بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاسی منظر نامے کے جدید ترین پہلو

سیاسی منظر نامے کے جدید ترین پہلو


ایک مشہور روایت ہے کہ جب کوئی بحری جہاز ڈوبنے لگتا ہے تو سب سے پہلے جہاز کے عرشے پر موجود چوہوں کی چھٹی حس انہیں بتا دیتی ہے کہ جہاز ڈوبنے والا ہے چنانچہ جہاز پر موجود دیگر مسافروں سے پیشتر ہی وہ جہاز کا عرشہ چھوڑنے لگتے ہیں اب ہم یہ تو وثوق کے ساتھ فی الحال نہیں کہہ سکتے کہ آخر پی پی پی کے ساتھ یہ کیا معاملہ ہو رہا ہے کہ یکے بعد دیگرے گزشتہ کچھ عرصے سے کئی اہم شخصیات اسے داغ مفارقت دے رہی ہیں مثلاً ملک ریاض گئے، بعد میں ڈاکٹر عاشق اعوان نے اس سے منہ موڑا اور اب نذرگوندل بھی اسے خیر اباد کہہ گئے یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہیں پولیٹیکل سائنس کی زبان میں ’Electabe‘ کہا جاتا ہے یعنی اپنے اپنے انتخابی حلقے میں انہوں نے اپنی اپنی ساکھ کچھ اس طرح سے بنا رکھی ہے کہ الیکشن کے دوران یا تو یہ جیت جاتے ہیں اور یا پھر اپنے سیاسی حریف کو ٹف ٹائم دیتے ہیں زرداری صاحب کا اس مشکل کی گھڑی میں پارٹی کے بے یار ومددگار چھوڑ کر بیرون ملک جانا اس پارٹی کے بعض سرکردہ رہنماؤں کو اچھا نہیں لگا رپورٹ ہے کہ وہ دوبئی پہنچتے ہی علیل ہوگئے اور اب شاید یورپ یا امریکہ اپنے علاج کیلئے تشریف لے جائیں اس کے علیٰ الرغم بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ان کی یہ بیماری ڈپلومیٹک بیماری یعنی Diplomatic Illness ہے واقفان حال کا البتہ یہ کہنا ہے کہ وہ سو فیصد تندرست نہیں گولیاں وہ کثرت سے کھا رہے ہیں اور خوراک بھی ان کی پرہیزانہ ہے جن جن دیگر سیاسی پارٹیوں میں دوسری کسی سیاسی پارٹی کے بگھوڑے شامل ہو رہے ہیں۔

وہ خوشیاں نہ منائیں کہ ان بھگوڑوں کا کوئی اعتبار نہیں جو لوگ اپنی اوریجنل سیاسی پارٹی سے وفا نہ کر سکے وہ دوسری سیاسی پارٹی کے بھلا کب تک وفادار رہ سکیں گے جو لوگ نظریاتی پالیٹکس پر ایمان رکھتے ہیں وہ ہر اچھے برے وقت میں اپنی پہلی سیاسی پارٹی کا دامن بالکل نہیں چھوڑتے بھلے وہ اس سے کتنے ہی بدظن کیوں نہ ہوچکے ہوں پی پی پی کے اندر جو نظریاتی قسم کے سیاسی لوگ ہیں وہ اب اگر زندہ ہیں تو وہ ستر یا اسی کے پیٹے میں ہیں ان لوگوں نے اس پارٹی میں1960 کے اواخر میں شمولیت اختیار کی تھی وہ اس پارٹی کی اس قیادت سے ضرور دل برداشتہ ہوئے کہ جو بھٹو کے بعد آئی اور جو اپنے اس منشور سے روگردانی کر گئی کہ جو ڈاکٹر مبشر حسن، جے۔اے۔ رحیم جیسے لوگوں نے کافی سوچ بچار کے بعد زمینی حالات کے مشاہدے کو مدنظر رکھتے مرتب کیا تھا جس منشور میں انقلابی زرعی اصلاحات کا ذکر تھا جس میں عوام سے یہ وعدہ کیاگیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد پی پی پی کا ہر اقدام عوام دوست ہوگا۔نہ کہ خواص دوست، جس میں امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم کرنے کی بات کی گئی تھی جس میں اس ملک کو ایک سوشل ویلفیئر سٹیٹ بنانے کا وعدہ کیاگیاتھا جب یہ سب کچھ پی پی پی کے دور اقتدار میں نہ ہوا اس حقیقت کے باوجود اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھ گئے ان لوگوں کو باہر نکالنا اور ان سے کام لینا اب پی پی پی کی قیادت کاکام ہے جو سردست لگتا ہے کھٹائی میں پڑ گیا ہے اور نہیں ہورہا۔ ادھر مذہبی جماعتیں بھی صف بندی میں مصروف ہیں ان کے رہنما بھی اب سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ اگلے الیکشن میں ان کو کونسی بات ایوان اقتدار میں لے جاسکتی ہے کیا وہ سب علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے سیاسی پلیٹ فارم سے الیکشن لڑیں یا ایک مرتبہ پھر تشکیل دے دیں انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ اتحاد کے ذریعے ان کے اگر مرکز میں نہیں تو کسی صوبے یا صوبوں میں ایوان اقتدار میں دوبارہ آجانے کے امکانات زیادہ ہوسکتے ہیں ایک مرتبہ وہ اقتدار کا چسکا لے چکے ہیں اور جو کوئی بھی ’’چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی‘‘ کا ایک مرتبہ مزہ لے لے تو اس کا ذائقہ دوبارہ لینے کیئے وہ تڑپتا رہتا ہے تاوقتیکہ کہ اس کی طلب پوری نہ ہو اگر کسی آئینی رکاوٹ سے نواز شریف اور عمران خان الیکشن میں حصہ لینے کیلئے نااہل قرار دے دئیے جاتے ہیں۔

تو پاکستانی قوم کے مزاج اور نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اس صورتحال میں ان کی پارٹیوں کو ہمدردی کا ووٹ یعنی Public sympathy کا ووٹ پڑ سکتا ہے بصورت دیگر جمہور کا فیصلہ منقسم ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا اور اسمبلیاں چوں چوں کا مرتبہ بن جائیں گی اور مخلوط حکومتیں اس ملک کا مستقبل بن جائیں گی آج اگر پی پی پی نے اپنا پبلک امیج بہتر کرنے کیلئے پرانے گھاگ قسم کے کٹر جغادری سیاست دانوں سے جان چھڑالی ہوتی جو آج بھی زرداری کے دائیں بائیں کھڑے نظر آتے ہیں تو شاید موجودہ صورتحال میں ایوان اقتدار میں اس کے ’’کم بیک‘‘ (Comeback) کے چانس روشن ہوتے پر بدقسمتی سے ایسا ہوا نہیں پانامہ کیس میں بعض جج صاحبان کے کھلے ریمارکس اور ان پر حکومتی پارٹی کے رہنماؤں کے کھلے ردعمل نے ملک میں پھیلی ہوئی سیاسی بے چینی کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے ویسے کئی پرانے ماہرین قانون کا خیال ہے کہ کسی بھی مقدمے کی کاروائی کے دوران قابل عزت اور محترم جج صاحبان اگر کھلے بندوں کسی مسئلے پر اپنا اظہار خیال نہ ہی کیا کریں تو بہتر ہے ججوں کو صرف اپنے تحریری فیصلوں کے ذریعے بولنا چاہئے۔