بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / تہران حملوں پر ٹرمپ کا مذمتی بیان ناپسندیدہ قرار

تہران حملوں پر ٹرمپ کا مذمتی بیان ناپسندیدہ قرار


تہران ۔ایران نے ملکی پارلیمنٹ اور خمینی کے مزار پر ہونے والے حملوں پر امریکہ کے مذمتی بیان کو “ناخوش گوار” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام امریکہ کے دوستی کے دعووں کو مسترد کرتے ہیں، امریکہ خود دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے تہران میں گزشتہ روز ہونے والے دہشت گردانہ حملوں پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردعمل کو سخت ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔

جواد ظریف نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں لکھا کہ ایک ایسے موقع پر جب ایرانی عوام امریکی حمایت یافتہ دہشت گردی کا شکار ہیں۔جوا د ظریف نے وہائٹ ہاؤ س کے مذمتی بیان کو “ناخوش گوار” قرار دیتے ہوئے کہا ہے ایرانی عوام امریکہ کے دوستی کے دعووں کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ خود دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث ہے۔وہائٹ ہاوس نے بدھ کو تہران میں پارلیمان کی عمارت اور ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی کے مزار پر ہونے والے حملوں پر مذمتی بیان جاری کیا تھا جس میں ایرانی عوام اور حملے کا شکار ہونے والے افراد سے اظہارِ ہمدردی کیا گیا تھا۔بیان میں وہائٹ ہاوس نے کہا تھا کہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو ریاستیں دہشت گردی میں معاونت کرتی ہیں وہ بالآخر خود بھی اس کا شکار ہو جاتی ہیں۔

واضح رہے کہ بدھ کو تہران میں ہونے والے دونوں حملوں میں 13 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی تھی البتہ ایرانی فوج ‘پاسدارانِ انقلاب’ نے اپنے ایک بیان میں حملے کا الزام بلواسطہ طور پر سعودی عرب پر عائد کیا ہے۔ایک بیان میں ایرانی فوج نے کہا تھا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کے فورا بعد ان حملوں کا ہونا خاصا “معنی خیز” ہے۔

بیان کے مطابق سعودی عرب داعش سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کی مستقل مدد کر رہا ہے اور داعش کی جانب سے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ اس بہیمانہ کارروائی میں سعودی عرب کا ہاتھ ہے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے عرب ملکوں میں جاری خانہ جنگی میں ایرانی مداخلت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران “وہاں مزاحمت نہ کر رہا ہوتا” تو اسے ایسے مزید حملوں کا سامنا کرنا پڑتا۔

جمعرات کو حملوں کے ایک روز بعد تہران میں سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور شاہراہوں اور سب وے اسٹیشنز پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ایرانی پولیس نے حملوں کی تحقیقات کے سلسلے میں چھ افراد کو حراست میں لینے کا دعوی کیا ہے۔ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے ایک عہدیدار رضا سیف اللہی نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ تمام حملہ آور ایرانی تھے۔