بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / اے این پی سیلز ٹیکس کے اطلاق کی سفارش سے دستبردار

اے این پی سیلز ٹیکس کے اطلاق کی سفارش سے دستبردار


اسلا م آباد۔ عوامی نیشنل پارٹی فاٹا اور پاٹا کے علاقوں پر سیلز ٹیکس کے اطلاق کی سفارش سے سینیٹ میں دستبردارہوگئی قبائلی اراکین کے احتجاج کے سامنے اپوزیشن کی جماعت نے گھٹنے ٹیک دیئے پی پی پی نے بھی فاٹا اراکین کے موقف کی تائید کردی فاٹا پر ٹیکس لاگو کرنے سینیٹر الیاس بلور سفارش کے محرک ہیٰں قبائلی اراکین کے شدید احتجاج اور واک آؤٹ پر اے این پی قبائل کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے تجویز سے دستبردار ہوگئی ۔

جمعرات کو اے این پی کے سینیٹر الیاس بلورکی جانب سے فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس لاگو کرنے کی ترمیم پیش کی گئی فاٹا کے اراکین نے شدیداحتجاج کیا ان تجاویز پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر فاٹا اور پاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان نے ایوان احتجاجاً واک آؤٹ کردیا سینیٹر الیاس بلور نے تجویز دی کی سیلز ٹیکس کا دائرہ کار فاٹا اور پاٹا تک بڑھانے کے بارے تجویز کا نمبر 117 تھا ۔ سینیٹر ہدایت اللہ کے مطابق فاٹا دہشت گردی سے شدید متاثر علاقہ ہے قبائل کے کارروبار تباہ ہو چکے ہیں۔

ایسے میں وہاں سیلز ٹیکس کا نفاذ کسی صورت انصاف پر مبنی نہیں ہو گا بلکہ وہاں کے لوگوں کو معاشی حقوق و مراعات دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے تباہ حال کارروبار دوبارہ شروع کرسکیں انھوں نے خبردار کیا کہ اگر قبائل کا سامجی اور معاشی تحفظ نہ کیا گیا تو قبائکی نوجوان ایک بار پھر مجبور ہو کر انتہاپسندی کی طرف راغب ہوسکتے ہیں دلچسپ امر یہ کہ فاٹا کے ارکان کے ایوان سے واک آوٹ میں اے این پی کے بعض ارکان نے بھی ساتھ دیا اور موقف اختیار کیا کہ الیاس بلور نے جو موقف اختیار کیا ۔

وہ اے این پی کی بحیثیت سیاسی جماعت موقف نہیں ۔ فاٹا اراکین نے سینیٹر الیاس بلور کو ترمیم واپس لینے پر مجبور کردیا جب کہ سینیٹر ہدایت اللہ نے اے این پی سے متعلق اپنے سخت الفاظ پر معذرت کر لی قبل ازیں سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کے سر عام سرگرمیوں پر ایوان میں سنیٹر کریم خواجہ کی طرف سے پیش توجہ دلاو نوٹس پر بیان دیتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امورشیخ آفتاب نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کیخلاف کاروائی کیلئے تمام ادارے ایک پیج پر ہیں۔

وزات داخلہ نے کالعدم تنظیموں کے سوشل میڈیا پر کام کا نوٹس لیا ایف آئی اے کو ہدایات کر دی گئی ہیں نیکٹا بھی اس ضمن میں کام کر رہا ہے ۔پاکستان میں مساجد میں ایک ساتھ نماز پڑھی جاتی ہے، وفاقی وزیر نے کہا کہ کچھ لوگ نفرتیں پھیلا رہے ہیں۔ جب ایجنسیاں سوشل میڈیا پر منافرت کا نوٹس لیتی ہیں تو چیج کر دیا جاتا ہے یہ حکومت اور معاشرے کیلئے چیلنج ہے، 181ویب سائٹس کو ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔ سورس کہا ں ہے اس کو ٹریس کیا جا رہا ہے ۔

رسول کریم کی ذات کے بارے میں بھی نا مناسب پوسٹس کی گئیں ،سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پر حکومت اور ایجنسیاں ایک پیج پر ہیں ،جلد معاملہ کو ٹھیک کر لیا جائے گا جب کہ نوٹس کے محرک کے مطابق ملک میں کالعدم تنظیمیں کھل کر کام کر رہی ہیں۔ بلوچ آرگنائزیشن ، لشکر جھنگوی تحریک طالبان سوات اور دیگر کالعدم تنظیمیں سرگرم ہیں ، محرک نے سوال کیا وزارت داخلہ اور نیکٹا کیا کر رہی ہے، کریم خواجہ نے کہا کہ یورپ اور امریکہ نے ایسی تنظیموں کو روک دیا پاکستان میں مختلف مکاتب فکر کے لوگ موجود ہیں، پارلیمان میں اس کا فیصلہ ہونا چاہیے، سائبر کرائم کے تحت تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں کے کارکنان گرفتار ہوئے ، معاشرے میں نفرت پھیلانے والوں کیخلاف سائبر کرائم بل کے تحت کاروائی کیوں نہیں کی گئی۔