بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / رپیڈ بس منصوبہ ریکارڈ وقت میں مکمل کرنیکا عندیہ

رپیڈ بس منصوبہ ریکارڈ وقت میں مکمل کرنیکا عندیہ

پشاور۔ سینئر وزیر بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا وپارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت بلدیات میں 56 منصوبوں کے لیے 69 ارب رکھی گئی ہے ان میں سے 41 جاری منصوبوں کے لیے سات بلین اور 15 نئے منصوبوں کے لیے 41 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ صوبے میں بڑے شہروں میں سالڈ ویسٹ کو ٹھکانے لگانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ پشاو رشہر میں ایل ای ڈی لائٹس کی تنصیب پر 600 ملین خر چ کیے جاچکے ہیں جب کہ ناردرن سیکشن رنگ روڈ کی تعمیر پر سات ارب ، ورسک جمرود کی تعمیر پر12 ارب خرچ کیے جاچکے ہیں ۔ پشاور سمیت مردان ، مینگورہ ، دیر اور صوابی میں نئے اور جدید بس اسٹینڈ کے قیام کے لیے 97 ملین ، رنگ روڈ کے ساتھ سروس روڈ کے قیام کے لیے 912 ملین ،رنگ روڈ پر انٹر چینجز کی تعمیر کے لیے 1500 ملین اور ڈویژنل آ پ لفٹ پروگرام کے لیے چھ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔

پشاور ریپڈ بس منصوبہ پر اگست میں کا م کاآغاز ہو گا اور ریکارڈ 6 ماہ میں مکمل کریں گے ۔ 2001 سے 2013 تک 12 برسوں میں مقامی حکومتوں کو صرف 14 ارب روپے منتقل کیے گئے جب کہ ہمارے بلدیاتی نظام میں 2015 سے 2017 تک دو سالوں میں مقامی حکومتوں کو 48 ارب روپے منتقل کیے گئے جب کہ اس سال بجٹ میں 28 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لیے رکھے گئے ہیں۔ وہ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر میڈیاانچارج محمد اقبال ، جماعت اسلامی کے رہنماء انتخاب خان چمکنی اور پرنسپل سٹاف آفیسر سجاد خان مٹہ بھی سینئر وزیر کے ہمراہ تھے ۔ سینئر وزیر عنایت اللہ خان نے پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ ہری پور اور تیمرگرہ کو بھی پشاور کے طرز پر خوبصورت شہر بنایا جائیگا جس پر 400 ملین خرچ آئے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈویژنل سطح پر ڈبلیو ایس ایس سی کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جس پر چار ارب روپے خرچ ہوں گے جب کہ ملاکنڈ ہل سٹیشن کے لیے پچاس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ریگی ماڈل ٹاؤن پرتیزی سے کا م جاری ہے اور گیس کی فراہمی کے لیے ایک ارب جب کہ سڑکوں کی تعمیر کے لیے ایک ارب روپے فراہم کر دیے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں میونسپل اور رورل روڈ کی تعمیر پر سات ارب روپے خرچ کریں گے ۔سینئر وزیر عنایت اللہ خان نے کہا کہ ٹی ایم ایز کی آمدنی میں اضافہ ایک ارب سے چار ارب روپے تک بڑھ گیا ہے اور پی ڈی اے سابقہ حکومت میں خسارے میں تھا جب کہ اب کروڑوں روپے کے بچت کر کے منافع بخش ادارہ بن گیا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ محکمہ بلدیات میں ای ٹینڈرنگ اور آن لائن ٹینڈرنگ شروع ہو چکی ہے جس سے محلمہ میں شفافیت آئی ہے اور کرپشن کا راستہ روک دیا گیا ہے ۔ سینئر وزیر نے کہا کہ پشاور کی بیوٹیفیکشین پر دس ارب روپے لاگت آئی ہے اور پشاور میں پانچ فلائی اوور کی تعمیر مکمل کر چکے ہیں جب کہ باب پشاور فلائی اوور کی تعمیر چھ ماہ کی قلیل مدت میں کی ہے ۔ پشاور میں مزید فلائی اوور ز تعمیر کیے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پشاور میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن کیا گیا اور 40 کنال قیمتی زمین واگزار کرائی گئی جس کی مالیت 3.20 بلین روپے ہیں گلیات میں تجاوزات کا خاتمہ کیا گیا اور 152 کنال قیمتی اراضی واگزار کرائی گئی جس کی مالیت چھ ارب سات کروڑ روپے بنتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ملاکنڈ میں یورپی یونین کے تعاون سے سی ڈی ایل ڈی پروگرام پر 13 بلین اور یو ایس ایڈ کے تعاون سے پشاور ، ڈی آئی خان ، سوات اور دیر میں میونسپل سروسز پروگرام پر 8 بلین روپے خرچ کیے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک منصوبے پر مختلف معاہدوں کے تحت محکمہ بلدیات کے زیر اہتمام 60 بلین روپے خرچ ہوں گے جس میں سی پیک ٹاور ، سوک سنٹر حیات آباد اور ہیلتھ سٹی ریگی ماڈل ٹاون شامل ہیں ۔