بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / حسن نواز کی جے آئی ٹی کے سامنے دوسری پیشی

حسن نواز کی جے آئی ٹی کے سامنے دوسری پیشی

اسلام آباد۔ وزیراعظم نوازشریف کے چھوٹے صاحبزادے حسن نواز کی پانامہ کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے دوسری پیشی ، حسن نواز سے ساڑھے پانچ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی ،حسن نواز سخت سیکیورٹی میں جوڈیشل اکیڈمی پہنچے،جوڈیشل اکیڈمی آمد اور روانگی کے موقع پروزیراعظم کے صاحبزادے نے گاڑی سے باہر نکل کر پارٹی کارکنوں اور میڈیا کے نمائندوں کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلایا اور میڈیا سے بات چیت کئے بغیر روانہ ہوگئے ۔

جے آئی ٹی وزیراعظم نوازشریف اور وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کا بیان بھی قلمبند کرے گی ، حسین نواز آج (جمعہ) کو پانچویں بار جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے ۔جمعرات کو وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادے حسن نواز پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے قائم جے آئی ٹی کے سامنے دوسری بار پیشی کے لئے 11بجے وفاقی جوڈیشل اکیڈمی پہنچے جہاں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات تھے ،وزیرمملکت طارق فضل چوہدری سمیت دیگر مسلم لیگی رہنمااور وزیراعظم کے معاون خصوصی آصف کرمانی پہلے سے موجود تھے ، آصف کرمانی نے حسن نواز کو گاڑی سے باہر نکالاوار حسن نواز نے میڈیا کے نمائندوں اور پارٹی کارکنوں کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلایا اور جوڈیشل اکیڈمی کے اندر چلے گئے جہاں ایک گھنٹہ انتظار کے بعد 12بجے جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوئے اور اپنا بیان قلمبند کرایا ۔

جے آئی ٹی کی طرف سے حسن نوازسے تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی اور بیرون ملک سرمایہ کاری سمیت ان کی کمپنیوں کے بارے میں سوالات کئے گئے ۔ حسن نوازنے جے آئی ٹی ارکان کے تمام سوالوں کے تفصیلی جوابات دیے اور ساڑھے چار گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد وہ ساڑھے چار بجے جوڈیشل اکیڈمی سے باہر آئے اور باہر موجود کارکنوں اور میڈیا کے نمائندوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا ، گاڑی سے باہر نکلے جہاں (ن) لیگ کے کارکنان نے حسن نواز اور وزیراعظم نوازشریف کے حق میں نعرے بازی کی تاہم حسن نواز نے میڈیا کے نمائندوں کے اصرار کے باوجود کوئی بات چیت نہیں کی اور سخت سیکیورٹی میں وزیراعظم ہاؤس کے لئے روانہ ہوگئے ۔

دوسری طرف حسین نواز آج (جمعہ) کو پانچویں بار جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے اور اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے ، حسن نواز دو بار جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ضرورت پڑنے پر حسن نواز کو ایک بار پھر طلب کیا جاسکتا ہے ۔ جے آئی ٹی وزیراعظم نوازشریف اور وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کا بیان بھی قلمبند کرے گی جبکہ حدیبیہ پیپرز مل کیس کے اہم کرداروں کے بیانات بھی ریکارڈ کئے جائیں گے ۔