بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / کارکردگی: حاوی حقائق!

کارکردگی: حاوی حقائق!


برسرزمین حقائق کا تقاضا یہ ہے کہ ’انسانی وسائل کی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی‘ جیسی ترجیحات سرفہرست رکھی جائیں خیبرپختونخوا کے بجٹ برائے مالی سال دوہزار سترہ اٹھارہ سے وابستہ توقعات بھلا کیسے پوری ہو سکتی ہیں جبکہ ان جملہ امور کا خاتمہ نہیں کیا گیا‘ جن کے باعث گذشتہ مالی سالوں کے دوران مختص وسائل ضائع ہوتے رہے۔ سفررائیگاں کے عنوان سے نو جون کو ’نئے مالی سال اُور بلدیاتی نظام‘ کے حوالے سے جائزہ پیش کیا گیا‘ تاکہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو اُن کا یہ انتخابی وعدہ یاد دلایا جا سکے کہ ’’قانون ساز اَراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری نہیں کئے جائیں گے اور خیبرپختونخوا میں بلدیاتی نظام کو مضبوط بنایا جائے گا۔‘‘ لیکن اگر ایسا عملاً نہیں ہو پا رہا تو فکروعمل کی اصلاح ضروری ہے خیبرپختونخوا حکومت نے ’شعبۂ تعلیم‘ کے لئے 136 ارب روپے مختص کئے جو گذشتہ مالی سال کے مقابلے ’’پندرہ فیصد‘‘ زیادہ ہیں! قابل ذکر ہے کہ صوبے کی مجموعی ترقیاتی حکمت عملی (اے ڈی پی) کا حجم 208ارب روپے میں سے 9.77 فیصد (بیس اعشاریہ بتیس ارب روپے) پرائمری اور ہائر ایجوکیشن میں ترقیاتی کاموں کیلئے مختص کئے گئے ہیں! سرکاری تعلیمی اداروں کیلئے مالی وسائل مختص کرنے میں فراخدلی کا مظاہرہ کرنے میں موجودہ صوبائی حکومت کا جواب نہیں لیکن کیا اب تک کے تجربات سے ثابت نہیں ہوا کہ محض مالی وسائل پانی کی طرح بہانے ہی سے بہتری نہیں لائی جا سکتی؟ تعلیم کیلئے مختص مالی وسائل کا بڑا حصہ جن تین مدوں میں خرچ ہو رہا ہے انکا تعلق غیرترقیاتی اخراجات سے ہے ملازمین کی تنخواہوں و مراعات اور دیگر اخراجات مختص مالی وسائل کے قریب نوے فیصد کو چھو رہے ہیں!حقیقت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کی تعلیمی پالیسی اور مختص مالی وسائل سے یا تو براہ راست ’برٹش کونسل‘ یا پھر ’برٹس کونسل‘ سے وابستہ رہے ملازمین کو زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ موجودہ حکومت نے خیبرپختونخوا کے تعلیمی ڈھانچے کی بہتری کیلئے جس قدر ذیلی شعبے تخلیق کئے ان میں حیرت انگیز طور پر برٹش کونسل سے سابق اور حاضر سروس ملازمین کی خدمات بھاری تنخواہوں کے عوض حاصل کی گئیں۔

حتیٰ کہ تشہیری مہمات کو ڈیزائن کرنے پر کروڑوں روپے خرچ کرنا کہاں کی دانشمندی ہے!؟ سوال یہ ہے کہ اساتذہ کی تربیت پر ایک ارب سے زائد خرچ کرنے سے کیا نتائج حاصل ہوئے اور نئے مالی سال میں 30کروڑ روپے مزید مختص کرنے سے کیا بہتری آئیگی؟ دوسروں پر تنقید اور بلند بانگ دعوؤں پر مبنی بیانات جاری کرنے سے ایک سیاسی ضرورت تو ’بخوبی پوری‘ ہو رہی ہے لیکن اگر خیبرپختونخوا کے سیاسی فیصلہ ساز کبھی اپنے آپ سے بھی باتیں کریں تو ان کے علم میں اضافہ ہوگا۔سیاسی تجزیہ کار ’محمود جان بابر‘ سے اگر یہ نتیجہ خیال مستعار لیا جائے کہ ’’تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی قیادت نے چیئرمین عمران خان کو ’اَندھیرے میں رکھتے ہوئے‘ ترقی اور تبدیلی کا جو نقشہ اُن کے سامنے پیش کیا ہے‘ وہ سوفیصد حقائق پر مبنی نہیں اور تبدیلی کی گنجائش موجود ہونے کے باوجود اگر بہتری کیلئے عملی کوشش کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو پا رہے توطرزحکمرانی کی اصلاح اِحتساب اور تبدیلی کے نام پر برسراقتدار آنے والوں کو اپنے طرزفکروعمل پر غور کرنا چاہئے کہ ’حائل رکاوٹیں‘ کیا ہیں اور ان سے چھٹکارہ پانے کے لئے کیا تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں لیکن جو ایک بنیادی سوال نہیں اٹھایا جارہا وہ یہ ہے کہ ’’کیا چیئرمین عمران خان کی خیبرپختونخوا کے امور میں دلچسپی اُسی درجے پر فائز ہے جو مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے نتائج کے وقت تھی؟‘‘ تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا سے بناء ’ہیوی ویٹ مئی دوہزارتیرہ کا انتخابی معرکہ اپنے نام کیا لیکن کیا آئندہ بھی ایسا کر پائیگی جبکہ تحریک انصاف کا تنظیمی ڈھانچہ اور کارکنوں کے آپسی اختلافات و تعلقات کم ترین درجے پر ہیں!؟ صوبائی حکومت کی کارکردگی اپنی جگہ لیکن تعلیم‘ صحت اور بلدیاتی نظام کا قبلہ درست کئے بناء ہر سال زیادہ مالی وسائل سے کام لینا اُس وقت تک کارگر ثابت نہیں ہوگا جب تک افسرشاہی‘ کے مرتب کردہ اعدادو شمار کے دھوکے سے بچا نہیں جاتا۔