بریکنگ نیوز
Home / کالم / کہیں تو قافلۂ نو بہار ٹھہرے گا

کہیں تو قافلۂ نو بہار ٹھہرے گا


قریب قریب عصر کے ادھر اْدھر سے بادل اکٹھا ہونا شروع ہوگئے تھے اور مغرب تک آسمان بھر چکا تھا افطاری کے فوراََ بعد چند چھینٹے بھی پڑے مگر پھر زوردار ہوائیں آئیں توپہلا خیال یہی آیا کہ اب یہ ہوائیں بادلوں کو نہ جانے کس طرف دھکیل دیں گی،پہلے آسمان کے کنارے سرخ ہوئے اور پھر ہوائیں جھکڑ میں بدل گئیں اورچینلز پر پشاور میں طوفان الرٹ کے ٹکر چلنا شروع ہو گئے، اس سب کے باوجود بادلوں کی استقامت برقرار رہی اور پھر رات گئے سحری تک ایسے ٹوٹ کے برسے کہ دیکھتے ہی دیکھتے گلیاں نہروں کا منظر پیش کرنے لگیں اور رمضان امبارک کے پہلے عشرے اور خصوصاََ آخری تین چار دن کی جھلسا دینے والی گرمی سے مر جھائے ہوئے چہرے کھل اٹھے۔اس بارش کی پیش گوئی تو محکمہ موسمیات کے ماہرین نے دو ایک دن پہلے کر دی تھی اور سچی بات ہے کہ مسلسل گرم رہنے والے دنوں کی اطلاع دینے والے محکمہ کی اس دل خوش کن خبر سے گرمی کی شدتوں سے نالاں و پریشان چہروں پر قدرے آسودگی کے تاثرات پیدا ہوئے ہیں، ورنہ جب سے جیٹھ کے مہینے میں ہاڑ کی پکھ (پکش)لگی ہے سورج سوا نیزے پہ آگیا تھا اور شب و روز جیسے دہکتے ہوئے گزر رہے تھے پھردن کو تو سورج جھک جھک کر احوال پرسی بھی کرتا رہااور یار لوگ میر تقی میر کی طرح جواب میں یہ تک نہ کہہ سکے

حالِ بد گفتنی نہیں، لیکن
تم نے پوچھا تو مہربانی کی

کیونکہ سورج کا اتنا قریب آ کر مزاج پرسی اور پرسش احوال کرنا ایسا ہی ہے جس کے لئے کہا جاتا ہے۔’’ مجھ پہ احساں جو نہ کرتے تو یہ احساں ہوتا ‘‘ دن کی تو ایک رہی یہ بارش سے صرف ایک دن پہلے کی بات ہے جب دوستِ مہربان کمانڈر خلیل کی طرف سے افطارڈنر کی دعوت ملی توکہہ دیا کہ افطاری کے لئے تو ہمت نہیں البتہ دیر سے سہی مگر ڈنر کے لئے کوشش کرتا ہوں اور حسب وعدہ رات نو بجے کے بعد گھر سے نکلا تو ایسی لو چل رہی تھی کہ توبہ ہی بھلی بلکہ چند گھنٹے تو ان کے یخ بستہ ڈرائینگ روم میں کرکٹ،ادب اور حالات حاضرہ پر گفتگو کے دوران تو بھول ہی گیا کہ واپس بھی جانا ہے رات بارہ بجے کے بعد ان کے گھر سے باہر آیا تو حیرانی ہوئی کہ شب کے تیسرے پہر بھی گرمی اور گرم ہوا کی حالت ویسی ہی ہے۔اس لئے موسمیات کے ماہرین کی ٹھنڈی ہواوءں اور بارش کے چھینٹے کی یہ پیش گوئی بھلی لگی تھی کہ چلئے کچھ دن تو بہتر گزرنے کی امید بندھ گئی ہے، اور اب جو گزشتہ رات بادل ٹوٹ کر برسا ہے تو مزہ ہی آ گیا موسمیات کے ماہرین کی زبانی یہ بھی سنا ہے کہ بارشوں کا یہ سلسلہ جمعہ تک جاری رہے گا۔ اور لگتا ہے کہ ایسا ہی ہو گا کیونکہ سوموار کی شام کا کہا گیا تھا کہ ہوائیں اور باران رحمت کا امکان ہے اور ایسا ہی ہوا اب موسم کی شدت میں بڑی حد تک کمی آ گئی ہے۔ اس موسم کے خوشگوار ہونے کے بعد یار لوگ اب پوچھتے ہیں کہ کچھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں یعنی یہ جوموسم سے بھی زیادہ گرمی ان دنوں چینلز پر نظر آ رہی ہے جہاں چند تھکے ہوئے خوش فکرے شام سے رات گئے تک اکٹھے ہو کر گرما گرم بحث و مباحثہ کے تنور میں اپنی اپنی ’’دانش کی روٹی‘‘ لگا رہے ہوتے ہیں اور بچارے ناظرین ایک دوسرے کو فضل حسین صمیم کی زبان میں ’’ پرسا ‘‘ دے رہے ہو تے ہیں۔

اپڑی اپڑی گوگی لا کے،لوکی خش ان سارے
تو تے میں تنور دا بالن، اک دوجے لئی سڑئیے
[ سارے (طالعّ آزما ) اپنی اپنی (غرض کی ) روٹی تنور میں لگا کر خوش ( اور مطمئن ) ہیں۔اور ساتھی! تم اور میں تو اس تنور کا ایندھن ہیں(نہ جانے کب سے ) ایک دوسرے کے لئے جل رہے ہیں ۔
شاید یہی وجہ تھی کہ جب میجر عامر نے ایک نجی چینل پرکامران خان کے ساتھ مکالمہ میں دو ٹوک انداز میں کہہ دیا تھا کہ کچھ ریٹائرڈ لوگ،میڈیا کے کچھ لوگ کچھ سکرین فائٹر ہر شام مختلف ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر جب ہر شعبے کے بزعم خود ایکسپرٹ بن کر تجزیہ کر رہے ہو تے ہیں تو در اصل یہ سب بہت سے معاملات کے حل ہونے کی راہ میں کھنڈت ڈال رہے ہوتے ہیں،اور اگر یہ تبصرے اور تجزیے حساس اداروں کے حوالوں سے ہو رہے ہوں تو معاملات اور بھی گھمبیر ہو جاتے ہیں کیونکہ بجائے ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کے ہم تم ان کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہو تے ہیں ۔ اور واقعی ایسا ہی ہے پشتو زبان میں اس حوالے سے کئی ایک کہاوتیں محاورے اور ضرب الامثال مو جود ہیں جیسے ایک روز مرہ یہ ہے کہ ’’ گرم وہ جگہ ہوتی ہے جہاں آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں‘‘ اور یہ بھی کسی اور کا غم برف سے زیادہ ٹھنڈا ہو تا ہے‘‘ اور میرے نزدیک سب سے خوبصورت اور دانش سے بھرا پشتو کا یہ روزمرہ یہ ہے، کہ ’’ تماشائی کا تیر ٹھیک ہدف پر پڑتا ہے‘‘ یا پھر جیسا کہ فارسی زبان میں کہا جاتا ہے کہ ’’ کجا دانند حال ما، سبکسارانِ ساحل ہا ‘‘ ( محفوظ ساحلوں پر کھڑے لوگ ،طوفان میں گھرے( اور طوفان سے نبرد آزما ) لوگوں کی حالت کا اندازہ کیسے لگا سکتے ہیں)، اور اگر اس بات کو قران پاک کی بصیرت میں دیکھا جائے تو بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے کیونکہ وہاں تو بار بار کہا گیا ہے ’’ ان سے پوچھو۔

کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے کبھی یکساں (برابر) ہو سکتے ہیں‘‘ جس کے ساتھ ہی جڑا ہوا یہ فیصلہ بھی سنا دیا گیا ہے کہ ’’ نصیحت تو عقل والے ہی قبول کرتے ہیں ‘‘ کون جانے کہ ان پر کتنے لوگ عمل پیرا ہیں حالانکہ دیکھا جائے تو اردو کا ایک محاورہ تو جیسے چھٹپن کے زمانے سے ہرشخص نے سن رکھا ہے جس کا کام اسی کو ساجھے مگر کیا جائے کہ دخل در معقولات کی عادت بھی ہمیں اسی زمانے سے پڑی ہوئی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہماری گھٹی میںیہ عادت بھی شامل کر دی گئی ہے کہ اپنے کام سے زیادہ توجہ ہم دوسروں کے کام پر تنقید کو دیتے ہیں ہمارا نشانہ دوسروں کی آنکھ کا تنکا ہوتا ہے جس پر بات کرتے ہوئے ہم اپنے کتنے ہی شب و روز خرچ کر دیتے ہیں مگرمجال ہے جو کبھی اپنی آنکھ کا شہتیر ہمیں نظر آیا ہو ویسے یہ بات محاورتاََ ہی کی جاتی ہے ورنہ دیکھا جائے تو شہتیر تو دور کی بات ہم جس آنکھ سے دنیا بھر کی اشیا کو آسانی سے دیکھ لیتے ہیں ۔کتنی ستم ظریفی ہے کہ اس آنکھ کو ہم خود کبھی دیکھ نہیں سکتے،آنکھ میں کچھ پڑ جائے تو دوسروں کی مدد لینا پڑ جاتی ہے یا پھر آئینہ کی طرف لپکنا پڑتا ہے جو ہمیشہ سے ہماری کمزوری رہا ہے ہم صبح شام جب جب موقع ملتا ہے آئینہ دیکھتے ہیں لیکن یہ بھی عجب بوالعجبی ہے کہ جہان یہ آئینہ ہمیں کسی اور نے دکھایا ہم برا مان جاتے ہیں اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ میجر عامر کی دلسوزی کو کتنے لوگ سمجھے ہوں گے۔اس لئے چینلز پر گرمی کی شدت اور حدت میں کمی آنے کا کوئی امکان نہیں موسمیات کے ماہرین کی وہاں تک رسائی نہیں اور سیاسی منجم تو خود ان میں شامل ہیں۔ سو ان کا مذکور کیابس ایک موہوم سی امید کی انگلی تھامے غلام ہمدانی مصحفی کے ہم زبان ہیں
چلی بھی جا جرس غنچہ کی صدا پہ نسیم
کہیں تو قافلۂ نو بہار ٹھہرے گا