بریکنگ نیوز
Home / کالم / جواہر پارے

جواہر پارے

نہج البلاغہ میں درج تقاریر اور فرامین حکمت اور دانش سے لبریز ہیں آج اپنے کالم میں ہم سہل زبان میں کچھ اقتباسات اپنے قارئین کی خدمت میں نذر کرتے ہیں یہ دنیا ایک پھیلا ہوا سایہ ہے جو بس چند روز رہتا ہے اور پھر ڈھل جاتا ہے جس چیز کی گہرائیوں تک نگاہ نہ پہنچ سکے اور جس معاملے تک انسان کی فکر کی رسائی نہ ہو اس میں ہرگز اپنی رائے سے کام نہ لو یاد رکھو دنیا کا چشمہ گدلا اور گھاٹ دلدلی ہے یہ دیکھنے میں بھلی مگر اندر سے تباہ کر دینے والی ہے یہ مٹ جانے والا دھوکا‘ ڈھل جانے والا سایہ ڈوب جانے والی روشنی اور ٹوٹ جانے والا ستون ہے سچ کی تلاش ہے تو ان کے پاس جاؤ جو سچ پر قائم ہیں کہ یہی لوگ علم کی زندگی اور جہالت کی موت ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کا ہر کلمہ ان کے علم کا پتا دیتا ہے جن کی خاموشی ان کی گفتگو ہے اور جن کا ظاہر ان کے باطن کے آئینے کی طر ح چمکتا ہے یہ لوگ دین کی مخالفت نہیں کرتے اور نہ اس کے بارے میںآپس میں اختلاف کرتے ہیں دین ان کے درمیان سب سے اچھا سب سے سچا گواہ ہے اور ایک ایسا بے زبان ہے جو مسلسل بول رہا ہے دل کے اندھے کی نگاہ دنیا سے آگے نہیں جاتی عقل مند وہ ہے جو دل کی آنکھوں سے اپنا انجام دیکھ لیتا ہے یہ سمجھ لو کہ آنے والا کل گزرنے والے آج سے زیادہ قریب ہے آج کا دن اپنا سب کچھ لے کر چلا جائے گا اور آنے والا کل اس کے پیچھے پیچھے لگا ہوا ہے اور آیا ہی چاہتا ہے یہ لوگ نیک ہیں ان کی شان یہ ہے کہ ہنس رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے دل رو رہوتے ہیں اپنے اندر قابل تعریف خوبیاں پیدا کرو پڑوسیوں کے حق کی حفاظت کرو وعدے پورے کرو نیک لوگوں کا کہا مانو ‘ نیکوں کیخلاف چلنے والوں کی مخالفت کرو ہر ایک سے اچھا سلوک کرو اور ظلم اور جبر سے دور رہو خون نہ بہاؤ خدا کے بندوں کیساتھ انصاف کرو غصہ پی جاؤ اور زمین پر فساد نہ پھیلاؤ کہ یہی وہ خوبیاں ہیں جن پر انسان فخر بھی کر سکتا ہے اور نازبھی ایسے شخص کو اپنی بدی اور اپنے گناہ کاذمے دار نہ ٹھہراؤ جس کی نصیب اور جس کی تعلیم کو تم نے ماننے سے انکار کر دیا ہو تمہیں آج کا دن قریب لگتا ہے سچ تو یہ ہے کہ آنے والا دن زیادہ قریب ہے دن کے اندر لمحے گزرے جاتے ہیں۔

مہینوں کے اندر دن لپکے چلے جاتے ہیں سالوں کے اند ر مہینوں کی رفتار تیز سے تیز ہوتی جاتی ہے اور عمر کے اندر سال تو دیکھو کیسے دوڑے چلے جا رہے ہیںیاد رکھو کہ خود تمہارا ضمیر تمہارا نگران ہے اگر کسی سچ کو تم ناپسند کرتے ہو اس پر تمہارا متفق اور متحد ہونا کسی ایسے جھوٹ پر تمہارے منتشر ہونے سے اچھا ہے جسے تم پسند کرتے ہو یاد رکھو کہ دنیا سے بڑی بڑی امیدیں لگانا عقل کو بھول میں ڈال دیتی ہے اور اللہ کی یاد دل سے جاتی رہتی ہے آپ کا بولنا گویا بیان تھا آپ کی خاموشی گویا زبان تھی امید تو آنیوالے ہی سے ہوتی ہے جانیوالے سے تو مایوسی ہوتی ہے صبح ہو جائے تب ہی مسافروں کو احساس ہوتا ہے کہ رات کے سفر میں کتنے فائدئے تھے مومن کی زبان اسکے دل کے پیچھے اور منافق کا دل اسکی زبان کے پیچھے ہوتا ہے‘ وہ شخص خوش نصیب ہے جسے اپنے ہر عیب کی اتنی خبر ہو کہ دوسرے میں عیب نہ ڈھونڈتا پھرے اس دن سے ڈرو جب تمہارے کاموں کی چھان پھٹک ہو گی۔

اس روز سب کچھ لرز اٹھے گا یہاں تک کہ بچے بھی خوف سے بوڑھے ہو جائیں گے وہ نیک نامی جسے اللہ لوگوں میں عام کرادے اس مال و دولت سے کہیں اچھی ہے جسے انسان مر کر دوسروں کیلئے چھوڑ جائے دنیا کا کام ہے کہ صبح کو کسی کی دوست بن کر اس کی طرف سے بدلے لینے لگتی ہے تو شام ہوتے ہوتے ایسی انجان بن جاتی ہے جیسے کوئی جان پہچان نہ تھی تمہیں چاہئے کہ جو شخص دوسروں کے عیب جان لے وہ اپنی زبان بند رکھے کیونکہ اسے خود اپنے گناہ اچھی طرح معلوم ہیں یہاں کوئی نعمت اس وقت تک نہیں ملتی جب تک دوسری نعمت ہاتھ سے نکل نہ جائے تمہیں عمر کا ایک دن ملتا ہے تو ایک دن گھٹ بھی جاتا ہے جو شخص دنیا سے کم حصہ لیتا ہے وہ اپنے آرام کے سامان بڑھا لیتا ہے ۔ خبردار تم میں سے کوئی شخص اپنے عزیز یا رشتے داروں کو پریشان حال دیکھے تو اتنی امداد کسی جھجھک کے بغیر دے کہ جسے روک لینے سے تمہاری دولت بڑھے گی نہیں اور دے ڈالنے سے کوئی کمی نہیں آجائے گی ۔