بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / بجٹ اور صوبائی حکومت

بجٹ اور صوبائی حکومت

مالی سال 2017-18کیلئے خیبر پختونخوا کے بجٹ میں جواہداف مقرر کیے گئے ہیں انکے حوالے سے رپورٹنگ بھی ہوئی ہے اور تجزیے بھی سامنے آرہے ہیں تاہم بجٹ دستاویز میں دیے گئے وہ اعدادو شمار جو صوبائی حکومت کی پچھلے چار سال کی کارکردگی کا احوال بتا رہے ہیں اور کافی غور طلب بھی ہیں خبروں میں خاطر خواہ جگہ نہیں بنا سکے ،اگرچہ وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کی ابتداء انہی روایتی جملوں سے ہو ئی کہ’’ جب موجودہ صوبائی حکومت نے صوبے کا نظم و نسق سنبھالا توتمام شعبے بد انتظامی کا شکار تھے جنھیں قابل انتظام بنانا بہت بڑا چیلنج تھا ‘‘( یعنی ماضی کی حکومتوں نے کچھ نہیں کیا )لیکن اس تقریر میں ایسے کئی حوالے اور اعداد وشمار موجود ہیں جو بتا رہے ہیں کہ موجودہ صوبائی حکومت نے صوبے کے انتظامی اور مالی امور کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے ، شعبہ جاتی اصلا حات اور صوبے کے عوام کی مشکلات میں کمی لانے کے حوالے سے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں جن میں سے متعدد اقدامات کے مثبت نتائج سامنے بھی آرہے ہیں،اس حوالے سے سب سے پہلا شعبہ قانون سازی کا ہے‘شعبہ جاتی اصلاحات کے عمل سے متعلق بجٹ تقریر کے مندرجات پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ صوبائی حکومت نے بہ حیثیت مجموعی کرپشن میں کمی لانے ، انتظامی معاملات کو بہتر بنانے سرکاری ملازمین کو درپیش مسائل کے حل اور انکی استعداد کار بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جس کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ،صوبے کے گریڈ ایک سے سولہ تک ملازمین کی اپ گریڈیشن،الاونسز میں بہتری خصوصاََ محکمہ صحت کے ملازمین کے کئی کیڈرز کو ہیلتھ پرو فیشنل الاونس کا اجراء اس حوالے سے بہتر اقدامات کی مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے البتہ بعض شعبوں کے ایڈہاک ملازمین کی ریگولرائزیشن میں تاخیر ،اساتذہ کے ٹائم سکیل کا مسئلہ ، اپ گریڈیشن سے رہ جانے والے صوبائی سرکاری ملازمین کے حق کی ادائیگی اور ورکرز ویلفئیر بورڈ کے ملازمین کوایک سال سے زائد عرصے کی تنخواہیں جاری کرنا۔

اس حوالے سے صوبائی حکومت کیلئے چیلنجز ہیں‘بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ کا کہنا کہ رواں مالی سال ( 2016-17) کے دوران این ٹی ایس کے ذریعے مزید چودہ ہزار اساتذہ کی بھرتی عمل میں آئی جس کے بعد این ٹی ایس کے ذریعے برتی کئے گئے اساتذہ کی تعداد 40ہزار ہو گئی ہے اس حوالے سے اہمیت کا حامل ہے ،وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں شعبہ صحت کی بہتری کیلئے حکومتی اقدامات کا بھی خصوصیت سے ذکر کیا ہے ،ان اقدامات میں تمام تدریسی ہسپتالوں کو ایم ٹی آئی کا درجہ دیتے ہوئے انھیں خود مختار بورڈ آف ڈائیریکٹرز کی عمل داری میں دینا، سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے 22ہزار نئی آسامیوں کی تشکیل اور ان پر شفاف طریقے سے تعیناتیاں،میڈیکل آفیسرز کیلئے چار درجاتی فارمولے کی منظوری اور ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس ( جس کا ذکر پہلے بھی ہوا) کا اجراء شامل ہیں، صوبائی حکومت کی ان اقدامات کے نتیجے میں سرکاری ہسپتالوں خصوصاََ ٹیچنگ ہاسپٹلز میں بہت حد تک بہتری محسوس کی جا رہی ہے لیکن اس عمل کو تیز تر انداز میں آگے بڑھانے کے راستے کی رکاوٹ انہی اداروں میں موجود مفاد پرست عناصر ہیں ۔

جنہیں شکست دینا بھی صوبائی حکومت کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے ، شعبہ صحت کی بات ہو رہی ہو اور صحت انصاف کارڈ کا ذکر نہ کیا جا ئے تو بات ادھوری رہ جاتی ہے ، اسی لئے وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں صحت انصاف کارڈ سکیم کا بھی خصوصی طور پر تذکرہ کیا ہے ،ان کے مطابق اب تک تیرہ لاکھ اکتالیس ہزار مستحق گھرانوں میں صحت کارڈ تقسیم ہو چکے جبکہ اس سکیم سے اٹھارہ لاکھ خاندان مستفید ہوں گے ، صحت انصا ف کارڈ سکیم کے تحت صوبے کے غریب مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی بلاشبہ ایک قابل تعریف عمل ہے، بجٹ تقریر میں صوبائی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے دیگر متعدد اطمینان بخش اقدامات کا بھی ذکر ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے مالی سال کے دوران جو کہ موجودہ صوبائی حکومت کا آخری سال ہے حکومت اپنی کامیابیوں کے سلسلے کو موثر انداز میں آگے بڑھا نے اور اب تک کی ناکامیوں کو کامیابی میں بدلنے جیسے مراحل میں سرخرو ہو پاتی ہے یا نہیں۔مذکورہ مراحل میں سرخرو ہو کر ہی تحریک انصاف آنے والے عام انتخابات میں عوامی حمایت کے حصول کے قابل ہو سکتی ہے ۔