطنوں کی لاشوں پر اپنے ادنیٰ مفادات کے محلات تعمیر کرتے رہیں گے عالمی برادری کو بھی مصلحتوں کو توجہ دینا ہوگی کہ دہشتگردی دہشتگردی ہے وہ داعش کرے، القاعدہ کرے یا کوئی دوسری تنظیم افراد یا ممالک۔ دہشت گردی عالمی امن کیلئے خطرہ ہے اور اس خطرے کا دنیا کو مقابلہ کرنیکی ضرورت ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: افتخار احمد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)