بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا کے تعلیمی بجٹ میں17نئے منصوبے

خیبر پختونخوا کے تعلیمی بجٹ میں17نئے منصوبے


پشاور۔خیبر پختونخوا کے مالی سال 2017-18ء کے بجٹ میں تعلیم کیلئے127 ارب91 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جن میں115 ارب92 کروڑ روپے ابتدائی وثانوی تعلیم اور 11 ارب 99 کروڑ روپے اعلیٰ تعلیم کیلئے ہیں جو رواں مالی سال کی نسبت تقریباً18 فیصد زیادہ ہے۔ ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے شعبے میں شامل منصوبوں کیلئے 14 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو کل 77 منصوبوں پر خرچ ہونگے ان میں 60 جاری منصوبوں کیلئے 12 ارب 65 کروڑ روپے جبکہ 17 نئے منصوبوں کیلئے ایک ارب 35 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں 100 مسجد مکتبوں کو پرائمری سکولوں میں تبدیل کیا جائے گا۔ صوبے بھر میں ضرورت کی بنیاد پر طلباء و طالبات کیلئے 410 نئے پرائمری سکول قائم کئے جائیں گے۔

صوبہ کے مختلف اضلاع کرک‘ ہری پور‘ چارسدہ‘ ہنگو اور بٹگرام میں ماڈل سکولز کا قیام عمل میں لایا جائے گا ٗ 14 ہزار نئے اساتذہ کی تعیناتی کو ممکن بنایا جائے گا سکول نہ جانے والے بچوں کے بارے میں گھر گھر سروے کیا جائے گا۔ ایسی خواتین ٹیچرز جو دور دراز علاقوں میں ڈیوٹی سر انجام دے رہی ہیں ان کو خصوصی الاؤنس دیا جائیگا جبکہ بہتر کارکردگی کی بنیاد پر اساتذہ ٗ ہیڈ ماسٹرز اور پرنسپل کو بھی خصوصی انعامات سے نوازا جائے گا۔ صوبے کی سطح پر طلباء و طالبات کیلئے 100 پرائمری سے مڈل‘ 100 مڈل سے ہائی سکول جبکہ 100 سکولوں کو ہائی سے ہائر سیکنڈری سکول تک کا درجہ دیا جائے گا ۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں شامل منصوبوں کیلئے مالی سال 2017-18ء میں 6 ارب 32 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جو کل 65منصوبوں پر خرچ ہونگے ان میں 38جاری منصوبوں کیلئے 3ارب 99کروڑ 66لاکھ روپے جبکہ 27نئے منصوبوں کیلئے 2ارب 32کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

ڈائریکٹریٹ آف آرکائیوز میں سیمینار ہال کی درجہ بندی کی جائیگی۔صوبے کی سطح پر پہلے سے موجود عوامی لائبریریوں کی تعمیر ومرمت کی جائیگی۔صوبہ کی سطح پر مزید 62کالجوں میں 4سال بی ایس پروگرام جبکہ 4سال ٹیچرز ان گیجمنٹ پروگرام سے استعداد بڑھائی جائیگی ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام میں کالجوں کے لیکچرارز جو زیر تعلیم ہیں کیلئے فیکلٹی ڈویلپمنٹ سپورٹ پروگرام کا اجراء کیاجائیگاجبکہ صوبہ کے مختلف کالجوں کے لیکچررز کو تربیت بھی دی جائیگی۔

صوبے میں 10نئے سرکاری کالجز کا قیام عمل میں لایاجائیگا۔چارسدہ میں بہرے اور گونگے بچوں کیلئے سکول کا قیام‘ سوات میں منشیات کے عادی افراد کے علاج اور خود کفالت کے مرکز کے قیام کیلئے زمین کی خریداری‘ صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سپیشل ایجوکیشن سکولوں کی ثانوی سطح تک کا قیام‘ پشاور میں صنفی بنیاد پر تشدد کی روک تھام کیلئے بولو ہیلپ لائن مرکز کا قیام‘ چترال میں دارالامان کا قیام‘ پشاور میں خواجہ سراؤں کیلئے فنی مہارت میں ترقی اور بحالی سنٹر کا قیام‘ صوبہ کے مختلف اضلاح جن میں نوشہرہ‘ مردان‘ ہری پور‘ شانگلہ میں ایک ایک جبکہ چارسدہ میں تین ووکیشنل سنٹرز کاقیام عمل میں لایا جائیگا ۔8ہزار سکولوں ٗ 187بنیادی مراکز صحت اور 4ہزر مساجد کو شمسی توانائی پرمنتقل کیا جائے گا ۔