بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / کوہستان ویڈیو سکینڈل کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا

کوہستان ویڈیو سکینڈل کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا

کوہستان ۔صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں نامعلوم افراد نے ایک مکان کو نذر آتش کردیا جس کے نتیجے میں دو نومولود سمیت 3 بچے جل کر جاں بحق ہوگئے۔متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ واقعہ نے کوہستان ویڈیو اسکینڈل کیس کو نیا رخ دیا ہے ٗ

واقعہ کے حوالے سے مکان کے مالک نے دعویٰ کیا ہے کہ گادر پالاس میں اس کے مکان کو آگ افضل کوہستانی اور اس کے 3 بھائیوں نے لگائی۔انہوں نے کہاکہ واقعہ میں 15 ماہ کی حسینہ، 9 ماہ کی عاصمہ اور 3 سال کا عارف جل گئے جبکہ صرف حسینہ کی لاش برآمد ہوئی ہے تاہم دیگر بچوں کی لاشیں نہیں مل سکیں۔

پولیس افسر کے مطابق واقعہ بظاہر کوہستان ویڈیو اسکینڈل کیس کا بدلہ معلوم ہوتا ہے۔تباہ حال مکان کے مالک محمد شریف نے ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا کہ افضل کوہستانی اور اس کے تین بھائی رات میں آئے اور مکان کو آگ لگا کر فرار ہوگئے۔دوسری جانب افضل کوہستانی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یہ جرم نہیں کیا اور یہ ان کے خلاف مخالفین کی سازش ہے۔

افضل کوہستانی کا کہنا تھا کہ میں نے انسانوں کو نہیں مارا اور کوہستان میں ہمارا داخلہ منع ہے ٗ میرے بھائیوں اور لڑکیوں کے قتل کیس کو واپس لینے کیلئے مخالفین مجھ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، میں عدالت میں اس کیس کا دفاع کررہا ہوں تو قانون کو ہاتھ میں کیوں لینا چاہوں گا۔

انھوں نے ایک ویڈیو کے ذریعے حکومت سے خود کو اور ان کے اہل خانہ کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین میرے دیگر بھائیوں کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔پولیس نے بچوں کی ہلاکت سے متعلق ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔یاد رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان کے ایک نوجوان نے 2012 میں میڈیا پر آکر یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان کے 2 چھوٹے بھائیوں نے شادی کی ایک تقریب کے دوران رقص کیا جس پر وہاں موجود خواتین نے تالیاں بجائیں۔

تقریب کے دوران موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو بعد میں مقامی افراد کے ہاتھ لگ گئی جس پر مقامی جرگے نے ویڈیو میں نظر آنے والی پانچوں لڑکیوں کے قتل کا حکم جاری کیا جبکہ بعد ازاں ان لڑکیوں کے قتل کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔قبائلی افراد کی جانب سے ویڈیو میں موجود لڑکوں اور لڑکیوں کو قتل کرنے کے احکامات جاری ہونے کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد اپیکس کورٹ نے 2012 میں معاملے پر ازخود نوٹس لیا تھا۔

تاہم وفاقی اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے اس واقعے کی تردید کی بعد ازاں سپریم کورٹ کے حکم پر کوہستان جانے والی ٹیم کے ارکان نے بھی لڑکیوں کے زندہ ہونے کی تصدیق کردی تھی۔گذشتہ سال اکتوبر میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت کوہستان ویڈیو اسکینڈل کے معاملے پر سماجی رضاکار فرزانہ باری نے بھی لڑکیوں کے قتل سے متعلق شواہد پر مبنی دستاویزات اور ویڈیو عدالت میں جمع کرائی تھیں جس کے مطابق جو لڑکیاں کمیشن کے سامنے پیش کی گئیں تھیں وہ ویڈیو میں نہیں تھیں۔ویڈیو میں دکھائی دینے والے لڑکوں میں سے ایک لڑکے کے بھائی محمد افضل کوہستانی نے قتل سے قبل بذریعہ میڈیا اپنے بھائی کی جان بچانے کی درخواست بھی کی تھی۔