بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / برطانیہ میں انتخابی معرکہ آج ہوگا

برطانیہ میں انتخابی معرکہ آج ہوگا


لندن۔برطانیہ میں انتخابی معرکہ کل جمعرات کو ہوگا، انتخابات میں کنزرویٹو اور لیبر پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے،حالیہ سروے کے مطابق کنزرویٹو 40، جبکہ لیبر 39 فیصد شہریوں سے ووٹ لینے میں کامیاب ہوسکتی ہے،الیکشن میں 1000 کے قریب خواتین امیدوار بھی حصہ لے رہی ہیں ان میں پاکستانی نژاد خواتین کی نمایاں تعداد شامل ،انتخاب جیت کر درجن بھر پاکستانی اور مسلم خواتین کے پارلیمان میں پہنچنے کا امکان ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں انتخابی معرکہ (آج ) جمعرات کو ہوگا۔کنزرویٹو اور لیبر پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔انتخابات میں تقریبا 5 کروڑ ووٹرز پارلیمنٹ کے 650 حلقوں سے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔انتخابات میں وزیراعظم کے عہدے کیلئے کنزرویٹو پارٹی کی تھریسا مے اور لیبر پارٹی کے جیریمی کوربن کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوگا۔حالیہ سروے کے مطابق کنزرویٹو اور لیبر پارٹی میں صرف ایک پوائنٹ کا فرق رہ گیا ہے۔ کنزرویٹو 40، جبکہ لیبر 39 فیصد شہریوں سے ووٹ لینے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ سادہ اکثریت کیلئے کسی بھی جماعت کو پارلیمنٹ کی 326 نشستیں جیتنا ہوں گی۔

برطانیہ میں اس بار مخلوط حکومت بننے کا امکان زیادہ ہے۔ لندن اور مانچسٹر میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کے بعد موجودہ وزیراعظم اور سابق وزیرداخلہ تھریسامے کی مقبولیت کا گراف بہت تیزی سے نیچے آیا ہے۔اپوزیشن کی جانب سے بھی تھریسا مے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ لیبر پارٹی کا موقف ہے کہ تھریسامے نے بطور وزیر داخلہ سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں کمی کی جو دہشتگردی واقعات کا باعث بنی۔برطانیہ میں ہونے والے عام انتخابات میں ایک ہزار کے قریب خواتین امیدوار بھی حصہ لے رہی ہیں ان میں پاکستانی نژاد خواتین کی نمایاں تعداد شامل ہے۔

خواتین امیدواروں کے اعتبار سے حالیہ الیکشن تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ جس میں برطانیہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ خواتین امیدوار مقابلے میں حصہ لے رہی ہیں۔انتخاب جیت کر درجن بھر پاکستانی اور مسلم خواتین کے پارلیمان میں پہنچنے کا امکان ہے۔تحقیقاتی ادارے ڈیموکریسی کلب کے اعداد و شمار کے مطابق برطانوی انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین کی تعداد میں 1918 سے لیکر اب تک 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ لیبر پارٹی نے اپنی 41 فی صد سیٹوں کے لئے خواتین کو نامزد کیا ہے جبکہ اسکاٹش نیشنل پارٹی نے 33 فی صد، لبرل ڈیموکریٹس نے 30 فی صداور حکمران جماعت کنزرویٹیو پارٹی نے صرف 29 فی صد سیٹوں پر خواتین کو ٹکٹ دئے ہیں جس میں برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے بھی شامل ہیں۔

لیبر پارٹی کی نمائندگی کرنے والی پاکستانی نژاد خواتین امیدواروں میں برمنگھم سے شبانہ محمود، بولٹن سے یاسمین قریشی اور ٹوٹنگ سے روزینہ الین خان شامل ہیں۔برطانوی عام انتخابات 2017 میں درجنوں سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کل تین ہزار تین سو تین امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔مقابلہ 650 سیٹوں کے لئے ہے۔ کسی بھی پارٹی کو پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے 326 سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

برطانوی سیاست میں دو جماعتوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، دائیں بازو کی کنزرویٹو پارٹی اور بائیں بازو کی لیبر پارٹی۔دیگر پارٹیوں میں اسکاٹش نیشنل پارٹی، لبرل ڈیموکریٹس، ڈیموکریٹک یونیینسٹ، یوکپ، گرین پارٹی، ایس ڈی ایل پی شامل ہیں۔2015 کے انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی نے کل 331 سیٹس حاصل کیں، لیبر پارٹی نے 232، اسکاٹش نیشنل پارٹی نے 56، اس کے بعد ہونے والے متعدد ضمنی انتخابات سے پارلیمان میں اعداد وشمار میں تبدیلی آئی۔وزیراعظم ٹریزا مے کی پارٹی کو اس وقت 330 اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ برطانیہ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت حاصل ہے۔ 229 اراکین کے ساتھ لیبر پارٹی مرکزی حزب اختلاف کی حیثیت رکھتی ہے۔کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے زیک گولڈ اسمتھ نے اپنی کھوئی ہوئی نشست دوبارہ حاصل کر لی ہے۔