بریکنگ نیوز
Home / کالم / چہرے نہیں نظام کو بدلو

چہرے نہیں نظام کو بدلو


پاکستان بننے کے بعد جس بات کو سب سے زیادہ سنا وہ یہی تھی کہ چہرے نہیں نظام کو بدلو۔1958 سے قبل تو چہرے بدلنے کا اتنا زیادہ رواج تھا کہ ہندوستان کے وزیر اعظم نہرو نے کہا کہ میں اتنے پاجامے نہیں بدلتا جتنا پاکستان میں وزیر اعظم بدلتے ہیں۔لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد خواجہ ناظم الدین کو وزیر اعظم بنایا گیا اس کا کرائٹیریا کیا تھا اس کا تو ہمیں معلوم نہیں بغیر کسی نظام کے ہی وزیر اعظم بدلے جاتے تھے۔لیاقت علی خان صاحب کو قوم نے قائد ملت کا خطاب دیا تھا اور جب خواجہ صاحب وزارت عظمیٰ کی مسند پر تشریف فرما ہوئے تو بد قسمتی سے ملک میں قحط پڑ گیا ۔ خواجہ صاحب جسامت میں بھی اچھے خاصے تھے‘اس لئے اُن کو قوم کی طرف سے قائد قلت کا خطاب مرحمت کیا گیا۔ خواجہ صاحب کے بعد تو وزرائے اعظم کی لائن ہی لگ گئی ایک دفعہ یوں ہوا کہ آئی آئی چندریگر کو وزیر اعظم مقرر کیا گیا ۔ خدا کا کرنا کہ ان ہی دنوں سکولوں میں سالانہ امتحان بھی شروع ہو گئے تاریخ کے پرچے میں سوال آ گیا کہ پاکستان کا وزیر اعظم کون ہے۔

لڑکوں نے جواب میں آئی آئی چندریگر لکھ دیا ۔ دوسرے دن پتہ چلا کہ آئی آئی چندریگر تو گئی گئی چندریگر ہو گئے ہیں۔ اب لڑکوں کا برا حال ۔ وہ ہر نماز میں یہی دعا کرتے تھے کہ یا اللہ جس وقت ممتحن ہمارے پرچے مارک کرے تو اُ س وقت وزیر اعظم آئی آئی چندریگر ہو تاکہ ہمارے نمبر کٹ نہ جائیں۔یہ صورت حال 1958 تک رہی اور اس سال صدر سکندر مرزا نے ملک میں ماشل لاء لگا دیا اور جنرل ایوب خان کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر لگا دیا ۔چند ہفتے بعد ایوب خان نے صدر سکندر مرزا کی بھی چھٹی کرا دی اور حکومت کا سا را نظام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ایوب خان کی خواہش تھی کہ ملک کا نظام بہتری کی طرف جائے چنانچہ اُنہوں نے نہایت ہی لائق بیوروکریٹس کو لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں ہر طرح کی ترقی کا دور دورا ہوا کئی بڑے اور چھوٹے ڈیم بنائے گئے پورے ملک میں نہروں کا جال بچھایا گیا ۔ دنیا سے بہترین بیج منگوائے گئے جن سے گندم ، چاول اور گنے کی پیداوار میں اضافہ ہو ا اور ملک غذائی اجناس میں خود کفیل ہو گیا۔اسی طرح ملک میں صنعتوں کے فروغ کیلئے اقدامات کئے گئے اور صنعتی ترقی نے ملک سے بے روزگاری کا تقریباً خاتمہ کر دیا۔ملکی ترقی کا یہ حال تھا کہ بڑی طاقتوں کو خدشہ پیدا ہو گیا کہ اگر پاکستان اسی طرح ترقی کی راہ پر لگا رہا تو یہ اُن کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔چنانچہ اس حکومت کے خلاف ایک بغاوت کا سا ماحول پیدا کر دیا گیا چنانچہ ایوب خان حکومت کی باگ ڈور یحیےٰ خان کے سپرد کر کے حکومت سے علیحدہ ہو گئے یحییٰ خان نے الیکشن کروائے تو مشرقی اور مغربی پاکستان میں دو پارٹیوں نے اس طرح اکثریت حاصل کی کہ مشرقی پاکستان کی پارٹی کی نمائندگی مغربی حصے میں صفر تھی اور مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی کو مشرقی حصے سے صفر نمائندگی ملی۔

بات اقتدار کی تھی اور اقتدار کی رسہ کشی میں پاکستان دو لخت ہو گیا۔مغربی حصے میں جو پارٹی اقتدار میں آئی اُس نے پہلا کام یہ کیا کہ جن لوگوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت کی تھی اُن کواپنے ایجنڈے کے مطابق ’ فکس اپ‘ کرنا شروع کیا جس میں زمین کاشتکار کی اور کارخانہ مزدور کا۔ ساری صنعتیں قومیالی گئیں‘ تاہم اس اقدام نے صنعتی اور زرعی ترقی کا پہیہ یک دم روک دیا جس کا حل یہ نکالا گیا کہ بھٹو حکومت کے سارے دور میں لوگ راشن کارڈ لئے بیس بیس سیر گندم کیلئے ڈپوؤں پر رلتے رہے۔اس دور میں سیاست دانوں نے انتخابات میں دھاندلی کا شور مچا کر اتنا غدر مچایا اور فوجی سربراہ کو خط لکھ لکھ کر اتنا مجبور کیا کہ فوج نے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی اور نوے دن میں نئے انتخابات کا عندیہ دے دیامگر سیاسی پارٹیوں نے پہلے احتساب پھر انتخاب کا نعرہ لگا دیا۔چنانچہ احتساب کے نتیجے میں ملک کے منتخب وزیر اعظم کو ایک قتل کے کیس میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ کئی وزیروں اور کارکنوں کو کوڑوں کی سزائیں دی گئیں اور نوے دن میں انتخابات کا وعدہ دس سال تک چلا گیا ۔ اسکے بعد بھی سیاسی چپقلشوں نے سیاست کو ملک بدر کیا اور بڑی مشکل سے سیاسی جماعتوں نے اتحاد کر کے ملک کو جمہوریت کی راہ پر ڈالا مگر ایک دفعہ پھر یہی لگتا ہے کہ بات ادھر ہی جا رہی ہے جدھر پرویز مشرف کے آنے سے قبل تھی اسلئے کہ ایک پارٹی کی خواہش پوری نہیں ہوئی اور وہ ہر طرح سے وزیر اعظم سے استعفے کی خواستگار ہے۔پہلے دھاندلی کا مسئلہ اٹھایا‘ وہاں دال نہ گلی توپانامہ پیپرز کا مسئلہ اُٹھ کھڑا ہو گیا ہے جس کیلئے فورم تو موجود ہیں ہاں اگر کوئی اُن پر اعتماد کرے تو‘اور اس پر دارالخلافہ کو بند کرنے کی دھمکی ہے اب دیکھیں دارالخلافہ بند ہوتا ہے یا جمہوریت ہی بند ہو جاتی ہے ۔