بریکنگ نیوز
Home / صحت / ایک خوراک سے 30 روز تک ذیابیطس پرکنٹرول

ایک خوراک سے 30 روز تک ذیابیطس پرکنٹرول

نارتھ کیرولائنا: ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کو روزانہ انسولین کے انجکشن لگوانے پڑتے ہیں جو ایک تکلیف دہ عمل ہے لیکن ماہرین نے اب ایک ایسا طریقہ وضع کر لیا ہے جس کی بدولت مہینے میں صرف ایک سے دو مرتبہ ہی انسولین کا انجکشن لگوانا کافی رہے گا اور مریضوں کو ہر روز اس اذیت سے گزرنا نہیں پڑے گا۔

ذیابیطس کی بعض جدید ترین دواؤں میں ’’گلوکوگان لائک پیپٹائیڈ 1‘‘ یا مختصراً ’جی ایل پی1‘ (GLP1) کہلانے والا ایک مالیکیول موجود ہوتا ہے جو جسم میں اس وقت انسولین کی پیداوار بڑھا دیتا ہے جب گلوکوز کی مقدار اضافی ہونے لگے اور اس طرح وہ خون میں شکر کی مقدار کنٹرول میں رکھتا ہے۔

اپنی بہترین خصوصیات کے باوجود جی ایل پی1 جب انسانی جسم کے اندر پہنچتا ہے تو بہت جلد ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہوجاتا ہے اور یوں اپنا بھرپور فائدہ نہیں دے پاتا۔ اگرچہ جی ایل پی1 کے ساتھ کچھ مزید سالمات (مالیکیولز) شامل کرکے اس کی پائیداری میں اضافہ ضرور کیا گیا ہے لیکن تب بھی یہ 3 سے 7 دن کے اندر اندر گھل کر ختم ہوجاتا ہے۔

لیکن نئی حکمتِ عملی کے تحت سائنسدانوں نے جی ایل پی1 کو اس قابل بنالیا ہے کہ یہ جسم میں دو ہفتوں سے بھی زیادہ عرصے تک اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے اور یوں ایک طویل عرصے تک ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کو انسولین کے انجکشن سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔

ریسرچ جرنل ’’نیچر بایومیڈیکل انجینئرنگ‘‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق نارتھ کیرولائنا، امریکا کی ڈیوک یونیورسٹی اور ایک نجی تحقیقی ادارے کے ماہرین نے مشترکہ طور پر کام کرتے ہوئے جی ایل پی1 کو ایک بایو پولیمر کے ساتھ ملا کر ایسا مادہ بنالیا ہے جو سرد حالت میں گاڑھے سیال کی شکل میں ہوتا ہے لیکن جب اس کا سامنا انسانی جسم کے نسبتاً گرم درجہ حرارت سے ہوتا ہے تو وہ جیلی دار مواد جیسی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

جیلی دار شکل میں آجانے کے باعث یہ مادّہ بڑی آہستگی سے جی ایل پی1 کا اخراج کرتا ہے اور یوں ایک لمبے عرصے تک خون میں شکر کی مقدار کنٹرول کرسکتا ہے۔ ٹائپ 2 ذیابیطس سے متاثرہ چوہوں اور بندروں پر کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ اس مادّے نے چوہوں میں 10 دن تک بلڈ شوگر کنٹرول کیے رکھی جبکہ قدرے سست رفتار استحالہ (میٹابولزم) کی وجہ سے بندروں میں اس سے بلڈ شوگر کنٹرول میں رہنے کا دورانیہ 17 دن تک نوٹ کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان میں میٹابولزم کی رفتار بندروں سے بھی کم ہوتی ہے اس لیے توقع ہے کہ یہ مادّہ انسانوں میں ایک ماہ تک بلڈ شوگر کنٹرول میں رکھ سکے گا۔ البتہ اس بات کی حتمی تصدیق انسانوں پر تجربات کے بعد ہی ہوسکے گی اور ابتدائی انسانی تجربات کےلیے متعلقہ اداروں کو درخواست دے دی گئی ہے۔

اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو امید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ چار سے پانچ سال تک ذیابیطس کی یہ دوا بازار میں دستیاب ہوجائے گی اور یوں ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کو مہینے میں صرف ایک بار ہی دوا لینا کافی رہے گا۔