بریکنگ نیوز
Home / کالم / انتخابی مہم شروع ہوچکی ؟

انتخابی مہم شروع ہوچکی ؟


اگر الطاف حسین لندن میں بیٹھ کر کراچی میں موجود اپنے ہم خیالوں کو بدستور ہدایات جاری کر رہے ہیں تو سندھ کے دارالحکومت میں عشرت العباد ‘ ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفی کمال بھی اس تگ و دو میں ہیں کہ یہ پارٹی ان کو وراثت میں مل جائے ۔ باتیں تو ان متحارب گروپوں کے رہنماؤں کی بالکل سچی ہیں خدا خود ان کے منہ سے حقائق نکال رہا ہے ۔ ایم کیو ایم کے اندر جو شکست و ریخت کا عمل جاری ہے اس نے اس پارٹی کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں اسی کو تو مکافات عمل کہتے ہیں عشرت العباد کو مصطفی کمال رشوت العباد کے نام سے پکارتے ہیں خدا لگتی یہ ہے کہ سندھ کے گورنر میں کوئی گیدڑ سنگھی تو موجود ہے جب ہی تو وہ گزشتہ چودہ برس سے سندھ کی گورنری کر رہے ہیں انہوں نے سندھ میں ہر اس گروہ یا طبقے سے بنا کر رکھی ہوئی ہے کہ جو سیاسی قوت رکھتا ہے سیاست کی زبان میں عشرت العباد جیسے شخص کو The Great Survivor کہا جاتا ہے وطن عزیز کے محب وطن لوگوں کو یہ خدشہ ضرور ہے کہ کہیں پی پی پی یا (ن) لیگ ایک مرتبہ پھر ان رہنماؤں کو گلے نہ لگا لے کہ جو الطاف حسین کے ساتھی سنگھی ہیں۔

اور جنہوں نے لندن میں پاکستان کے خلاف نعرے لگائے تھے کیونکہ سیاسی مصلحت بہت بری شے ہے اور جن دو سیاسی پارٹیوں کے نام ہم نے لئے ہیں وہ سیاسی مصلحت میں ید طولیٰ رکھتی ہیں اگر خدا نخواستہ ایسا ہوتا ہے تو پھر اس قوم اور ملک کے وہ لوگ اتنے مجرم نہ ہونگے کہ جنہوں نے پاکستان کے خلاف نعرے لگائے کہ جتنے وہ لوگ ہوں گے کہ جو ان کو لے لگائیں گے اس ملک کا المیہ ہے کہ یہاں ماضی میں کرپٹ لوگوں کو کبھی بھی قرار واقعی سزا نہ مل سکی کبھی این آر او جیسا قانون ان کوبچا گیا تو کبھی کوئی اور قانونی موشگافی ان کی گلو خلاصی کا باعث بنی۔کچھ تو ہوتا ہے محبت میں جنوں کا اثر اور کچھ لوگ دیوانہ بنا دیتے ہیں آج کل الیکٹرانک میڈیا سیاسی رہنماؤں کی شخصیت سازی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے یہ وہی کام کر رہا ہے جو ماضی میں اکثر فلموں کے فلمساز اپنی اپنی فلموں کی نمائش سے بیشتر ان کے ٹریلرز سینما ہاؤسز میں چلاتے تھے یہ پبلک ریلیوں کی ٹیلیویژن چینلز پر لمحہ بہ لمحہ کوریج فلمی ٹریلرز سے کم نہیں ۔ عوام کا کیا ہے؟ جو سیاسی رہنما ان کو سالہا سال تک لوٹتے رہے ہیں ۔

عوام ان ہی کے چرنوں میں بیٹھ جاتے ہیں اقبال نے یوں ہی تو نہیں کہاکہ جمہوریت وہ طرز حکومت ہے جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تو لا نہیں کرتے ۔ گزشتہ دنوں بلاول نے کراچی میں پی پی پی کی جس ریلی کی قیادت کی اس کے دائیں بائیں وہی پرانے سیاسی چہرے نظر آئے کہ جو اس ملک کی لوٹ کھسوٹ میں زرداری کا پانچ سال تک ساتھ دیتے رہے وہ خوشی سے اتنے دیوانے ہو رہے تھے کہ جس کنٹینر پر بلاول بیٹھے ہوئے تھے اس کے سامنے انہوں نے ڈانس بھی کیا وہ یہ بھول گئے کہ یہ ریلی تو وہ نکال رہے ہیں ان شہداء کی یاد میں کہ جو بم دھماکہ میں مارے گئے تھے ان کو تو ڈانس کی بجائے قرآن پاک کی آیتیں پڑھنی چاہئے تھیں تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں نے ملک میں جلسے کرنے شروع کر دیئے ہیں نظر یہ آ رہا ہے کہ 2018ء میں ہونے والے الیکشن کی غیر اعلانیہ انتخابی مہم شروع ہو چکی ہے جو یقیناًایک طولانی مہم ہوگی امریکی صدارتی انتخاب کی مہم سے بھی زیادہ لمبی ‘ جہاں تک پی پی پی کا تعلق ہے جب تک بلاول اپنا کرشمہ پنجاب میں نہیں دکھائیں گے 2018ء میں مرکز میں پی پی پی کے حکومت بنانے کے مواقع مخدوش رہیں گے۔