بریکنگ نیوز
Home / کالم / کابل: جملوں کی زد پر!

کابل: جملوں کی زد پر!

افغانستان میں خونریزی اور جنگ سے متعلق خبریں کوئی نئی بات نہیں بلکہ ایسی خبریں گزشتہ چار دہائیوں سے ایک معمول بن چکی ہیں لیکن جس طرح افغانستان کے داخلی حالات سے خطے کا امن متاثر ہو رہا ہے اور جس انداز میں پاکستان کی جانب انگلیاں اُٹھائی جا رہی ہیں! پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت ’کور کمانڈرز کانفرنس‘ میں کابل حملے کے بعد افغانستان کی جانب سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات اور دھمکیوں کا جائزہ لیا گیا اور افغانستان کو باور کرایا گیا ہے کہ ’’وہ پاکستان پر الزام تراشیوں کے بجائے اپنے اندر جھانکے اور مسائل کی نشاندہی کرکے انہیں حل کرے۔‘‘ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اپنے برادر پڑوسی ملک افغانستان کا ہمیشہ سے خیرخواہ رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے اس پڑوسی ملک کے ساتھ ہمیشہ سازگار تعلقات استوار کرنے کی ہی کوشش کی ہے جبکہ تین دہائیاں قبل پاکستان پر پڑنے والا لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ آج تک اس نے مسلم بردرہڈ کے جذبہ کی بنیاد پر ہی اٹھا رکھا ہے اور یہ تلخ حقیقت ہے کہ افغان مہاجرین کی وجہ سے ہی پاکستان مسائل کی آماجگاہ بنا ہے جنہوں نے پاکستان کا امن و امان بھی خراب کیا اور یہاں کلاشنکوف کلچر اور ہیروئن مافیا کو فروغ دیا جبکہ انتہاء پسندوں کے مہاجرین کے ساتھ خاندانی روابط ہونے کے باعث پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا۔ اسی طرح امریکی نائن الیون کے بعد جب امریکی نیٹو فورسز نے افغان سرزمین پر دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ شروع کی تو پاکستان نے افغانستان میں امن و امان کی بحالی کے لئے ہر علاقائی اور عالمی فورم پر آواز اٹھائی اور افغانستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

اس کے برعکس افغانستان کی سابقہ کرزئی حکومت کی جانب سے بھی پاکستان کے ساتھ ہمیشہ دشمن ملک جیسا رویہ اختیار کیا گیا اور بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان سے امریکی لب و لہجے میں ’’ڈومور‘‘ کے تقاضے کئے جاتے رہے۔ حد تو یہ ہے کہ کرزئی نیٹو افواج کو پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لئے بھی اکساتے رہے جبکہ ان کے دور میں پاک افغان سرحد پر افغانستان کے اندر سے سینکڑوں کی تعداد میں عسکریت پسند پاکستان میں داخل ہو کر اس کی چیک پوسٹوں اور ملحقہ سول آبادیوں پر حملہ آور ہوتے رہے۔ اشرف غنی کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کے ساتھ دوستانہ سازگار مراسم استوار ہونے کی توقع پیدا ہوئی تھی جس کے لئے اشرف غنی کے اسلام آباد اور جی ایچ کیو کے دورے سے حوصلہ افزاء فضا پیدا ہوتی نظر آئی مگر افغان صدر نے یکایک پلٹا کھاتے ہوئے پاکستان کے بارے میں اپنے پیشرو کرزئی جیسا لب و لہجہ اختیار کرلیا جس کے لئے یقیناًان کے دورۂ بھارت نے کام دکھایا تھا جہاں پاکستان دشمن مودی سرکار نے انہیں پاکستان اور گوادر پورٹ کے خلاف مختلف ترغیبات دیں اور ان کے ساتھ اقتصادی دفاعی تعاون کے متعدد معاہدے کرکے کرزئی ہی کی طرح انہیں بھی اپنے کیمپ میں شامل کرلیا۔

وہ دن اور آج کا دن‘ کابل انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے لئے کبھی کلمۂ خیر ادا نہیں کیا گیا بلکہ ڈیورنڈ لائن پر بلاوجہ کے تنازعات کھڑے کرکے پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی کا آغاز کردیا گیا جو آج انتہاء درجے کو پہنچ چکی ہے۔ پاکستان نے تو ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس سے اقوام متحدہ تک ہر علاقائی اور عالمی فورم پر افغانستان میں قیام امن کے لئے ہی آواز اٹھائی اور کابل انتظامیہ کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمہ کی مشترکہ حکمت عملی پر بھی آمادگی کا اظہار کیا جاتا رہا مگر بدقسمتی سے کابل انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ ہمیشہ تلخ لب و لہجے میں بات کی گئی اور یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے اگر پاکستان اور افغانستان کوئی مشترکہ حکمت عملی طے کرلیں تو دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے یہ دونوں ممالک ہی کافی ہیں جنہیں اس مقصد کے لئے کسی بیرونی معاونت کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی‘ کیونکہ ان دونوں ممالک کی ایجنسیاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے باہمی رابطوں سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اس لئے باہمی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ہر ٹھکانے پر نتیجہ خیز آپریشن ممکن ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے پاک افواج کے آپریشن ردالفساد کے دوران افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو بمباری کے ذریعہ تباہ کرنے کی عملی مثال بھی موجود ہے اس لئے کابل انتظامیہ فی الواقع دہشت گردی کا خاتمہ اور افغان سرزمین کو امن و آشتی کا گہوارا بنانا چاہے تو پاکستان کے تعاون سے وہ اس معاملہ میں سو فیصد کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔

پاکستان نے جب گزشتہ ماہ افغان سکیورٹی فورسز کی شرانگیزیوں کا ٹھوس جواب دیا تو افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے خود اعتراف کیا کہ ہم سرحدوں پر پاکستان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ اس کے باوجود کابل انتظامیہ کی جانب سے دانستہ طور پر سرحدی کشیدگی بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے اور پاکستان کو بھارتی لب و لہجے میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں تو ہماری سکیورٹی فورسز کوئی چوڑیاں پہن کر تو نہیں بیٹھی ہوئیں۔ اگر آج ہماری سکیورٹی فورسز بھارتی جارحانہ عزائم بھرپور جوابی کاروائی کرکے ناکام بنا رہی ہیں تو افغانستان بھی اپنے آپے میں رہے اور پاکستان کے ساتھ دشمنی مول لینے کی روش ترک کردے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: افتخار احمد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)