بریکنگ نیوز
Home / کالم / ہم کیا کھا رہے ہیں؟

ہم کیا کھا رہے ہیں؟

انسان کے ساتھ کچھ ضروریات اس طرح سے چپکی ہوئی ہیں کہ ان سے چھٹکارہ ممکن ہی نہیں۔خوراک ان میں اولین ضرورت کے طور پر لی جاتی ہے اس لئے کہ کھائے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں اسی طرح پانی بھی ایک ایسی ضرورت ہے کہ جس کے بغیر زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔اور ان ہی ضرورتوں کو نظر میں رکھتے ہوئے انسانوں نے انسانوں کے استحصال کے نت نئے طریقے ڈھونڈے ہوئے ہیں۔ آبادی کا ایک حصہ وہ ہے کہ جس کو جو ملا کھا لیا اور جہاں سے پانی ملا پی لیا۔پانی اگر جوہڑوں کا ہے تو بھی چلتا ہے اور اگر ایسے تالابوں کا ہے کہ جس میں مویشی بھی پانی پی رہے ہیں اور انسان بھی اُسی تالاب سے اپنی پیاس بجھا رہے ہیں تو بھی کوئی بات نہیں اس لئے کہ یہ قدرتی عطیہ ہے۔ اس کے ساتھ انسانوں نے اپنے لئے پانی کی صفائی کو بھی اولیت دی ہے اور اس میں اپنے لئے طرح طرح کے مشروبات تیار کر لئے ہیں ۔ اب یہ کمپنیاں جو ہمیں یہ مشروبات بھیجتی ہیں ان کے متعلق کبھی کسی نے تحقیق کی کوشش نہیں کی کہ یہ ہمیں کیا پلا رہے ہیں۔ ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ یہ حکومتی کارندوں کی غفلت ہے یا یہ لوگ ان کی پہنچ سے بالا ہیں یا ان سے اتنا ’’ ٹیکس‘‘ وصول ہوتا ہے کہ جس سے ’’حکو مت ‘‘ کا کاروبار چلتا ہے مگر کبھی کبھی کوئی غیر حکومتی سروے سامنے آ جاتا ہے کہ یہ فیکٹریاں ہماری صحت کے ساتھ کیسے کھلواڑ کر رہی ہیں کچھ دن پہلے ایک بی بی کو حکومت نے کھانا کھلانے والے اداروں کی چیکنگ کے لئے تفویض کیا اور ان اللہ کی بندی نے بہت سے بڑے ہوٹلوں اور ریسٹورانوں کا کچا چٹھا کھول کر ان کو سیل کیا مگر پھر حکومت کی انا سامنے آ کر کھڑی ہو گئی اور پھر کچھ معاملہ ٹھنڈا ہوتا نظر آیا۔

تاہم اب بھی کچھ چھاپے وغیرہ پڑ رہے ہیں اور کچھ کارخانوں کو سیل وغیر ہ کیا جا رہا ہے۔دیہاتیوں کی تو بات ہی الگ ہے اس لئے حکومتوں کو نہ اُن کے کھانے کی فکر ہے اور نہ پینے کی ہاں البتہ شہروں اور دار الحکومتوں میں صاف پانی کے کارخانے لگائے گئے ہیں جن سے پانی بوتلوں میں بند ہو کر پہنچایا جاتا ہے۔اور ہم چونکہ پاکستانی ہیں اور پانی بوتلوں میں بند کرکے بھیجنے والے بھی پاکستانی ہیں اس لئے انہوں نے تھر اور اسلام آباد میں پینے والے پانی کو ایک کرنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے اس لئے بند بوتلوں میں بھی یہی جوہڑوں کا پانی پیش کیا جا رہا ہے مگر پوچھے کون ؟ سارے ہی اس پانی کو اسی طرح شوق و ذوق سے پی رہے ہیں جیسے تھر وغیرہ کے لوگ جوہڑوں کا پانی پی رہے ہیں ۔دوسرے لفظوں میں یہاں محمود و ایاز میں کوئی تمیز نہیں ہے۔ خوراک کا ایک معاملہ تو ہوٹلوں اور ریستورانوں کا تھا جس کا ذکر ہو گیا ہے اور ایک اور معاملہ یہ ہے کہ بسکٹ ہماری زندگی میں گندم سے بھی زیادہ اہم ہو گئے ہوئے ہیں۔ ہمارے بچے چاہے سکول جائیں یا گھر پر ہوں ان کے لئے بسکٹ ایک اہم غذا کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

تو ان بسکٹوں کے لئے ایک ایسا کارخانہ ہے جو انڈوں کو پوڈر میں تبدیل کرتا ہے اور یہ پوڈر بسکٹوں کے کارخانے اپنے بسکٹوں میں استعمال کرتے ہیں۔ان بسکٹوں میں استعمال ہونے والے انڈوں کا کسی نے کبھی جائزہ نہیں لیا کہ یہ کیسے ہوتے ہیں۔عام شکایت یہی ہے کہ بیکریوں میں جو انڈے کیکوں اور بسکٹوں میں استعما ل کئے جاتے ہیں وہ عموماً گندے ہوتے ہیں۔ ا ب معلوم ہوا کہ جو انڈے بسکٹوں کے لئے پوڈر بنانے والے کارخانے استعمال کرتے ہیں وہ بھی گندے ہوتے ہیں۔اس کے لئے حال ہی میں ایک کارخانے پر چھاپا مارا گیا تو وہاں سے کروڑوں روپے کی مالیت کے گندے انڈے پکڑے گئے۔ سنا ہے کہ اس کاروبار میں بڑا حصہ ایک بڑی شخصیت کا ہے۔ اور اگر ایسا ہے تو چھاپہ مار ٹیم کی خیر نہیں۔