بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بجٹ سے وابستہ توقعات‘ خدشات

بجٹ سے وابستہ توقعات‘ خدشات

مالی سال2017-18ء کیلئے خیبر پختونخوا کا بجٹ آج پیش کیا جا رہا ہے پشاور میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں مختلف شعبوں کیلئے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی ‘ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے گا وزیراعلیٰ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کیلئے بھی متعدد اقدامات کا عندیہ دے رہے ہیں ‘ بجٹ سے متعلق سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہری غیر منقولہ جائیداد‘جنرل سٹور کے حامل سی این جی اور پٹرول پمپس اور سروسر سٹیشنز پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کیساتھ نئے ٹیکس بھی لگائے جا رہے ہیں نان سپیشلسٹ ڈاکٹرز پر پروفیشنل ٹیکس کی شرح2 سے بڑھا کر10 ہزار جبکہ کیبل آپریٹرز پر ایک سے بڑھا 10 ہزار کرنے کی تجویز بھی ہے اس سب کیساتھ پراپرٹی ٹیکس بڑھنے کا امکان بھی ہے یہ سب تجاویز کی منظوری سے مشروط ہے جو آج کابینہ نے دینی ہیں اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ حکومت بجٹ کو بہتر سے بہتر بنانے کی خواہشمند ہی ہے تاہم انکار اس تلخ حقیقت سے بھی نہیں کیا جا سکتا کہ جاری مالی سال کے دوران جو30 جون کو ختم ہو رہا ہے صوبائی محکمے محاصل کے حوالے سے دیئے گئے اہداف کو پانے میں کامیاب نہ ہو سکے ‘ ۔

اعداد وشمار سال گزشتہ کے مقابلے میں کمی بھی دکھا رہے ہیں ‘ دوسری جانب سرکاری فنڈز کے بروقت اجراء اور شفاف استعمال کی ہے جو ہر دور میں سوالیہ نشان چلا آ رہا ہے ‘ حکومت بجٹ تجاویز کی منظوری کے ساتھ کابینہ اجلاس میں بجٹ کے استعمال اور محاصل کی وصولی کا میکنزم دے تو اصلاح احوال کیلئے امید کی جا سکتی ہے ‘ اس سب کیساتھ پروفیشنل اور دوسرے محاصل کی شرح میں ہونے والے رد و بدل کے اثرات کی شرح بھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے ‘ پروفیشنل ٹیکس جس شعبے میں عائد ہو اس کا بوجھ عام شہری کو ہی منتقل ہوگا اگر ڈاکٹر اور تشخیصی لیبارٹری پر کوئی ٹیکس لگتا ہے تو وہ فوراً مریض کی فیس میں اضافے کی صورت عام شہری پر منتقل ہو گا اب اضافہ کتنا ہونا چاہئے اور کس طرح اسے مقررہ حد تک رکھنا ہو گا یہ سب چیک اینڈ بیلنس کے موثر نظام ہی سے ممکن ہے ‘مالی سال کے اختتام پر یہ جائزہ لینا بھی ضروی ہے کہ وفاق اور صوبے سے فنڈز کا اجراء اور استعمال کتنا ٹائم شیڈول کے اندر رہا اس میں غفلت کے مرتکب ذمہ دار حکام کے خلاف کاروائی اوراچھی کارکردگی کے حامل لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی ناگزیر ہے تاکہ مثبت نتائج سامنے آسکیں۔

بڑے عوامی مسئلے پر خاموشی کیوں؟

صوبائی دارالحکومت پشاور میں ٹریفک کی روانی ایک سنگین چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے‘ اس مسئلے کے حل کیلئے اب تک اٹھائے جانیوالے اقدامات قطعاً ناکافی ثابت ہو چکے ہیں اس سب کیساتھ ٹریفک کی مین آرٹری یعنی جی ٹی روڈ آئے روز احتجاج کے باعث بلاک رہتا ہے جس کیساتھ پورے شہر کی ٹریفک متاثر ہوجاتی ہے احتجاج ریکارڈ کرانا ایک عوامی حق ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا تاہم انتظامیہ کی اپنے لیول پر ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع پر ٹریفک کی روانی ہر صورت برقرار رکھے‘ اس مقصد کیلئے ایگزیکٹو آرڈر یا پھر سیکشن144 بھی لگ سکتا ہے بات صرف اس کلیئر پالیسی کی ہے کہ شہر کی سب سے معروف شارع پر ٹریفک کی روانی کسی صورت متاثر نہ ہونے پائے اس مقصد کیلئے طاقت کے استعمال کی بجائے احتجاج کرنیوالوں سے بات چیت کا راستہ بھی اختیار کیا جا سکتاہے بات صرف اس اذیت کے احساس و ادراک کی ہے جس سے ٹریفک جام پر شہر یوں کو گزرنا پڑتاہے۔