بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / خیبر پختونخوا کا بجٹ

خیبر پختونخوا کا بجٹ

مالی سال 2017-18ء کے لئے خیبر پختونخوا کا بجٹ پیش کردیاگیا ہے بجٹ کا حجم603ارب روپے ہے جس میں سے208ارب سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے رکھے گئے ہیں صوبائی حکومت پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں 20ارب روپے ملنے کی توقع رکھتی ہے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں وفاق کی طرح 10 فیصد اضافہ ہی کیاگیا جبکہ 2010ء میں ملنے والا ایڈہاک ریلیف الاؤنس بنیادی تنخواہ میں ضم کردیا گیا صوبائی حکومت نے 16ہزار 952نئی اسامیوں کا اعلان کرنے کیساتھ4.5ارب روپے کی لاگت سے 17اکنامک زون قائم کرنے کا عندیہ دیا بجٹ میں پشاور بس منصوبے کیلئے 53ارب روپے مختص کئے گئے ہیں صحت کے شعبے کے لئے 49 ارب 27کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جورواں سال کے مقابلے میں 31 فیصد سے زائد ہیں صوبے میں ٹی بی اور سرطان کے مریضوں کا مفت علاج کرنے کیساتھ ہسپتالوں کوآلات کی فراہمی اور صحت انصاف کارڈ کی سہولت ملازمین کو بھی دینے کا اعلان کیاگیا ہے اس سب کیساتھ ٹیکسوں کی شرح میں ردوبدل کرتے ہوئے ڈاکٹروں کے کلینکس ہول سیلرز میڈیکل سٹورز‘ لیبارٹریوں‘سروس سٹیشنز اور پراپرٹی ٹیکس بڑھادیئے گئے ہیں صوبائی حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے کے بیانات پر ملازمین وفاق کے مقابلے میں تنخواہیں زیادہ بڑھنے کی توقع رکھتے تھے تاہم صوبے نے بھی اضافہ صرف 10فیصد ہی رکھا حکومت کی بجٹ ترجیحات قابل اطمینان اور ضرورت کے مطابق ضرور ہیں تاہم اس تلخ حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ حکومتی اقدامات کے عملی نتائج سے عام شہری مطمئن نہیں ہو پارہادوسری جانب ٹیکسوں کی شرح ایسے شعبوں میں بڑھائی گئی ہے۔

جس سے براہ راست عام شہری ہی متاثر ہوگادرزی ٹیکس کے نام پر سلائی کا نرخ زیادہ کرے گا تو ڈاکٹر فیس میں اضافی پیسے مانگے گا لیبارٹریاں پہلے ہی من مانے چارجز لے رہی ہیں ان کے ریٹ مزید بڑھ جائیں گے اسی طرح گاڑی کی پرمٹ اور معائنہ فیس اور ہوٹلوں پر ٹیکس کا اثر بھی شہریوں پر ہی پڑیگا اب یہ اثر ٹیکس کے مقابلے میں کتنا زیادہ پڑتا ہے اس کا انحصار بھی چیک کے موثر نظام پر ہے بصورت دیگر گرانی کے بوجھ تلے دبے شہریوں کو مزید اذیت کاسامناکرنا پڑیگا بجٹ اہداف کے حصول کیلئے وفاق سے واجبات اور دیگر ادائیگیاں بروقت حاصل کرنا بھی سنجیدہ کوششوں کا متقاضی ہے نئے مالی سال میں داخل ہونے سے پہلے ہمارے فیصلہ سازوں کو یہ بات پلے باندھنا ہوگی کسی شعبے میں اصلاح احوال صرف فنڈز مختص کردینے سے ممکن نہیں تبدیلی کا احساس صرف اسی صورت ہوسکتا جب اربوں روپے کے بجٹ کا استعمال درست طریقے سے ہو حکومت ہر سال صحت کیلئے بجٹ میں اضافہ کررہی ہے جبکہ عوام سرکاری شفاخانوں کی خدمات سے کسی طور مطمئن نہیں تعلیم کا میعار سوالیہ نشان ہے۔

پینے کا صاف پانی نہ ملنا کسی المیے سے کم نہیں حکومت نے نئے سال کے لئے بھی آبنوشی کی سکیموں کیلئے پانچ ارب15 کروڑ روپے مختص کئے ہیں جو حجم کے لحاظ سے قابل اطمینان ضرور ہیں تاہم اس رقم کے استعمال اور صاف پانی کی فراہمی کے درمیان فاصلے کم کرنا ہونگے اربن ڈیویلپمنٹ کے لئے جتنی بھی رقم مختص کی جائے جب تک صوبائی دارالحکومت سمیت صوبے کے کسی بھی حصے میں میونسپل سروسز سڑکوں اور ٹریفک کے نظام میں بہتری دکھائی نہ دے تو سب کئے دھرے پر پانی پھر جاتا ہے حکومت کو نئے مالی سال میں داخلے کیساتھ یکم جولائی سے اپنے اقدامات اور اعلانات پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کا ایسا موثر نظام دینا ہوگا جس میں ذمہ دار حکام کو ائر کنڈیشنڈ کمروں سے باہر آکر خود برسرزمین صورتحال کے مشاہدے کا پابند بنایا جائے۔