بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے، نفیس ذکریا

بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے، نفیس ذکریا

اسلام آباد۔ ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کررہا ہے،بھارت پاکستان کی عسکری طاقت بارے کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔،بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کی مسلسل داستان رقم کررہا ہے،پاکستان بھارتی مظالم کی بھرپور مذمت کرتا ہے،بھارت کشمیری نوجوانوں کو ظلم و تشدد سے زیر کرنا چاہتا ہے لیکن کشمیری کسی صورت بھی اپنے حق خود ارادیت کی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گے ۔

عالمی برادری اور اقوام متحدہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لے، بھارت کشمیر کے علاوہ خطے کے امن کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے، پاکستان اور افغانستان دونوں کو دہشت گردی سے خطرہ ہے،ا باہمی روابط سے بارڈر منیجمنٹ کو بہتر بنایا جائے،پاک افغان تعلقات خراب کرنے میں بھی بھارت ہی ملوث ہے جو پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کررہا ہے، قطری وفد کے دورہ پاکستان کے حوالے سے کوئی علم نہیں، پاکستان امت مسلمہ کے اتحاد پر یقین رکھتا ہے۔

، کوشش ہے کہ موجودہ صورتحال کا بہتر حل نکل آئے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے اور بدنام کرنے کے لئے گندے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے ‘ کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت خطے کے امن اور سلامتی کیلئے خطرہ ہے ‘ بھارت مقبوضہ کشمیر میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ چین اڈوں کے قیام کے حوالے سے تردید کر چکا ہے ‘ پاکستان بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے ‘ بھارت پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خراب کر رہا ہے ۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر بھارت کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم مودی کی وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے حوالے سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے بھارت کی قابض افواج نے 9 نہتے کشمیر طالب علموں کو شہید کیا اور 40 طالب علموں کو زخمی کیا گیا ا ور اتنے ہی طالب علموں کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیا گیا۔

مقبوضہ کشمیر میں بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں حریت قیادت کی کال پر آج ہڑتال کی جائے گی۔ بھارت حریت قیادت اور پر عزم نوجوانوں کو تحریک آزادی سے روکنے کے لئے گندے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ بھارت کشمیریوں کی مقامی تحریک آزادی کو بدنام کرنا چاہتا ہے۔ کشمیری عوام 7 دہائیوں سے بھارتی مظالم برداشت کر رہے ہیں۔

حکومت پاکستان اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور قتل عام کا نوٹس لے اور بھارتی مظالم فوری بند کرائے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 9,8 جون کو آستانہ میں ہونے والے اجلاس میں مکمل ممبر بن جائے گا۔ وزیر اعظم نواز شریف اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آیک 15 سال کا نوجوان بھارت کو کیسے خطرے میں ڈال سکتا ہے جب بھارتی بڑی جمہوریت کا دعویدار ہے۔

نوجوان پر تشدد فاشزم کی بدترین مثال ہے۔ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی جانب سے قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے پر پاکستان کی پوزیشن کے حوالے سے سوال کے جواب پر انہوں نے کہاکہ پاکستان مسلم دنیا کے اتحاد کا خواہاں ہے اور اس حوالے سے کوششیں کرتا رہے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی قابض افواج لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سیز فائر لائن کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہیں اور سول آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ بھارت جان بوجھ کر لائن آف کنٹرول پر حالات کشیدہ کر رہا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے دنیا کی توجہ ہٹا سکے۔ پاکستان بھارت کی جارحیت جنوبی ایشیاء کی سلامتی اور امن کیلئے خطرہ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان ایس سی او کے چارٹر پر عمل پیرا ہے اور خطے میں امن کے حوالے سے کردار ادا کر رہا ہے۔ چین کے اڈوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ میڈیا رپورٹس پر تبصرہ نہیں کرتے ۔ چین نے اس خبر کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ 5 دھائیوں سے پاکستان بھارتی ریاستی دہشت گردی سے متاثر ہے۔

بھارت پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خراب کر رہا ہے۔ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان دونوں کیلئے خطرہ ہے۔ دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت این آئی اے کے ذریعے حریت قیادت اور لوگوں کو حراساں کر رہا ہے۔ بھارت کے افغانستان میں مادر آف آل بم گرانے کے نتیجے میں مارے جانے والے بھارتیوں کا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت دہشت گردوں سے ملا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم مودی کی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ایس سی او اجلاس کے موقع پر ملاقات کے حوالے سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔ پاکستان افغانستان میں عدم استحکام سے شدید متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنی ذمہ داری پوری کرے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے اور بھارتی مظالم بند کرائے۔