بریکنگ نیوز
Home / کالم / رمضان کی برکتیں

رمضان کی برکتیں


بچپن سے ہماری دادیاں نانیاں اور ہمارے امام صاحب ہمیں بتاتے چلے آ رہے ہیں کہ سال میں ایک مہینہ ایسا آتا ہے جس کو ہم بجا طور پر اللہ کا مہینہ کہہ سکتے ہیں۔ اسلئے کہ مسلمان اس ماہ مبارک میں اپنی ساری دنیاوی خواہشات کو چھوڑ کر صرف اللہ کے حکم کی پابندی پر کمر باندھ لیتے ہیں۔دن بھر اپنی تمام خواہشات کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ سامنے کھانا رکھا ہے مگر بھوک اور انتہائی بھوک کے باوجود کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے۔ جون جولائی کی اس بے تحاشہ گرمی میں کہ جب چرند پرند بھی پیاس سے بے حال نظر آتے ہیں اپنے فرجوں میں ٹھندا پانی ہونے کے باوجود پیاس کی صعوبت برداشت کرتے ہیں مگرپانی منہ تک نہیں لاتے۔ سارا دن مزدوری بھی کرتے ہیں اور دھوپ بھی برداشت کرتے ہیں پیاس سے منہ خشک ہوتا ہے مگر کیا مجال کہ پانی کا ایک گھونٹ بھی حلق سے نیچے جائے۔ اس سب کچھ کے باوجود رات کو تراویح میں قران پاک سننے کی چاہت اپنی جگہ قائم ہے۔ دن رات میں ایک مزدور کو بمشکل چار پانچ گھنٹے نیند ملتی ہے مگر روزہ نہیں چھوڑتا۔ یہ ہمارے بچپن کی تربیت کا کمال ہے۔ ہم جب چھوٹے تھے تو ایک دوسرے سے مقابلے میں روزہ رکھتے تھے۔گو ہم پرروزے فرض تو نہیں تھے مگر شوق کا یہ عالم تھا کہ روزہ ضرور رکھنا ہے۔ عید کے دن ہم بڑے فخر سے بتاتے تھے کہ ہم نے دس روزے رکھے ہیں کوئی کہتا کہ میں نے پندرہ روزے رکھے ہیں۔ اور ہمارے امام صاحب بھی ہمیں شاباش کہتے کہ ہم نے روزے رکھے ہیں۔یہی عادت اب تک قائم ہے کہ چاہے ہم بیمار بھی ہوں تو بھی روزہ توڑناہمیں بہت ہی مشکل لگتا ہے۔رمضان کا واحد وہ مہینہ ہے کہ اس میں غریب سے غریب مسلمان کے گھر میں بھی ا فطاری کے وقت کھانے کے علاوہ کچھ نہ کچھ پھل اور کھجوریں بھی دسترخوان پر موجود ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عام دنوں میں اگر ایک پھل دس روپے کلو ہے تو رمضان میں وہ بیس روپے کلو بکتا ہے مگر سارے روزہ دار اس کو برداشت کرتے ہیں اور اپنی افطاری میں دستر خوان پر ضرور سجاتے ہیں۔

رمضان میں پھلوں اور دیگر اشیائے رمضان میں ہمارے دکان دار حضرات قیمتوں میں اضافہ بلکہ مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ اسے بد قسمتی ہی سمجھیں کہ دیگر مذاہب کے لوگ اپنے اپنے تہواروں اور بڑے دنوں میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں بہت زیادہ کمی کر دیتے ہیں تاکہ عوام اپنے تہواروں کو منانے میں تکلیف نہ محسوس کریں مگر ہم مسلمان تاجر ایسے ہی تہواروں کو اپنی تجوریاں بھرنے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے تاجروں کوجو وقتی فائد ہ ملتاہے وہ کسی بھی طریقے سے بمع سود نکل جاتا ہے مگر ہم اس کو سمجھ نہیں پاتے۔ ہم مسلمان ہر رمضان کے مہینے میں تاجروں کے ہاتھوں لٹتے رہتے ہیں مگر اس سال کچھ منچلوں نے تاجروں سے نہ لٹنے کا طریقہ نکال لیا ہے ۔ وہ یہ کہ پھل ایسی چیز ہے کہ جس کی زندگی بہت ہی کم ہوتی ہے۔یہ اگر ایک دو دن رہ جائے تو اتنا خراب ہو جاتا ہے کہ تاجر کو بجائے لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں اسلئے نوجوانوں نے سوشل میڈیا کو استعمال کیا اور سب لوگوں تک یہ پیغام پہنچایا کہ تین دن تک کوئی بھی شخص افطاری میں پھل استعمال نہیں کرے گا۔ بس کھجور سے روزہ کھول کر پانی پی لے گا اور بس۔ سب لوگوں نے تعاون کیا اور ایک ہی دن میں پھلوں کی قیمتیں بیس سے پچاس فی صدی تک نیچے گر گئیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ دکان دار خریداروں سے تین چار سو فی صد منافع کما رہے تھے۔اب عوام نے اصل حقیقت جان لی ہے اور یہ بھی کہ کھانے پینے کی ہر شے کا متبادل موجود ہے اسلئے اگر عوام چاہیں تو تاجروں اور منافع خوروں کو ’’ نتھ ‘‘ڈال سکتے ہیں ۔ حکومتیں اس معاملے میں ہمیشہ سے مجبور رہی ہیں ۔ اس لئے کہ حکومتوں میں موجود اسی فی صد لوگوں کا پیشہ تجارت ہے۔

اور ان میں اکثر بڑے بڑے آڑھتی ہیں جو چیزوں کی قیمتیں بڑھاتے ہیں اورعوام کو لوٹتے ہیں ۔ عوام مہنگائی کا رونا روتے ہیں تو ادارہ شماریات اشتہار دے دیتا ہے کہ ایک فی صد مہنگائی ہوئی ہے۔اس لئے حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی‘ حکومتی ارکان کیلئے ایک سے دو فی صد تک مہنگائی کوئی بات ہی نہیں ہے جب کہ یہ عوام کا خون نچوڑ لیتی ہے۔ کراچی ، لاہور اور اسلام آباد کے عوام نے بائیکاٹ کر کے قیمتیں کم کروا لیں مگر کے پی کے حکومت نے جو ریٹ پشاور کیلئے مقرر کئے ہیں ان میں موجودہ قیمتوں میں دس سے بیس روپے فی کلو اضافہ کر دیا ہے۔ اب پشاور کے عوام کو بھی کراچی ، لاہور اور اسلام آباد کے عوام کو مثال بنانا چاہئے اور پھلوں کی خریداری کا بائیکاٹ کرنا چاہئے تا کہ قیمتیں اپنی اصل میں رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر مسئلے کا حل موجود ہے اور مہنگائی کا علاج جہاں حکومت کے پاس ہے وہاں عوام بھی اس میں کردار ادا کرسکتے ہیں، جس کا مظاہرہ کراچی ، لاہور اور اسلام آباد والوں نے کیا، دیکھاجائے تو یہ سوشل میڈیا کا ایک مثبت پہلو ہے جس کے ذریعے کسی بھی مسئلے کے حوالے سے رائے عامہ کو ہموار کیاجاسکتا ہے۔