بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سینیٹر رحمان ملک کا سینیٹ کے اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ

سینیٹر رحمان ملک کا سینیٹ کے اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ


اسلام آباد ۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ ہم عوامی نمائندے ہیں ہماری ہی بات نہیں سنی جاتی، لہٰذا ایسے سینیٹ کے اجلاس میں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی کا اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں ورکرز ویلفیئر فنڈز کے ملازمین کو تنخواہیں نہ ملنے پر سینیٹر رحمان ملک نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم عوامی نمائندے ہیں ہماری ہی بات نہیں سنی جاتی۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں بات نہ سنی جائے وہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں،میں اب یہاں نہیں بیٹھوں گا، جس کے بعد رحمان ملک نے سینیٹ کے اجلاس سے واک آؤٹ کردیا، واک آؤٹ کے لیے رحمان ملک نے اے این پی کے سینیٹر شاہی سید کو بھی دعوت دی۔

اس موقع پر کمیٹی ممبران کا کہنا تھا کہ آپ ناراض ہوکر مت جائیں واک آؤٹ کا فیصلہ صحیح نہیں، بعد ازاں کمیٹی ممبران رحمان ملک کو منا کر واپس کمیٹی میں لےآئے۔

واضح رہے کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ حکام کے مطابق ورکرز ویلفیئر بورڈ میں بھرتی کیے جانے والے 6 سو افراد بلیک لسٹ ہوئے ہیں، 17سو سے زائد افراد کی ڈگریوں کی تصدیق کا مرحلہ جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مزید لوگوں کے کاغذات اور اسناد جعلی نکلنے کا امکان ہے۔

سینیٹ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر رحمان ملک نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔

مودی کا سرجیکل آپریشن ہونا چاہئیے، انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں، کشمیر کے لیے ہمیں الگ طرز کی پالیسی اپنانی ہوگی، پاک افواج بھارت کی ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام امریکہ نے پانچ سال تک دہشت گردوں کی فہرست میں ڈالے رکھا، امریکی سینٹرز بتائیں کہ مودی کا نام دہشت گردوں کی فہرست سے کس نے نکالا؟

انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے بنگلہ دیش میں تسلیم کیا ہے کہ مکتی باہنی بھارت نے ہی بنوائی تھی۔