بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا بجٹ ٗجائیداد پر ٹیکس کی شرح میں ردوبدل

خیبر پختونخوا بجٹ ٗجائیداد پر ٹیکس کی شرح میں ردوبدل


پشاور۔خیبرپختونخوا حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں شہری علاقوں میں غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس کی شرح میں ردوبدل اور اضافے کا فیصلہ کیاہے اور اس حوالے سے بجٹ میں تجویز پیش کی ہے جس کے مطابق پانچ مرلے کے مکان پر ٹیکس کی شرح کیٹگری اے کے لئے ایک ہزار سے بڑھا کر پندرہ سو روپے ،کیٹگری بی نو سو سے بڑھ کر تیرہ سو روپے ،کیٹگری سی 750سے بڑھا کر 1100روپے ،پانچ سے دس مرلے تک کیٹگری اے پر ٹیکس کی شرح 1700سے بڑھا کر 2500روپے،کیٹگری بی 1600سے بڑھا کر 2400روپے،کیٹگری سی 1500روپے سے بڑھا کر 2300روپے کرنے کے ساتھ ساتھ دس مرلے سے زائد اور پندرہ مرلے تک اے کیٹگری کیلئے ٹیکس کی شرح 2200روپے سے بڑھا کر 3300روپے ،کیٹگری بی کی شرح 2100روپے سے بڑھا کر 3100روپے،کیٹگری سی کی شرح 2000سے بڑھا کر 3000روپے تک کرنے اور پندرہ مرلے سے زیادہ اور اٹھارہ مرلے تک کیٹگری اے کی شرح 3300سے بڑھا کر 4800روپے،کیٹگری بی کی شرح تین ہزار دو سو بڑھا کر 4700روپے اور سی کے لئے 3000سے بڑھا کر 4500روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔

اسی طرح اٹھارہ مرلے سے لیکر بیس مرلے تک مختلف جائیدادوں پر بھی ٹیکسوں کی شرح میں ردوبدل اور اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔بجٹ دستاویزات کے مطابق سی این جی اور پٹرول پمپس جہاں جنرل سٹورز بھی ہوں ان پر پراپرٹی ٹیکس پندرہ ہزار سے بڑھا کر بائیس ہزار پانچ سو روپے کرنے ،جن پمپس پر سٹور نہیں ہوں گے ان پر ٹیکس کی رقم سات ہزار پانچ سو سے بڑھا کر گیارہ ہزار تین سو روپے کی تجویز ہے ۔بجٹ میں سروس سٹیشن پر سالانہ بیس ہزار روپے پراپرٹی ٹیکس عائد کرنے ،تمام مضاربہ کمپنیوں (میوچرفنڈ)کارپوریٹ باڈیز پر پروفیشنل ٹیکس کی شرح اس طرح ہو گی جن کی آمدن ایک کروڑ روپے تک ہو پر ٹیکس کی شرح 18ہزار سے بڑھا کر 27ہزار روپے ،ایک کروڑ سے زیادہ اور پانچ کروڑ روپے تک آمدن پر ٹیکس کی شرح 36ہزار سے بڑھا کر 50ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے ۔

نان سپیشلسٹ ڈاکٹرز پر پروفیشنل ٹیکس کی شرح دو ہزار سے بڑھا کر د س ہزار روپے کرنے ،تشخیصی لیبارٹریز پر پشاور میں ٹیکس کی شرح پندرہ ہزار سے بڑھا کر بیس ہزار تک کرنے ،پٹرول و سی این جیز اسٹیشنز پر ٹیکس کی شرح آٹھ ہزار سے بڑھا کر بارہ ہزار روپے تک کرنے ،سروس سٹیشن پر پروفیشنل ٹیکسوں کی شرح پانچ ہزار سے بڑھا کر آٹھ ہزار روپے تک کرنے،کیبل آپریٹرز پر ٹیکس کی شرح ایک ہزار سے بڑھا کر دس ہزار روپے تک کرنے،ہول سیلز ڈیلرز،ایجنسی ہولڈرز اور میڈیکل سٹور پر پہلے پروفیشنل ٹیکس نہیں تھا ان پر دس ہزار روپے پروفیشنل ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔اسی طرح ایسے ٹیلرز جو صرف شلوار قمیض کی سلوائی کرتے ہیں ان پر دو ہزار روپے اور جو شلوار قمیض کے ساتھ واسکٹ کی سلائی کرتے ہیں ان پر پانچ ہزار روپے اور جو شلوار قمیض کے ساتھ پینٹ شرٹ کی سلائی کرتے ہیں ان پر سالانہ دس ہزار روپے پروفیشنل ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے ۔

صوبے سے باہر سپرٹ لے جانے پر اب تک کوئی ٹیکس نہیں تھا اب دس روپے فی لیٹر ٹیکس عائد کیا جارہا ہے ۔اسی طرح ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھی فیسوں میں رد و بدل کی تجویز تیار کی ہے ان میں روٹ پرمٹ کو تبدیل کرنے کی تجویز 750سے بڑھا کر 3100روپے ،لیٹ فیس سوروپے سے بڑھا کر دو سو روپے کرنے ،سامان لے جانے والی گاڑیوں پر پرمٹ کی فیس پانچ ہزار 64سے بڑھا کر 6736کرنے ،باڈی بلڈنگ ورکشاپ پر ٹیکس پانچ ہزار 60روپے سے بڑھا کر سات ہزار ساٹھ روپے کرنے ،گڈز فارورڈنگ ایجنسیوں پر سالانہ فیس ایک ہزار سات سو سولہ روپے سے بڑھا کر بیس ہزار روپے کرنے ،نئی گاڑیوں کی ویری فکیشن کے لئے ہلکی گاڑیوں پر پانچ ہزار روپے اور بھاری گاڑیوں پر دس ہزار روپے فیس لگانے کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے ۔

اسی طرح بجٹ میں سی این جی کٹس کے معائنے پر ایک ہزار روپے فیس وصول کرنے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ٹرکوں کا وزن کرنے والے سٹیشنز پر دس ہزار روپے فیس ڈرائیونگ لائسنس کی توسیع کے وقت سو روپے میڈیکل فیس مقرر کرنے اور ریسٹورانٹ کی رجسٹریشن فیس پشاور ،ایبٹ آباد،مانسہرہ اور سوات میں پچاس سیٹوں اور اے سی والے ریسٹورانٹ کی فیس بارہ ہزار روپے مقرر کرنے ،دوسرے اضلاع میں پچاس سیٹوں تک کی فیس اے سی والے کے لئے تین ہزار روپے اور بغیر اے سی والے کیلئے تین ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔

ملٹی نیشنل ہوٹل اور ریسٹورانٹ پر پہلے کوئی رجسٹریشن فیس نہیں تھی اب اے سی والے ریسٹورنٹ پر پچاس ہزار روپے اور بغیر اے سی پر تیس ہزار روپے رجسٹریشن وصول کرنے کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ٹریولنگ ایجنسیوں کی لائسنس فیسوں میں بھی رد و بدل کیا گیا ہے جو ایجنسی مسافروں کے سامان کی بکنگ کرتی ہیں ان کے ہیڈ آفس کی فیس دس ہزار سے بڑھا کر پندرہ ہزار روپے کرنے کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے ۔